03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھرسے بھاگ کرنکاح کرنا اورغلطی کی معافی مانگنے والے کو معاف کرکے واسطہ نہ رکھنا
85234جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میری ایک ہی بیٹی ہے جس کی عمر 22 سال ہے۔ تقریباً تین سال ہونے والے ہیں کہ وہ گھر چھوڑ کر چلی گئی ہے۔ وہ ایک لڑکے سے فون پر باتیں کرتی تھی اور وہ لڑکا بھی اس سے باتیں کرتا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ وہ لڑکا ہمارے محلے میں ہی رہتا ہے، لیکن ہماری بیٹی نے ہمیں نہیں بتایا۔ جب ہمیں معلوم ہوا تو ہم نے اپنی بیٹی کو پیار سے منع بھی کیا اور سمجھایا بھی، مگر وہ باز نہیں آئی۔ تنگ آکر اس کے والد نے بیٹی کو ڈانٹا اور کچھ سختی بھی کی، مگر وہ اور ضد پر آگئی اور بدتمیزی کرنے لگی کہ "میں اسی لڑکے سے شادی کروں گی۔" اس نے ہمیں صاف صاف کہہ دیا۔

میرے شوہر بھی ضد پر اڑ گئے کہ "میں اسے اس لڑکے سے شادی نہیں کرنے دوں گا۔" ایک دن ہماری بیٹی موقع دیکھ کر لڑکے کے گھر چلی گئی، جس میں اس لڑکے کی بھی مرضی شامل تھی۔ اس طرح اس لڑکے کے والدین نے دونوں کا نکاح پڑھوا دیا۔ اب ان دونوں کی ایک بیٹی بھی ہوگئی ہے، اور دونوں میاں بیوی خوش ہیں۔

اب میری بیٹی اپنے برے برتاؤ کی معافی مانگ رہی ہے اور اپنے والد کے گھر آنا جانا چاہتی ہے، مگر والد صاحب نے اس کے لیے گھر کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ وہ ایک دو بار آئی بھی، مگر والد نے اسے گھر سے نکال دیا کہ "اب یہاں سے جاؤ۔"مفتی صاحب، سوال یہ ہے کہ

  اگر اولاد سے غلطی ہو جائے تو کیا معافی مانگنے پر معاف کر دینا چاہیے یا نہیں؟ اللہ تعالیٰ بھی تو معافی مانگنے پر معاف کر دیتے ہیں، پھر ہم کیوں نہیں کرتے؟ برائے مہربانی شریعت کے مطابق آپ رہنمائی فرمائیں۔

 میں کیا کروں؟ ایک طرف بیٹی ہے جو واپس آنا چاہتی ہے، اور دوسری طرف والد صاحب ہیں جو غصے میں آجاتے ہیں۔ والد صاحب کہتے ہیں کہ "میں نے اسے معاف کر دیا ہے، مگر اس سے تعلق نہیں رکھنا چاہتا اور نہ ہی اسے گھر آنے کی اجازت دوں گا۔" یہ کیسی معافی ہے، مفتی صاحب؟ معاف کرنے کا مطلب تو یہ ہے کہ سب کچھ بھلا دینا چاہیے۔

براہ کرم دینِ اسلام کی روشنی میں ہمیں اس کا حکم بتائیں۔ کیا مجھے اپنی بیٹی سے ملنے کا حق ہے؟      

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

فطری اعتبار سے شادی ہمیشہ پسند سے ہی ہوتی ہے ،اور اسلام نے بھی اس پسند اور نا پسند کا خیال رکھا ہے۔مرد تو خود ولی ہوتا ہے اور وہ اپنی پسند سے شادی کر لیتا ہے،اوراس مقصد کے لیےشریعت نے اپنے پردے کے قانون میں نرمی لاتے ہوئےنکاح سے پہلے مرد کا اس عورت کو دیکھنے کی بھی اجازت دی  ہے جس سے وہ نکاح کر رہا ہے۔ احادیث میں نہایت صراحت کے ساتھ اس کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے:

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا خطب أحدكم المرأة، فإن استطاع أن ينظر إلى ما يدعوه إلى نكاحها فليفعل»، قال: فخطبت جارية فكنت أتخبأ لها حتى رأيت منها ما دعاني إلى نكاحها وتزوجها فتزوجتها(سنن أبي داود (2/ 229)

اسی طرح اسلام نے لڑکی کی پسند کا بھی لحاظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

«لا تنكح الأيم حتى تستأمر، ولا تنكح البكر حتى تستأذن» قالوا: يا رسول الله، وكيف إذنها؟ قال: «أن تسكت») صحيح البخاري کتاب النکاح  7/ 17ط الشاملۃ)

ثیبہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے اور نہ باکرہ کا بغیر اس کی اجازت کے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! باکرہ کی اجازت کس طرح معلوم ہوسکتی ہے؟ فرمایا کہ اس کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت ہے۔

بلکہ ایک دفعہ حضوراکرم ﷺ کے دور مبارک میں ایک عورت کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر ہوا، اس نے آپﷺ سے عرض کیا تو آپ نے اس کا نکاح فسخ کردیا ۔

عن خنساء بنت خذام الأنصارية: أن أباها زوجها وهي ثيب فكرهت ذلك «فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فرد نكاحها» صحيح البخاري کتاب النکاح (9/ 21)

حضرت خنساء بنت خذام انصاریہ کہتی ہیں کہ میرے والد نے ایک جگہ میرا نکاح کردیا اور میں ثیبہ تھی اور مجھے وہ نکاح منظور نہ تھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے میرا نکاح فسخ کردیا۔

یہ روایات اس بارے میں خوب واضح ہیں کہ عورت کی پسند کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا نکاح کیا جائے،اوراس پر اس حوالے سے جبرنہ کیاجائے۔

تاہم لڑکی کےلیے بھی  گھر سے بھاگ کر اور ولی کی اجازت کے بغیرنکاح  کرنا شریعت اور معاشرے کی نگاہ میں پسندیدہ عمل نہیں ہے،اس لیے کہ شریعت نے جہاں نکاح میں عورت کی پسند اور ناپسند کو ملحوظ رکھا ہے وہاں ساتھ راستہ بھی بتا دیا کہ تمام معاملات اولیاء کے ہاتھوں انجام پذیرہوں، اسلام نے جہاں اس بات کی اجازت دی کہ  ایک مسلمان خاتون کا نکاح بلاتمیز رنگ ونسل، عقل وشکل اور مال وجاہت ہر مسلمان کے ساتھ جائز ہے وہاں اس نے انسانی فطرت کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ پابندی بھی عائد کی ہے کہ اس عقد سے متاثر ہونے والے اہم ترین افراد کی رضامندی کے بغیر بے جوڑ نکاح نہ کیا جائے تاکہ اس عقد کے نتیجے میں تلخیوں، لڑائی جھگڑوں کا طوفان برپا نہ ہوجائے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی ایک حدیث میں تو  ولی کی اجازت کے بغیرکئے نکاح کو باطل تک کہاگیاہے ،اولیاء کی اجازت کے بغیر پسند کی شادی میں نکاح سے پہلے کئی حرام امورکا ارتکاب کیاجاتاہے جیسے بدنظری ، ناجائزاختلاط ،اجنبی کے ساتھ خلوت اوربعض اوقات بدکاری تک بھی نوبت پہنچ جاتی ہے، اس لیے شریعت کی نظر میں ایسانکاح  بالکل پسندیدہ نہیں ہے ،تاہم اگر کسی نے ایسی غلطی کرہی لی ہو تواگرلڑکا لڑکی کا ہم کفؤا(برابریکا) نہ ہوتوراجح قول کے مطابق یہ نکاح سرے سے منعقدہی نہیں ہوتااور  اگرلڑکا اس کے کفؤ(برابری)کا ہوتونکاح توپھر بہرحال منعقدہوجائے گا،اور والدین  کے لیے اب تفریق کرانے  سے بہتر اس کے ساتھ صلح کرناہوگا،کیونکہ جوہونا تھا وہ توہوگیا،اب نہ تو اس کوغیرت کے نام پر قتل کیاجاسکتاہے اورنہ ہی تفریق کی صورت میں  اس کے بہترمستقبل کی ضمانت دی جاسکتی ہے،البتہ ناپسندیدگی اورڈانٹ ڈپٹ کااظہارضرورکیاجائے ،تاکہ اس سے معاشرہ میں بے حیائی پھیلنے کی ترغیب نہ ہو۔

نکاح کی صحت کے تقدیر پر آپ کی بیٹی کا غیر محرم سے بات کرنا، والدین کی بات نہ ماننا، گھر سے بھاگنا اور والدین کی اجازت کے بغیر شادی کرنا یہ بلاشبہ اس کی سنگین غلطیاں ہیں، جس کی وجہ سے اللہ کے حضور اس پر سچی توبہ کرنا لازم ہے اور ان والدین سے بھی معافی مانگنا اس کا فریضہ ہے، جو اس کی پیدائش اور پرورش کا سبب بنے۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ وہ اپنی غلطی پر نادم ہوکر والدین سے معافی مانگ رہی ہے۔ والد کو بھی چاہیے کہ کھلے دل سے اسے معاف کرے، کیونکہ اسلام میں عفو و درگزر اور معافی کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر معاف کرنے اور درگزر کرنے کی فضیلت بیان کی ہے۔ والدین اور اولاد کے تعلق میں خصوصاً شفقت، محبت اور درگزر کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ اگر اولاد سے کوئی غلطی ہو جائے اور وہ اپنی غلطی پر نادم ہو کر معافی مانگے تو والدین کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اسے معاف کر دیں۔ اللہ تعالیٰ خود معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے اور ہمیں بھی عفو و درگزر کا درس دیتا ہے۔ معافی دینے سے دل کی کدورتیں ختم ہوتی ہیں اور تعلقات میں محبت اور سکون پیدا ہوتا ہے۔

اگرچہ والد صاحب نے زبانی طور پر معاف کردیا ہے، مگر تعلق برقرار نہ رکھنا اور بیٹی کو گھر نہ آنے دینا حقیقت میں مکمل معافی کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ دین اسلام میں معافی کا مطلب یہ ہے کہ غلطی کو دل سے بھلا دیا جائے اور تعلقات میں دراڑ نہ آنے دی جائے۔ بیٹی اپنے والدین کے ساتھ تعلق رکھنا چاہتی ہے اور اپنی ماضی کی غلطیوں پر شرمندہ ہے، تو اسے اس حق سے محروم نہ کیا جائے۔

شریعت میں والدہ کا اپنی اولاد سے تعلق قائم رکھنا ایک فطری اور جائز عمل ہے۔ والد صاحب کا اپنے غصے اور ضد کی وجہ سے بیٹی کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہے۔ یہ والدین کے رحم و شفقت اور والد کے عظیم مقام کے منافی ہے۔

لہذا، شریعت کی روشنی میں بہتر اور مسنون طرز عمل یہی ہے کہ والد صاحب بیٹی کو دل سے معاف کریں، اور اسے اپنے گھر آنے دیں تاکہ آپ سب کے تعلقات خوشگوار رہیں اور سب کو اللہ تعالیٰ کی رضا نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ عفو و درگزر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے اور اس کے اجر سے نوازتا ہے۔جبکہ معافی نہ دینے والوں کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں،بعض احادیث میں آتاہے کہ جو لوگوں پررحم نہیں کرتااللہ بھی اس پر حم نہیں کرتااوربعض میں آتاہے کہ ایسا شخص حوضِ کوثرکی فضیلت سے محروم رہے گا۔

حوالہ جات

عن ابی ھریرة رضی  اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :لا تُنْکَحُ الْأَیِّمُ حَتَّی تُسْتَاْمَرَ وَلَا تُنْکَحُ الْبِکْرُ حَتَّی تُسْتَأْذَنَ قَالُوا یَارَسُولَ اللَّہِ وَکَیْفَ اِذْنُھَا قَالَ أَنْ تُسْکُتَ( صحيح البخاري کتاب النکاح  7/ 17ط الشاملۃ)

عَنْ خَنْسَایَ بِنْتِ خِدَامٍ الْأَنْصَارِیَّۃِ أَنَّ أَبَاھَا زَوَّجَھَا وَھِيَ ثَیِّب ُْ‘  فَکَرِھَتْ ذَلِکَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِکَاحَھا (صحيح البخاري کتاب النکاح (9/ 21)

عن عمر رضی اللہ  اللہ عنہ  انہ قال :لَا یُکْرِ ھَنَّ أَحَدُ کُمُ ابْنَتَہُ عَلَی الرَّجُلِ الْقَبِیْحِ فَاِنَّھُنَّ یُحْبِبْنَ مَاتُحِبُّونَ (تاریخ المدینۃ ۲/769)

عن عائشہ عن البنی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال : ایّما امرأۃ نکحت بغیر اذن و لیّھا فنکا حھا باطل، فنکاحھا باطل، فنکاحھا باطل، فان دخل بھا فلھا المھر بما استحلّ من فرجھا، فان اشتجروا فالسّلطان ولّی من لّا ولیّ لہ. (مسند احمد:۴۹۹)

و فی الدر المختار،کتاب النکاح (باب الولی ج:۳،ص:۵۶)

 ویفتیٰ فی غیر الکفو بعدم جوازہ أصلا وھو المختار للفتویٰ لفساد الزمان.

وفی الشامیۃ (۵۷/۳):

قوله ( بعدم جوازه أصلا ) هذه رواية الحسن عن أبي حنيفة وهذا إذا كان لها ولي لم يرض به قبل العقد فلا

يفيد الرضا بعده  بحر ۔۔۔  قوله ( وهو المختار للفتوى ) وقال شمس الأئمة وهذا أقرب إلى الاحتياط كذا في تصحيح العلامة قاسم.

قال اللہ تعالی :

(الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ) آل

عمران/ 134 .وقال تعالى : ( إِنْ تُبْدُوا خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا عَنْ سُوءٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيرًا ) النساء/ 149.وقال سبحانه : ( وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ ) النحل/ 126 .وقال سبحانه : ( وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ) الشورى/ 43 .وقال : ( وَإِنْ تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ) التغابن/ 14 .

وفي السنة عن العفو عن الناس:

روى مسلم (4689) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ( مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ ، وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا ، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ ) .وروى أحمد (21643) عن عُبَادَةَ بْن الصَّامِتِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ( مَا مِنْ رَجُلٍ يُجْرَحُ فِي جَسَدِهِ جِرَاحَةً فَيَتَصَدَّقُ بِهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ مِثْلَ مَا تَصَدَّقَ بِهِ ) صححه الألباني في "الصحيحة" (2273) .وروى أحمد (1584) عن عَبْد الرَّحْمَنِ بْن عَوْفٍ قال : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ( ثَلَاثٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنْ كُنْتُ لَحَالِفًا عَلَيْهِنَّ : لَا يَنْقُصُ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ فَتَصَدَّقُوا ، وَلَا يَعْفُو عَبْدٌ عَنْ مَظْلَمَةٍ يَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا ، وَلَا يَفْتَحُ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ ) صححه الألباني في "صحيح الترغيب" (2462) .وروى أحمد (6255) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : ( ارْحَمُوا تُرْحَمُوا وَاغْفِرُوا يَغْفِرْ اللَّهُ لَكُمْ ) .وصححه الألباني في "صحيح الترغيب" (2465) .ولما خاض مِسطح بن أثاثة فيما خاض فيه من حادثة الإفك ، وأنزل الله براءة عائشة رضي الله عنها ، وكان أبو بكر رضي الله عنه ينفق على مسطح لقرابته وفقره ، قال أبو بكر رضي الله عنه : " وَاللَّهِ لَا أُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ مَا قَالَ" فَأَنْزَلَ اللَّهُ ( وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ) النور/ 22قَالَ أَبُو بَكْرٍ : بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي . فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ وَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَنْزِعُهَا مِنْهُ أَبَدًا " .الحديث رواه البخاري (4381) ومسلم (4974

مسند أحمد مخرجا (31/ 565)

19244 - حدثنا حسين بن محمد، حدثنا سليمان يعني ابن قرم، عن زياد بن علاقة قال: سمعت جريرا يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من لا يرحم لا يرحم، ومن لا يغفر لا يغفر له»

الأدب المفرد مخرجا (ص: 136)

حدثنا حجاج قال: حدثنا شعبة قال: أخبرني عبد الملك قال: سمعت قبيصة بن جابر قال: سمعت عمر، أنه قال: من لا يرحم لا يرحم، ولا يغفر من لا يغفر، ولا يعف عمن لم يعف، ولا يوق من لا يتوق[قال الشيخ الألباني] : حسن.

سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (4/ 665)

حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابن جريج، عن ابن ميناءعن جودان، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "من اعتذر إلى أخيه بمعذرة فلم يقبلها، كان عليه مثل خطيئة صاحب مكس".

وفی حاشية سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (4/ 665)

إسناده ضعيف، ابن جريج -وهو عبد الملك بن عبد العزيز- مدلس وقد عنعن، وجودان هذا قال أبو

حاتم الرازي في "المراسيل" لابنه (69): ليست له صحبة وهو مجهول. سفيان: هو ابن سعيد الثوري.وأخرجه أبو داود في "المراسيل" (521)، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (2709)، وابن قانع في "معجم الصحابة" 1/ 156، وابن حبان في "روضة العقلاء" ص 182 - 183، والطبراني في "الكبير" (2156) من طريق وكيع، بهذا الإسناد.وفي الباب عن جابر عند الطبراني في "الأوسط" (8644)، وفي سنده عبد الله ابن صالح وهو سيئ الحفظ، وإبراهيم بن أعين قال أبو حاتم: ضعيف الحديث منكر الحديث. وأبو عمرو البدي ولم نقف على حاله.وروي عن جابر أيضا عنده برقم (1029) بلفظ: "من اعتذر إليه فلم يقبل لم يرد علي الحوض"، وفي سنده علي بن قتيبة الرفاعي، وهو منكر الحديث يروي أحاديث باطلة.وبنحو هذا اللفظ عن أبي هريرة عند الحاكم في "المستدرك" 4/ 154، وفي سنده سويد بن إبراهيم أبو حاتم وهو ضعيف، وأفحش ابن حبان فيه القول فرماه بالوضع.المكس: دراهم كانت تؤخذ من بائع السلع في الأسواق في الجاهلية، وقال ابن الأثير: المكس: الضريبة التي يأخذها الماكس وهو العشار.

وفی سنن ابن ماجة للقزويني - (ج 2 / ص 172)

عن عكرمة ، عن ابن عباس ، قال : أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال : يا رسول الله ! إن سيدا زوجنى أمته ،وهو يريد أن يفرق بينى وبينها ، قال ، فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر فقال " يا أيها الناس ! ما بال أحدكم يزوج عبده أمته ثم يريد أن يفرق بينهما ؟ إنما الطلاق لمن أخذ بالساق " .

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

 دارالافتاء جامعۃ الرشید

29/ربیع الثانی 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب