| 85260 | نکاح کا بیان | ولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان |
سوال
کیا یہ حدیث درست ہے کہ عورتوں کی شادی کفو ہی میں کریں؟ اگر کوئی لڑکی شادی کرنا چاہتی ہے اور گھر والے راضی نہ ہورہے ہوں تو غلط کون ہے؟وہ بھی اس بنا پر کے تمہارے پاس فی الحال نوکری نہیں،جبکہ لڑکا کماتا ہے،اس معاملے میں لڑکی کو شریعت کیا حکم دیتی ہے؟لڑکی ذہنی طور بہت تنگ ہو گئی ہے،برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یہ بات درست ہے کہ مختلف روایات میں کفو میں رشتہ کرنے کی ترغیب وارد ہے،لیکن ان کا مطلب یہ ہے کہ
لڑکا حسب نسب،مالداری ، دینداری اور پیشے کے لحاظ سے لڑکی کے ہم پلہ ہو،یعنی لڑکی اورلڑکےدونوں کا تعلق معاشرےمیں ہم رتبہ سمجھے جانےوالےخاندانوں سے ہو،لڑکا لڑکی کے مہر اور نان نفقہ کی ادائیگی پر قادر ہو،کردار اور سیرت کے لحاظ سے بھی دونوں ایک جیسے ہوں یعنی یا تو دونوں دین دار ہوں یا دونوں دین دار نہ ہوں،یعنی لڑکے کی جانب سے مذکورہ اشیاء میں برابری کا اعتبار کیا جائے گا کہ لڑکے کی حیثیت ان چیزوں میں لڑکی کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔
لہذا مذکورہ صورت میں اگر لڑکا مذکورہ بالا اشیاء میں لڑکی کی حیثیت کے برابر ہے،یا اس کی حیثیت لڑکی سے زیادہ ہے تو یہ رشتہ کفو میں ہی کہلائے گا،اگرچہ لڑکی بے روزگار ہو،کیونکہ شادی کے بعد بیوی کے مہر اور نان نفقہ کا انتظام شوہر کی ذمہ داری ہوتی ہے،بیوی کے ذمے اپنے اخراجات خود برداشت کرنا لازم نہیں،اس لئے لڑکی کے اولیاء کا محض لڑکی کے بے روزگار ہونے کی بنیاد پر اس کے رشتے میں تاخیر کرنا درست نہیں،کیونکہ جس طرح احادیث میں کفو میں رشتہ کرنے کی ترغیب وارد ہے،اسی طرح حدیث میں اس بات سے ممانعت بھی وارد ہے کہ لڑکی کا ہم پلہ رشتہ مل رہا ہو اور لڑکی کے اولیاء اس کے رشتے میں تاخیر کریں۔
حوالہ جات
"سنن ابن ماجه" (1/ 633):
"عن عائشة، قالت: قال رسولﷲصلى ﷲعليه وسلم: «تخيروا لنطفكم، وانكحوا الأكفاء، وأنكحوا إليهم»".
حسنہ الشیخ ألبانی رحمہ اللہ".
وقال المحقق العلامة شعیب الأرنوؤط:حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث بن عمران الجعفري وقد توبع كما سيأتي. وقد حسنه الحافظ في "التلخيص" 3/ 146، وفي "الفتح" 9/ 125.
وأخرجه ابن أبي حاتم في "العلل" 1/ 403 و 404، وابن حبان في "المجروحين" 1/ 225، وابن عدي في ترجمة الحارث بن عمران من "الكامل" 2/ 614، والدارقطني (3788)، والحاكم 2/ 163، والقضاعي في "مسند الشهاب" (667)، والبيهقي 7/ 133، والخطب البغدادي في "تاريخ بغداد" 1/ 264، وابن الجوزي في "العلل المتناهية" (1009) من طريق الحارث بن عمران الجعفري، وابن أبي الدنيا في "العيال" (130)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 5/ ورقة 241 - 242 من طريق الحكم بن هشام الثقفي، وابن أبي الدنيا (131)، والحاكم 2/ 163، والبيهقي 7/ 133 من طريق عكرمة ابن إبراهيم الأزدي، والدارقطني (3786)، وابن الجوزي في "العلل" (1010) من طريق صالح بن موسى، وأخرجه الدارقطني (3787)، وابن الجوزي (1011) من طريق أبي أمية بن يعلى الثقفي -واسمه إسماعيل-، وابن حبان في "المجروحين" 2/ 286 من طريق محمَّد بن مروان السُّديِّ، ستتهم عن هشام بن عروة، بهذا الإسناد. قلنا: أمثلُ هذه الطرق طريق الحكم بن هشام الثقفي، وبمجموعها يتحسن الحديث".
"المعجم الكبير للطبراني" (1/ 121):
" عن هشام بن عروة، عن أبيه، أن علي بن أبي طالب رضي الله عنه، قال: «يا بني لا تخرجن بناتكم إلا إلى الأكفاء» . قالوا: يا أبانا، ومن الأكفاء؟ قال: «ولد الزبير بن العوام»".
"سنن الترمذي " (1/ 238):
" عن علي بن أبي طالب رضی اللہ عنہ، أن النبي صلى ﷲعليه وسلم قال له: يا علي! ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا آنت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفئا".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
30/ربیع الثانی1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


