| 85257 | روزے کا بیان | نذر،قضاء اور کفارے کے روزوں کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
اگر کوئی شخص رمضان المبارک میں عشاء کے وقت سونے سے پہلے یہ نیت کرے کہ ان شاء اللہ میں کل روزہ رکھوں گا، لیکن سحری کے وقت اس کی آنکھ نہ کھلی اور صبح کے وقت وہ کھانا پینا شروع کر دے تو کیا اس پر کفارہ لازم ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ورتِ مسئولہ میں اگر رات کو روزے کی نیت کر لی تھی (کہ کل میرا روزہ ہے)، تو اس صورت میں صبح صادق ہوتے ہی روزہ شروع ہوگیا تھا۔ اور اس کے بعد جان بوجھ کر بلا کسی عذر کے روزہ توڑنا شرعاً ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے۔ اس کی وجہ سے اس دن کے روزے کی قضا کے ساتھ کفارے کے روزے بھی لازم ہوں گے، جن کی تفصیل یہ ہے کہ مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے جائیں۔ اگر کسی بھی وجہ سے روزہ چھوٹ گیا تو ازسر نو دو ماہ کے روزے رکھنا ہوں گے۔
حوالہ جات
تنویر الأبصار مع الدر المختار:
"(فيصح) أداء (صوم رمضان والنذر المعين والنفل بنية من الليل) فلا تصح قبل الغروب ولا عنده (إلى الضحوة الكبرى لا) بعدها ولا (عندها) اعتباراً لأكثر اليوم."
في صحيح مسلم:
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر رجلاً أفطر في رمضان أن يعتق رقبة أو يصوم شهرين أو يُطعم ستين مسكيناً (باب تغليظ تحريم الجماع في نهار رمضان على الصائم ووجوب الكفارة الكبرى فيه، ج: ٢ ص: 782، رقم: 1111 ط: مطبعة عيسى البابي الحلبي).
وفي الفتاوى الهندية:
إذا أكل متعمداً ما يتغذى به أو يتداوى به يلزمه الكفارة، وهذا إذا أكل مما يؤكل للغذاء أو الدواء، إلخ (النوع الثاني ما يوجب القضاء والكفارة، ج: 1، ص: 205، ط: ماجدية).
وفيها أيضاً:
كفارة الفطر وكفارة الظهار واحدة، وهي عتق رقبة مؤمنة أو كافرة، فإن لم يقدر على العتق فعليه صيام شهرين متتابعين، وإن لم يستطع فعليه إطعام ستين مسكيناً، كل مسكين صاعاً من تمر أو شعير أو نصف صاع من حنطة، إلخ (المتفرقات، ج: 1، ص: 215، ط: ماجدية).
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
1/5/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


