03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کونسے عذر ایسے ہیں جن میں نصف النہار شرعی سے پہلے روزے کی نیت کی جا سکتی ہے؟
85259روزے کا بیاننفلی روزے کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

کونسے عذر ایسے ہیں جن میں نصف النہار شرعی سے پہلے روزے کی نیت کی جا سکتی ہے؟ ان عذروں کی تفصیل سے آگاہ کریں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نفل روزے کی نیت اگرچہ رات سے کرنا بہتر ہے، لیکن شرعاً بغیر کسی عذر کے نصف النہار شرعی سے پہلے بھی نیت کی جا سکتی ہے۔ شریعت نے اس کی اجازت دی ہے، کیونکہ شریعت نفل میں توسع اور سہولت چاہتی ہے۔ ممکن ہے کہ ابتدا میں کوئی عذر ہو یا بغیر کسی عذر کے نشاط نہ ہو، اور پھر نصف النہار شرعی سے پہلے عذر زائل ہو جائے یا نشاط حاصل ہو جائے۔ تو شریعت نے ایسے شخص کو بھی شریعت نےروزے سے محروم نہیں رکھا اور اسے اجازت دی ہے کہ اب نیت کرے۔

دن کی ابتدا میں اعذار مثلاً درج ذیل ہو سکتے ہیں:

  1. مسافر: اگر کوئی شخص سفر میں تھا اور اس نے نصف النہار شرعی سے پہلے اپنے سفر کو ختم کر لیا (یعنی اپنی منزل پر پہنچ گیا)، تو وہ اس وقت روزے کی نیت کر سکتا ہے بشرطیکہ اس نے طلوع فجر کے بعد تک کچھ کھایا پیا نہ ہو۔
  2. بیمار: اگر کوئی شخص بیماری کی وجہ سے روزہ رکھنے کی نیت نہ کر سکا اور نصف النہار شرعی سے پہلے اس کی صحت بحال ہو گئی، تو وہ روزے کی نیت کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس نے طلوع فجر کے بعد کچھ نہ کھایا ہو۔
  3. بے ہوشی : اگر کسی شخص کو بے ہوشی یا غشی تھی اور نصف النہار شرعی سے پہلے ہوش میں آیا، تو وہ بھی روزے کی نیت کر سکتا ہے بشرطیکہ اس نے طلوع فجر کے بعد کچھ کھایا پیا نہ ہو۔

کھانا میسر ہونے کی امید:  اگر کسی کو کھانا میسر ہونے کی امید تھی اور پھر کھانا نہ مل سکا، جس کی وجہ سے اسے روزے کی نیت کی ضرورت پڑی کہ خواہ مخواہ بھوکا رہنے سے روزہ رکھنا بہتر ہے، تو ایسے شخص کو بھی شریعت نے روزہ رکھنے کی اجازت دی ہے۔

حوالہ جات

الآثار المروية في الأطعمة السرية لابن بشكوال (ص: 195):

عن عائشة قالت: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: هل عندكم شيء؟ فقلت: لا، قال: فإني صائم، قالت: ثم مر بي بعد ذلك اليوم وقد أهدي لنا خيس بالأمس وقد خبأت له منه وكان يحب الخيس، قالت: يا رسول الله إنه أهدي لنا خيس فخبأت لك منه، قال: أدنيه أما إني أصبحت وأنا صائم فأكل منه.

عن ابن عباس رضی اللہ عنہماأَنَّهُ کَانَ یُصْبِحُ حَتَّی یُظْهِرَ ثُمَّ یَقُولُ وَاللَّهِ لَقَدْ أَصْبَحْتُ وَمَا أُرِیدُ الصَّوْمَ وَمَا أَکَلْتُ مِنْ طَعَامٍ وَلَا شَرَابٍ مُنْذُ الْیَوْمِ وَلَأَصُومَنَّ یَوْمِی هَذَا۔ (فتح الباری، ج:۴ ،ص:۱۴۱ )

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 377):

(فيصح) أداء (صوم رمضان والنذر المعين والنفل بنية من الليل)، فلا تصح قبل الغروب ولا عنده (إلى الضحوة الكبرى، لا) بعدها، ولا (عندها)، اعتباراً لأكثر اليوم''۔

اللباب في شرح الكتاب (1/ 162):

(فيجوز صومه بنية من الليل) وهو الأفضل؛ فلا تصح قبل الغروب ولا عنده (فإن لم ينو حتى أصبح أجزأته النية ما بينه) : أي الفجر (وبين الزوال) وفي الجامع الصغير: قبل نصف النهار، وهو الأصح، لأنه لابد من وجود النية في أكثر النهار؛ ونصفه من وقت طلوع الفجر إلى وقت الضحوة الكبرى، فيشترط النية قبلها، لتحقق في الأكثر؛ ولا فرق بين المسافر والمقيم، خلافاً لزفر. هداية.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

1/5/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب