03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حرام مال سے خریدے گئے مکان حکم
85281جائز و ناجائزامور کا بیانرشوت کا بیان

سوال

اسی رقم(رشوت) سے میں نے مبلغ66 لاکھ کامکان خریداہے،جس میں رہائش پذیرہوں،اگریہ رقم جائزنہیں تواس کاکیاحکم ہے؟جس کاآدھاحصہ میرے پاس ہے اورآدھاکرایہ پردیاہواہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حرام مال سےخریدے ہوئے مکان کااستعمال اوراس سے کرایہ کی صورت میں فائدہ حاصل کرناجائزنہیں،البتہ اگر یہ رقم اصل مالکان کواورعلم نہ ہونے کی صورت میں ورثہ پرصدقہ کردی جائے تو اس مکان سے فائدہ اٹھاناجائز ہوجائےگا،واضح رہے کہ اگرایک ساتھ اتنی رقم دینامشکل ہوتوصدق دل سے اتنی رقم دینے کا پختہ ارادہ کرلے تب بھی اس مکان سے فائدہ اٹھاناجائزہوجائےگا۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع للكاساني (ج 9 / ص 455):

وعلى هذا يخرج ما إذا غصب الفافاشترى جارية فباعها بالفين ثم اشترى بالالفين جارية فباعها بثلاثةآلاف، انه يتصدق بجميع الربح في قولهما، وعند أبى يوسف رحمه الله لايلزمه التصدق بشئ لانه ربح مضمون مملوك ،لانه عند أداء الضمان يملكه مستندا إلى وقت الغصب، ومجرد الضمان يكفى للطيب، فكيف إذا اجتمع الضمان والملك؟ وهما يقولان: الطيب كما لا يثبت بدون الضمان لا يثبت بدون الملك من طريق الاولى وفى هذا الملك شبهة العدم على ما بينا فيما تقدم فلا يفيد الطيب۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

    ۱/جمادی الاولی ۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب