| 85330 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
خلع کی کارروائی کے دوران مستند مسلم علماء کا کیا فیصلہ ہوگا اگر شوہر یہ ثابت کر دے کہ اس کی بیوی نے غیر ملکی پاسپورٹ حاصل کرنے کے ارادے کو چھپایا اور اس مقصد کے لیے کرپٹ پولیس کانسٹیبلوں کی مدد سے غیر مسلم ملکی قانون کا استعمال کیا؟ خاص واقعے کے دو سال بعد اپنے ہی شوہر پر زبردستی عصمت دری/جنسی حملہ (مغربی ملک کی فوجداری اصطلاح/کوڈ 271) کا الزام لگانا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جواب نمبر ایک میں جیسے گزر چکا کہ خلع دینے کا اختیار صرف شوہر کو ہے، مسلم یا غیر مسلم ملک کے کسی قاضی یا قانونی ادارہ یا غیر مسلم ملک میں مسلمانوں کی جماعت کو اس کا اختیار نہیں ہے کہ وہ خلع کی ڈگری جاری کرے۔ ہاں مخصوص صورتوں میں مخصوص شرائط کے ساتھ مسلمان قاضی یا غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کی جماعت (جب مسلم قاضی میسر نہ ہو) کو بیوی کے مطالبہ پر نکاح فسخ کرنے کا اختیار ہے، لیکن بیوی کی طرف سے شوہر پر زنا بالجبر کے الزام کی وجہ سے کسی صورت فسخ نکاح جائز اور معتبر نہیں ہے۔
واضح رہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے نکاح ایک سنجیدہ ، بامقصداورسنت عمل ہےجس کا مقصد عفت، پاکیزگی، اور سکون کا حصول ہے ، اس کا مقصد صرف دنیاوی فوائد کاحصول نہیں ۔
لہذا صرف غیرملکی پاسپورٹ حاصل کرنے یا کسی دوسرے دنیاوی مقصد کے لیے نکاح کرنا شرعاًپسندیدہ عمل نہیں ہے ،تاہم اگر اس نکاح میں تمام شرعی تقاضے پورے کئے جائیں ہوں جیسے دوگواہوں کی موجودگی، ایجاب و قبول،مہروغیرہ تو یہ نکاح صحیح شمار ہوتاہے، چاہے اس کے ساتھ دنیاوی فائدہ بھی مقصود ہو۔
حوالہ جات
المعجم الكبير للطبراني (17/ 179) :
عن عصمة قال: جاء مملوك إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، إن مولاي زوجني وهو يريد
أن يفرق بيني وبين امرأتي، قال: فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر فقال: «يا أيها الناس، إنما الطلاق بيد من أخذ الساق»
في الحيلۃ الناجزۃ جاء:
"وأما في حال عدم وجود حاكم مسلم أو عدم إمكانية عرض القضية في محكمة الحاكم المسلم وفقاً للقانون، أو إذا كان الحاكم المسلم لا يحكم وفق القواعد الشرعية، ففي هذه الحالة، وفقاً للفقه الحنفي، ليس هناك سبيل لتفريق المرأة عن زوجها دون طلاق الزوج أو خلع ونحوه، ويجب عليها بقدر الإمكان السعي للحصول على الخلع أو ما شابه ذلك.
ولكن إذا لم يقبل الزوج الخلع بأي حال، أو إذا كان ذلك غير ممكن بسبب جنون الزوج أو فقدانه، ولا تستطيع المرأة الصبر، ففي هذه الحالة يمكنها اللجوء، مجبرةً، إلى مذهب المالكية، حيث يمكن عرض القضية على مجلس من المسلمين المتدينين، لأن مذهب المالكية يجيز، في حال عدم وجود قاضٍ، أن يتولى جماعة من المسلمين المتدينين في الحي، ويكون عددهم على الأقل ثلاثة، التحقيق في الواقعة وإصدار حكم موافق للشريعة، فيكون حكمهم بمثابة قضاء القاضي."(ص: 51، ط: إمارة شرعية)
الزنا هو الوطء في فرج المرأة العاري عن نكاح أو ملك أو شبهتهما ويتجاوز الختان الختان هذا هو الزنا الموجب للحد وما سواه ليس بزنا۔ ( الجوهرة النيرۃ، کتاب الحدود، ج:2، ص:147)
السنن الكبرى للبيهقي (7/ 477)
عن أبيه طلق بن علي رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: " إذا الرجل دعا زوجته لحاجته فلتجبه وإن كانت على التنور "
قال اللہ تعالی :
خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجاً لِّتَسْکُنُوْا إِلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً ‘‘۔ (الروم:۲۱)
’’من أحب فطرتی فلیستن بسنتی ومن سنتی النکاح ‘‘۔(مجمع الزوائد،ج:۴، ص: )
بداية المبتدي (ص: 58)
النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي ..... ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول.
الدر المختار للحصفكي (ج 3 / ص 58):
(ولكن لا يبطل) النكاح (بالشرط الفاسد و) إنما (يبطل الشرط دونه) يعني لو عقد مع شرط فاسد لم يبطل النكاح.
مسند أحمد مخرجا (15/ 319)
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم: " تنكح النساء لأربع: لمالها، وجمالها، وحسبها، ودينها،
فاظفر بذات الدين تربت يداك ".
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
13/8/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


