03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دوران اسمبلی تلاوت کے وقت ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کا حکم
85303جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

   ہمارے یہاں یہ رواج پایا جاتا ہے کہ اسکول اسمبلی کے دوران جب قرآنِ پاک کی تلاوت ہو رہی ہوتی ہے تو طلبہ نماز کی طرح ہاتھ باندھ لیتے ہیں۔ اسی طرح جب میت کی تدفین کے بعد قبر پر تلاوت کی جاتی ہے، تو اس موقع پر بھی ہاتھ باندھنے کا عمل دیکھا جاتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں مواقع پر تلاوت کے دوران اس طرح ہاتھ باندھنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ نیز یہ بھی بتائے گا کہ تلاوت قرآن مجید کے دوران اس طرح سامعین کے ہاتھ باندھنے کا کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ تلاوتِ قرآنِ مجید کے وقت بہتر طریقہ یہ ہے کہ وضو کی حالت میں،  دو زانو بیٹھ کر، قبلہ کی طرف رُخ کرکے قرآنِ مجید کی تلاوت کی جائے۔ البتہ اگر کوئی کھڑے ہوکر ناف کے اوپر یا نیچے ہاتھ باندھ کر تلاوت کرے تو اس طریقے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ اس کو سنتِ مستحب یا لازم نہ سمجھا جائے۔ پھر بھی ہاتھ چھوڑ کر کھڑا ہونا بہتر ہے۔تلا وتِ قرآن سننے والے کے لیے بھی کوئی خاص ہیئت شرعاً مقرر نہیں ہے۔ اصل مقصد ادب اور توجہ کے ساتھ تلاوت کو سننا ہے،  اس لیے قرآن پڑھنے والے کی طرف متوجہ ہو کر ادب و احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی بھی مناسب طریقے سے بیٹھا یا کھڑا ہوا جا سکتا ہے، البتہ ایسی ہیئت سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے طبیعت میں سستی پیدا ہو یا نیند آنے لگے۔

حوالہ جات

الموسوعة الفقهية الكويتية: (35/33)

ويستحب للقارئ في غير الصلاة أن يستقبل القبلة، ويجلس متخشعا بسكينة ووقار مطرقا رأسه، ويكون جلوسه وحده في تحسين أدبه وخضوعه كجلوسه بين يدي معلمه، فهذا هو الأكمل، ولو قرأ قائما أو مضطجعا أو في فراشه أو على غير ذلك من الأحوال جاز وله أجر، ولكن دون الأول.

مفاتيح للتعامل مع القرآن ‌‌من آداب تلاوة القرآن: (ص: 41)

اختيار الجلسة المناسبة والحالة الخاصة والهيئة الصالحة لأن يتلقى عن الله .. وهى التى تتجلى فيها عبوديته لله، ويبرز فيها تذلّله وخضوعه، وأفضل الجلسات لمريد التلاوة: أن ‌يستقبل القبلة جالسا جلسة التشهد للصلاة وهى أظهر الجلسات عبودية.

    محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

2 ٖجماد الاولی1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب