03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا ملازم کے جی پی فنڈ سے حکومت کی کاٹی گئی رقم کو معجل زکوٰۃ سمجھا جا سکتا ہے؟
85323زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میں ایک اسکول ٹیچر ہوں اور سیکنڈ ٹائم میں میڈیکل اسٹور چلاتا ہوں۔ میرا معمول ہے کہ یکم رمضان کو اپنے نصاب کے مطابق باقاعدہ زکوٰۃ ادا کرتا ہوں۔ لیکن اب حال ہی میں (ربیع الثانی کے مہینے میں) میں نے حکومت کے خزانے سے اپنا 13,00,000 (تیرہ لاکھ) کا جی پی فنڈ نکالا ہے جس پر حکومت نے ٪2.5 کے حساب سے زکوٰۃ کاٹی ہے، جو کہ حکومت کی طرف سے قانون کے مطابق پہلی دفعہ "ریفنڈ ایبل نان جی پی فنڈ" نکالنے پر کاٹی جاتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ

 کیا اگلے یکم رمضان کو اس رقم پر دوبارہ زکوٰۃ ادا کروں گا؟ یا حکومت کی طرف سے کاٹی گئی زکوٰۃ کو اداء معجل سمجھ کر صرف اپنی سابقہ نصاب پر زکوٰۃ ادا کروں گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جی پی فنڈ ملازم کے قبضے میں دینے سے پہلے حکومت نے زکوٰۃ کے نام پر جو رقم کاٹی ہے، وہ زکوٰۃ میں شمار نہیں ہو سکتی، کیونکہ ملازم جی پی فنڈ وصول کرنے سے پہلے اس کا مالک نہیں ہوتا، بلکہ حکومت کے ذمہ اس کا یہ ایک واجب الادا حق ہوتا ہےجس پرزکوة واجب نہیں۔ لہٰذا مسئولہ صورت میں حکومت نے زکوٰۃ کے نام پر جو رقم آپ کے فنڈ سے کاٹی ہے، اسے آپ معجل زکوٰۃ نہیں سمجھ سکتے۔ لہٰذا یکم رمضان کو دیگر اموال کے ساتھ آپ کو اس فنڈ کی رقم ملا کر ایک سال کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔

البتہ جو پراویڈنٹ فنڈ جبری نہ ہو اور ملازم نے اپنے اختیارات سے اس کے لیے رقم کٹوائی ہو، اس کے معاملے میں چونکہ علماء فرماتے ہیں کہ احتیاط اس میں ہے کہ رقم وصول ہونے پر سالہائے گزشتہ کی زکوٰة ادا کر دی جائے، تو اس لیے اگر آپ کا پراویڈنٹ فنڈ اختیاری تھا تو گزشتہ سالوں کی زکوٰة کی ادائیگی میں آپ اس کاٹی گئی رقم کو محسوب کر سکتے ہیں، اور جتنی زکوٰة رہ جائے، اسے الگ سے ادا کر دیں۔

حوالہ جات

وفی" الدر المختار"(۳/۱۷۴، ط):

وسببہ أي سبب افترضها لملک نصاب حَوْلي.................................................. تام إلخ

 الہندیۃ: (175/1، ط: دار الفکر):

وأما سائر الديون المقر بها فهي على ثلاث مراتب عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ضعيف، وهو كل دين

ملكه بغير فعله لا بدلا عن شيء نحو الميراث أو بفعله لا بدلا عن شيء كالوصية أو بفعله بدلا عما ليس بمال كالمهر وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدية وبدل الكتابة لا زكاة فيه عنده حتى يقبض نصابا ويحول عليه الحول. ووسط، وهو ما يجب بدلا عن مال ليس للتجارة كعبيد الخدمة وثياب البذلة إذا قبض مائتين زكى لما مضى في رواية الأصل وقوي، وهو ما يجب بدلا عن سلع التجارة إذا قبض أربعين زكى لما مضى كذا في الزاهدي.

وفیہ ٲیضاً:

وعند قبض مائتین مع حولان الحول بعدہ أی بعد القبض من دین ضعیف وہو بدل غیر مال کمہر ودیۃ وبدل کتابۃ وخلع إلا إذا کان عندہ یضم إلی الدین الضعیف ۔’’ الدر المختار‘‘۔ قال الشامی : الحاصل أنہ إذا قبض منہ شیئاً وعندہ نصاب یضم المقبوض إلی النصاب ویزکیہ بحولہ ، ولا یشترط لہ حول بعض القبض ۔ (۳/۲۱۹، کتاب الزکوۃ، مطلب فی وجوب الزکوۃ فی دین المرصد)

في ’’ الفتاوی التاتارخانیۃ ‘‘ : لأن الوکیل في حق الحقوق بمنزلۃ المالک .

وفی فتاوی عثمانی(2/29):

جواب:۔اس بارے میں اہل علم کی تحقیقی یہ ہے کہ پراویڈنٹ فنڈ کی رقم جب تک ملازم کو وصول نہ ہوجائے اس وقت تک اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی اور رقم وصول ہونے کے بعد بھی گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی ، ایسی رقم پر زکوٰۃ کا وجوب اس وقت شروع ہوتا ہے جس وقت سے وہ رقم وصول ہوئی ہے ، البتہ جو پراویڈنٹ فنڈ جبری نہ ہو ، اور ملازم نے اپنے اختیارات سے اس کے لئے رقم کٹوائی ہو اس کے معاملے میں احتیاط اسی میں ہے کہ رقم وصول ہونے پر سالہائے گزشتہ کی زکوٰۃ اد اکردی جائے ۔مختصرا اس کی وجہ یہ ہے کہ فقہائے نے دَین کی جو تین قسمیں قوی ، متوسط اور ضعیف قراردی ہیں ۔ پراویڈنٹ فنڈکی رقم ان میں سے دَین ضعیف ہی میں داخل ہوسکتی ہے ، اور دَین ضعیف پرگزشتہ سالوں کی زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی ، اس مسئلے کی مکمل تحقیق حضرات مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مدظلہم نے امداد الفتاویٰ ،جلد سوم ، ص:۶۴۸تا ۶۵۰ مطبوعہ کراچی میں لکھ دی ہے،اور حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے اس کی تصدیق فرماکر اپنے سابقہ فتویٰ سے رجوع فرمایا ہے ۔

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

7/5/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب