| 85387 | پاکی کے مسائل | حیض،نفاس اور استحاضہ کا بیان |
سوال
اگرعورت ایام حیض سے پہلے طہرگزرجانے کے بعدخون دیکھے،لیکن خون تھوڑاساہی دیکھاہے،پھراس نے تین دن تک خون نہیں دیکھا اورپھرچوتھے دن دوبارہ خون دیکھا اوراس کے ایام حیض کی تاریخ بھی آچکی تھی توکیاجواس نے تین دن پہلے خون دیکھاہے تویہ ماہواری میں شامل ہوگا؟اوران تین ایام کی نمازوں کاحکم کیاہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگرپاکی کے کم ازکم پندرہ دن گزرنے کے بعدخون کادھبہ نظرآئے تواس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر ماہواری کےایام اور اس سے پہلے جس دن خون نظرآیا یہ تمام ایام ملا کر دس دن سے زائد بن جاتے ہیں، تو ایسی صورت میں اس عورت کے سابقہ ماہواریوں کی عادت والے ایام ماہوا ری کے شمار ہوں گے، اور پہلے تین دن استحاضہ کے شمار ہوں گے، اور استحاضہ کے ان تین ایام کی نمازلازم ہے اوراگر ماہواری کے عادت والے ایام اور اس سے پہلے جس دن خون نظرآیاان سب کامجموعہ دس دن نہیں بنتا، بلکہ دس دن مکمل ہونے پر یا اس سے پہلے ماہواری ختم ہوجاتی ہے تو ایسی صورت میں ماہواری کی عادت تبدیل ہوگئی ہے، اور پہلے تین دن بھی ماہواری کے شمار ہوں گے اورنمازوغیرہ معاف ہوں گی۔
حوالہ جات
فی الفتاوى الهندية (ج 2 / ص 69):
فإن رأت بين طهرين تامين دما لا على عادتها بالزيادة أو النقصان أو بالتقدم والتأخر أو بهما معا انتقلت العادة إلى أيام دمها حقيقيا كان الدم أو حكميا ،هذا إذا لم يجاوز العشرة، فإن جاوزها فمعروفتها حيض، وما رأت على غيرها استحاضة فلا تنتقل العادة هكذا في محيط السرخسي .
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۸/جمادی الاولی ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


