| 85388 | پاکی کے مسائل | حیض،نفاس اور استحاضہ کا بیان |
سوال
اگردس دن گزرنے کے بعدخون جاری رہے اوروہ دس دن اوردس راتوں کے گزرنے کے بعدغسل کرلے کیااس صورت میں وہ نمازیں وضوکے ساتھ پڑھے گی یعنی ہرنمازکے لئے وضوکرےگی یاغسل کرے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگردس دن سے خون تجاوزکرجائے اور اس عورت کے ماہواری کے ایام متعین ہیں جیسے چھ دن توایسی صورت میں ایام عادت سے زائد ایام استحاضہ کے شمار ہوں گے اور ان دنوں کی نماز یں لازم ہیں،باقی ہر نماز کے وقت بدن اورکپڑوں کو پاک کرکے اس وقت کی فرض نماز اور سنتیں پڑھے اور اسی وضو کے ساتھ نوافل وغیرہ بھی پڑھ سکتی ہے،غسل کرنالازم نہیں۔
حوالہ جات
فی رد المحتار (ج 2 / ص 369):
أما المعتادة فما زاد على عادتها ويجاوز العشرة في الحيض والأربعين في النفاس يكون استحاضة كما أشار إليه بقوله: أو على العادة إلخ، أما إذا لم يتجاوز الأكثر فيهما ، فهو انتقال للعادة فيهما ، فيكون حيضا ونفاسا۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۸/جمادی الاولی ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


