03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خلع کی صورت میں شوہر کی طرف سے اخراجات کے مطالبے کاحکم
85370طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

جو اخراجات ہوئے شادی میں اور شادی کے بعد سوا سالہ دورانیہ میں (کھانے ،پینے،پہننے،علاج و معالجہ،عورت کے رشتہ داروں کی ضیافت و غیره)کیاخلع کی صورت میں شوہر کی طرف سےان اخراجات کا مطالبہ درست ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں جو اخراجات شوہر کی طرف سے شادی بیاہ کے موقع پر کیے گئے تھے وہ شوہرنے اپنے اختیار سے کیے تھے ،اسی طرح جو اخراجات اس نے شادی کے بعد بیوی یا اس کے گھر والوں پر کیے ہیں وہ بھی اس نے اپنے اختیار سے کیے تھے جو کہ نان نفقہ یا ہبہ کے حکم میں ہے،لہٰذا خلع یا طلاق کی صورت میں شوہر کی طرف سے ان اخراجات کا مطالبہ جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 128)

وأما شرائط الرجوع بعد ثبوت الحق حتى لا يصح بدون القضاء والرضا لأن الرجوع فسخ العقد بعد تمامه وفسخ العقد بعد تمامه يصح بدون القضاء والرضا كالرد بالعيب في البيع بعد القبض. وأما العوارض المانعة من الرجوع فأنواع منها هلاك الموهوب لأنه لا سبيل إلى الرجوع في الهالك ولا سبيل إلى الرجوع في قيمته لأنها ليست بموهوبة لانعدام ورود العقد عليها.

الفتاوى الهندية (1/ 488)

إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع.وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان.

  محمد حمزہ سلیمان

     دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

      ۰۸.جمادی الاولیٰ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب