| 85394 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
عید الفطر 2024 کے دنوں کی بات ہے کہ ہم گھر پر موجود نہیں تھے۔ میرے پڑوسی یوسف اور ان کے بیٹے ابراہیم نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میرے گھر سے تقریباً 40 سے 50 سرف کے پیکٹ چوری کر لیے۔ اس وقت ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ہم نے صبر کیا، لیکن بعد میں ہمیں ثبوت مل گیا، اور ابراہیم نے بھی تسلیم کر لیا کہ اس نے سرف چوری کیے تھے۔ سوال یہ ہے کہ
شرعی اور قانونی طور پر مجھے کس قیمت کے حساب سے ہرجانہ لینے کا حق ہے؟ کیا قیمت خرید کے حساب سے یا قیمت فروخت کے حساب سے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سرف قیمیات میں سے ہے، کیونکہ اس کے بنانے اور پیکنگ کے طریقے مختلف ہوتے ہیں،لہٰذا چوری کردہ سرف اگر چوری کا اعتراف کرنے والے ابراہیم کے پاس ہو تو وہی اس سے لیا جائے گا، اور اگر وہ اسے استعمال کر چکا ہو تو بوقتِ چوری اس کی جو بھی مارکیٹ قیمت تھی، وہ ابراہیم سے لی جائے گی۔
حوالہ جات
فتاوى قاضيخان (2/ 173)
لو غصب من آخر شيئاً من ذوات القيم فأعطاه الغاصب قيمته يوم الغصب بعدما تغير سعره في ذلك البلد فإنه يجبر على القبول.
تبیین الحقائق :
"(ولا يجتمع قطع وضمان وترد العين لو قائما) معناه إذا قطع السارق وكانت السرقة قائمة في يده ترد على صاحبها لقيام ملكه فيها وإن كانت هالكة لا يضمن السارق وإن استهلكها فكذلك في رواية أبي يوسف عن أبي حنيفة - رحمه الله - وهو المشهور وفي رواية الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله - يضمن وعن ابن سماعة عن محمد أنه يفتي بأداء القيمة لأنه أتلف مالا محظورا بغير حق ولا يحكم به لأنه يؤدي إلى إيجاب ما ينافي القطع."
(كتاب السرقة، فصل في كيفية القطع وإثباته، ٣/ ٢٣١، ط: دار الكتاب الإسلامي)
بدائع الصنائع :
"وأما حكم السرقة فنقول - وبالله التوفيق -: للسرقة حكمان: أحدهما: يتعلق بالنفس، والآخر: يتعلق بالمال (أما) الذي يتعلق بالنفس فالقطع لقوله سبحانه وتعالى {والسارق والسارقة فاقطعوا أيديهما}؛ ولما روينا من الأخبار، وعليه إجماع الأمة ...والثاني وجوب رد عين المسروق على صاحبه إذا كان قائما بعينه .... إلا أن في باب الغصب يضمن الغاصب للمالك مثل المغصوب، أو قيمته، وههنا لا يضمن السارق لمانع وهو القطع."(كتاب السرقة، فصل في حكم السرقة، ٧/ ٨٤-٨٩، ط: دارالكتب العلمية)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
١١/۵/۱۴۴٦ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


