| 85582 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
متوفیہ کی وفات کے بعد گورنمنٹ آف پنجاب کے رولز کے مطابق تقریبا 2052 تک یا جس سال تک بھی ماہانہ تنخواہ ملتی رہے گی اور پھر پینشن ہمیشہ یا کسی سال یا مدت تک ملتی رہے گی ، اس کی تقسیم ورثاء میں کیسے ہوگی؟برائے مہربانی شریعت کے مطابق مکمل وضاحت سے رہنمائ فرمادیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصولی بات یہ ہے کہ جو رقم(خواہ کسی بھی فنڈ سے متعلق ہو)ملازم(مرحوم)کی ملکیت میں اس کی زندگی میں تھی یا کم ازکم اس رقم پر ملازم کا زندگی میں استحقاق ثابت ہوچکا تھا وہ رقم ترکہ میں شامل ہوگی اور جو رقم ملازم کی ملکیت میں نہ ہو اور نہ اس پر زندگی میں استحقاق ثابت ہوا ہو،ایسی رقم ادارے کی طرف سے عطیہ شمار ہوگی اور ترکہ میں شامل نہیں ہوگی،عطیہ ہونے کی صورت میں ادارہ اپنی پالیسی کے مطابق ملازم (مرحوم) کے جن رشتہ داروں کو یہ رقم دے گا وہی اس کے مالک ہوں گے،کسی اور کو ان سےمطالبے کا حق نہیں ہوگا۔
ملازم کے ریٹائرڈ ہونے یاوفات کے بعداس کے گھر والوں کو ماہانہ ملنے والی رقم تنخواہ یاپنشن(Pension) کہلاتی ہے، پنشن کی مدمیں ملازم کی تنخواہ سے کسی قسم کی کوئی کٹوتی نہیں ہوتی، بلکہ یہ رقم،ملازم کی ادارے میں عرصہ دراز تک خدمات انجام دینے کے نتیجے میں بطورِعطیہ دی جاتی ہے، پنشن کے حقِ لازم ہونے یا نہ ہونے کے سلسلہ میں وکلاء اور متعلقہ افراد سے معلومات کی گئیں تو معلوم ہوا کہ قانون کے اعتبار سے ماہانہ ملنے والی پنشن ریٹائرمنٹ کے بعدمہینہ پورا ہونے سے پہلے حقِ لازم نہیں ہوتی، بلکہ مہینہ گزرنے کے ساتھ ساتھ حقِ لازم بنتی ہے، یہی وجہ ہے کہ مہینہ پورا ہونے سے پہلے ملازم کو اس کے مطالبے کا حق نہیں حاصل ہوتا، اسی طرح مہینہ گزرنے کے بعد بھی صرف گزشتہ مہینے کی پنشن کے مطالبے کا حق ہوتا ہے، آئندہ مہینوں کی پنشن کا مطالبہ ملازم نہیں کر سکتا، اس سے معلوم ہوا کہ آئندہ مہینوں کی پنشن ملازم کا حقِ لازم نہیں بنی تھی، لہذا اگرملازم کی وفات ہوجائےتو آنے والے مہینوں کی پنشن اس کا ترکہ شمار نہیں ہو گی، بلکہ وہ قانون کے مطابق متعین افراد کے لیے عطیہ شمار ہو گی،اگرچہ اس عطیہ کا سبب اس کی ملازمت ہے، لیکن صرف سبب کی وجہ سے اس پر ترکہ کا حکم نہیں لگایا جا سکتا، چنانچہ حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمہ اللہ امداد الفتاوی میں ماہانہ پنشن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
’’چوں کہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسانِ سرکار ہے، بدون قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا، لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہیں ہوگی، سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہے تقسیم کردے‘‘۔( امداد الفتاوی:343/4، ط: دارالعلوم)
اس کے علاوہ دیگر اردو فتاوی میں بھی ماہانہ پنشن کو ترکہ شمار نہیں کیا گیا، البتہ اگر ملازم اپنی زندگی میں کسی عذر وغیرہ کی وجہ سے کئی مہینے تک ماہانہ پنشن وصول نہ کر سکے اور وصولی سے پہلے اس کا انتقال ہو جائے تو گزشتہ مہینوں کی پنشن حقِ لازم ہونے کی وجہ سے ترکہ میں شامل ہو کر ملازم کے تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گی۔
یہاں یہ بات یاد رہے کہ چونکہ یہ پنشن عطیہ محضہ نہیں، بلکہ یہ مشروط بالعمل ہے، کیونکہ ملازمت کے معاہدے میں باقاعدہ تصریح ہوتی ہے کہ اتنی مدت تک یہ ملازمت کرو گے تو پنشن ملے گی، ورنہ نہیں، اسی بنیاد پر ملازم کو قانونا اس کے مطالبے کا بھی حق حاصل ہوتا ہے، اس لیے اگر یہ پنشن کسی حرام اور ناجائز ملازمت کے سبب مل رہی ہو تو اس کا لینا مکروہ تحریمی ہو گا، کیونکہ قانوناً حقِ لازم ہونے کی وجہ سے اس صورت میں یہ ناجائز عمل کے نتیجہ میں ہی متصور ہو گی اور اس کا لینا درست نہ ہو گا۔(ماخوذ از تبویب بتغییر /81105)
مذکورہ تفصیل کی روشنی میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ متوفیہ کی وفات کے بعد ادارے کی طرف سے جو تنخواہ یا پنشن کی مد میں رقم دی جارہی ہے،وہ ادارے کے قوانین کے مطابق متوفیہ کے جس رشتہ دار کو دی جائے وہی اس کا مالک ہوگا ،دیگر ورثاء کو اس سے مطالبے کا حق نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
الفقه الإسلامي وأدلته (10/ 372)
الإرث لغة: بقاء شخص بعد موت آخر بحيث يأخذ الباقي ما يخلفه الميت. وفقهاً: ما خلفه الميت من الأموال والحقوق التي يستحقها بموته الوارث الشرعي.
الأشباه والنظائر - حنفي (ص: 331)
العطاء لا يورث كذا في صلح البزازية.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۱۱.جمادی الاولی۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


