| 85583 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
متوفیہ عورت اپنی وفات سے پہلے اپنی تنخواہ میں سے ہمیشہ اپنے والدین کی محبت میں اور ان کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے،ان کو 10 ہزار روپے دیتی تھی اور ان کا ارادہ تھا کہ اپنے والدین کو ہمیشہ 10 ہزار روپے ماہانہ دیتی رہے اور بیٹے کی طرح ان کی خدمت کرتی رہے ۔ برائے مہربانی اس حوالے سے شریعت کا کیا حکم ہے ؟ مکمل وضاحت سے رہنمائی فرمادیں کہ کیا اب بھی والدین کو 10 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ یا پنشن میں سے ملتے رہیں گے یا نہیں ؟ کیا یہ وصیت میں شامل ہوگا یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
متوفیہ کی وفات کے بعد ادارے کی طرف سے تنخواہ یا پنشن کی مد میں جورقم دی جارہی ہے،چونکہ وہ عطیہ ہے،ترکہ میں شامل نہیں،لہٰذاوہ ادارے کے قوانین کے مطابق متوفیہ کے جس رشتہ دار کو دی جائے وہی اس کا مالک ہوگا ،دیگر رشتہ داروں کو اس سے مطالبے کا حق نہیں ہوگا،لہٰذا متوفیہ کے والدین کو متوفیہ کی زندگی میں ملنے والے ماہانہ دس ہزار روپے کے مطالبے کا حق مذکورہ تنخواہ یا پنشن کی رقم میں سے نہیں ہوگا،البتہ ادارہ اپنے قوانین کے مطابق جس کو یہ ماہانہ تنخواہ یا پنشن کی مد میں رقم دے وہ اپنی صوابدید کے مطابق متوفیہ کے والدین کےساتھ تعاون کرنا چاہے تو یہ باعثِ سعادت ہوگا۔
حوالہ جات
الفقه الإسلامي وأدلته (10/ 372)
الإرث لغة: بقاء شخص بعد موت آخر بحيث يأخذ الباقي ما يخلفه الميت. وفقهاً: ما خلفه الميت من الأموال والحقوق التي يستحقها بموته الوارث الشرعي.
الأشباه والنظائر - حنفي (ص: 331)
العطاء لا يورث كذا في صلح البزازية.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۱۱.جمادی الاولی۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


