03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
متوفیہ کا شوہر شرعی وارث ہے
85584میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مرحومہ(سرکاری ملازم) کی وفات کے بعدترکہ میں اور گورنمنٹ کی طرف سے ملنے والی مراعات کا شوہر حق دار ہوگا یا نہیں؟شوہر نے چونکہ اب  دوسری شادی کرلی ہے تو کیا شوہر دوسری شادی کرنے کے بعد بھی حق دار ہے یا نہیں ؟شریعت کے مطابق مکمل وضاحت سے رہنمائی فرمادیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شوہر اگردوسری شادی کرلے خواہ پہلی بیوی کی زندگی میں یا اس کی وفات کے بعد،تب بھی وہ اپنی پہلی بیوی کی وفات کی صورت میں اس کا شرعی وارث شمار ہوگا،بشرطیکہ متوفیہ وفات کے وقت اس کےنکاح میں ہو،لہٰذا متوفیہ کے ترکہ میں شوہر اپنے شرعی حصے کے مطابق حق دار ہوگا،اسی طرح گورنمنٹ کی طرف سے ملنے والے ان تمام عطایا کا بھی حق دار ہوگا جوگورنمنٹ شوہر کو جاری کرچکی ہے یا کرے گی۔

حوالہ جات

الفقه الإسلامي وأدلته (10/ 372)

الإرث لغة: بقاء شخص بعد موت آخر بحيث يأخذ الباقي ما يخلفه الميت. وفقهاً: ما خلفه الميت من الأموال والحقوق التي يستحقها بموته الوارث الشرعي.

الأشباه والنظائر - حنفي (ص: 331)

العطاء لا يورث كذا في صلح البزازية.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

 ۱۱.جمادی الاولی۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب