| 85571 | خرید و فروخت کے احکام | مرابحہ اور تولیہ کا بیان |
سوال
مفتی صاحب! ایک شرعی مسئلے کے بارے میں دریافت کرنا تھا کہ آج کل اشیاء کی قیمتیں دن بدن بڑھتی جارہی ہیں آج ایک قیمت ہے تواگلے دن دوسری قیمت ہے،ایسی صورتحال میں ایک چیز کو پرانے ریٹ پر فروخت کرنا چاہیے یا نئے ریٹ پر بھی فروخت کرسکتے ہیں؟مثال کے طور پر جب دوکاندار نے خریدا تو اس وقت کمپنی کی طرف سے لکھا ہوا ریٹ 200 تھااوراب نیا ریٹ 520 ہے تودوکاندار کے لیےکس ریٹ پر فروخت کرنا شرعاً جائز ہوگا؟اس بارے میں دلائل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
دوکاندار جب کوئی مال خرید لیتا ہےتو وہ اس کی ملکیت میں آجاتاہے ،اب گاہک کی رضامندی سےکسی بھی قیمت پر فروخت کرنا درست ہے۔البتہ کبھی حکومت وقت کی جانب سے نفع کی کوئی خاص شرح متعین کر دی جاتی ہے،اس کی پابندی کرنا واجب ہوتا ہے،اگر اس کی پابندی نہیں کرےگا تو گنہگار ہوگا۔
لہذاصورت مسئولہ میں اگر حکومت وقت کی طرف سے کوئی پابندی نہ ہو اور گاہک اس مال کو نئی قیمت پر لینے پرراضی ہو تودوکاندار کے لیے فروخت کرنا شرعاً جائز ہوگا۔البتہ اگر دوکاندار نے مہنگا بیچنے کی لالچ میں غلط بیانی سے کام لیا یا کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر مہنگا فروخت کیا تو گنہگار ہوگااور اس کے برعکس اگر رعایت کرتا ہے تو اجر وثواب کا مستحق ہو گا۔
حوالہ جات
أخرج الإمام أبو محمد ابن ماجة رحمه الله تعالى في "السنن"(ص:447)(الحديث رقم:2201)عن أنس بن مالك رضی اللہ عنہ قال: غلا السعر علی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقالوا: یا رسول اللہ! قد غلا السعر فسعّر لنا، فقال: إن اللہ ہو المسعّر القابض الباسط الرّازق.
وأخرج الإمام أبو داؤد رحمه الله تعالى في "السنن"(264/3) (الحديث رقم:3382)عن علي بن أبي طالب رضي الله تعالى عنه قال:وقد نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع المضطر، وبيع الغرر، وبيع الثمرة قبل أن تدرك.
وقال أصحاب الفتاوى الهندية:وأما حكمه: فثبوت الملك في المبيع للمشتري وفي الثمن للبائع إذا كان البيع باتا، وإن كان موقوفا فثبوت الملك فيهما عند الإجازة.(الفتاوى الهندية:3/ 3)
وقال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى: وحكمه ثبوت الملك.
وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی: قوله:( وحكمه ثبوت الملك): أي في البدلين لكل منهما في بدل، وهذا حكمه الأصلي، والتابع وجوب تسليم المبيع والثمن.(رد المحتار:4/ 506)
وقال العلامة علي حيدر أفندي رحمه الله تعالى:المادة 153: الثمن المسمى هو الثمن الذي يسميه ويعينه العاقدان وقت البيع بالتراضي سواء كان مطابقا للقيمة الحقيقية أو ناقصا عنها أو زائدا عليها.وعلى ذلك كما أن الثمن المسمى قد يكون بقيمة المبيع الحقيقية يكون أيضا أزيد من القيمة الحقيقية أو أنقص.
( شرح مجلة الأحكام:1/ 124)
وقال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ تعالی:والفرق بين الثمن والقيمة أن الثمن ما تراضى عليه المتعاقدان سواء زاد على القيمة أو نقص.( البحر الرائق: 6/ 15)
وقال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى:وفي النتف: بيع المضطر وشراؤه فاسد.
وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی: قوله:( بیع المضطر) هو أن یضطر الرجل إلی طعام أو شراب أو لباس أو غیرها ولایبیعها البائع إلا بأکثر من ثمنها بکثیر، وکذلك في الشراء منه". (رد المحتار:5/ 59 )
جنید صلاح الدین
دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
16/جمادی الاولی6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جنید صلاح الدین ولد صلاح الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


