| 85484 | زکوة کابیان | مستحقین زکوة کا بیان |
سوال
میری پھوپھی کی اولاد نہیں ، اس کا شوہر کماتانہیں ہے تو ہم ان کو خرچہ دیتے ہیں، اگر نہ دیں توہمارے لئے مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں،کیونکہ میری پھوپھی کا میراث میں جو حصہ ہےوہ ابھی تک ہمارے پاس ہے،اگر چہ ہم نے اس کو حصہ دینے کی پیشکش بھی کی، مگر اس نے لینے سے انکا رکیا۔اب سوال یہ ہے کہ کبھی کبھار پھوپھی کا شوہر میرے پاس پیسے مانگنے کے لئے آجاتا ہے اور اس صورت میں اس کو پیسے دینا میری مجبوری ہوتی ہے،ورنہ مسائل ہوسکتے ہیں ،تو کیا اس حالت میں زکوۃ کی رقم اس کو دے سکتا ہوں ، جبکہ یہ بات طے ہے کہ زکوہ کی رقم نہیں دی تو کسی نہ کسی طرح اس کو انتظام کرکے پیسے دینے ہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جس مسلمان کے پاس بنیادی ضرورت (رہنے کا مکان،کپڑے اور برتن وغیرہ ) کے علاہ نصاب سے زائد مال یا سامان موجود نہ ہواور وہ شخص سید یا قریشی بھی نہ ہو تو وہ زکوٰۃ کا مستحق ہے،اسے اس کی ضرورت کے بقدر زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔اگر کسی کے پاس نصاب یعنی صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا، صرف چاندی ہو تو ساڑھے باون تولہ چاندی،یا دونوں میں سے کسی ایک کی مالیت کے برابر نقدی یا سامانِ تجارت ہو ،یا یہ سب ملا کر یا ان میں سے بعض ملا کر مجموعی مالیت چاندی کے نصاب کے برابر بنتی ہو تو ایسا شخص خود صاحبِ نصاب ہے ،مستحقِ زکوٰۃ نہیں ہے۔
لہذاصورتِ مسولہ میں اگر آپ کے پھوپھی کا شوہرمستحق ِزکوٰۃ ہے تو اس کو زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے،چاہے اس کو پیسے دینا آپ کی مجبوری ہو یا نہ ہو،دونوں صورتوں میں اس کو زکوٰۃ کی رقم دینے سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔باقی آپ کی پھوپھی کا میراث میں جو حصہ ہے وہ الگ کرکے اپنی پھوپھی کو دے دیں ،اس کے باوجود اگر وہ لینے سے انکار ی ہے تو اس کواپنا حصہ ایک مرتبہ قبضہ میں دے دیں، پھروہ آپ کو اپنا حصہ ہدیہ کریں۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 189):
لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي. ولا يدفع إلى مملوك غني غير مكاتبه كذا في معراج الدراية.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 346):
وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة.
وفي الظهيرية: ويبدأ في الصدقات بالأقارب، ثم الموالي ثم الجيران، ولو دفع زكاته إلى من نفقته واجبة عليه من الأقارب جاز إذا لم يحسبها من النفقة بحر وقدمناه موضحا أول الزكاة.
ويجوز دفعها لزوجة أبيه وابنه وزوج ابنته تتارخانية.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 349):
(و) لا إلى (طفله) بخلاف ولده الكبير وأبيه وامرأته الفقراء وطفل الغنية فيجوز لانتفاء المانع. [رد المحتار]
أبيه أولا على الأصح لما عنده أنه يعد غنيا بغناه نهر (قوله: بخلاف ولده الكبير) أي البالغ كما مر ولو زمنا قبل فرض نفقته إجماعا وبعده عند محمد خلافا للثاني، وعلى هذا بقية الأقارب، وفي بنت الغني ذات الزوج خلاف. والأصح الجواز وهو قولهما ورواية عن الثاني نهر (قوله: وطفل الغنية) أي ولو لم يكن له أب بحر عن القنية (قوله: لانتفاء المانع) علة للجميع والمانع أن الطفل يعد غنيا بغنى أبيه بخلاف الكبير فإنه لا يعد غنيا بغنى أبيه ولا الأب بغنى ابنه ولا الزوجة بغنى زوجها ولا الطفل بغنى أمه ح في البحر.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 687):
(هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه.
وأما تمليك الدين من غير من عليه الدين فإن أمره بقبضه صحت لرجوعها إلى هبة العين.
(وسببها إرادة الخير للواهب) دنيوي كعوض ومحبة وحسن ثناء، وأخروي: قال الإمام أبو منصور يجب على المؤمن أن يعلم ولده الجود والإحسان كما يجب عليه أن يعلمه التوحيد والإيمان؛ إذ حب الدنيا رأس كل خطيئة نهاية مندوبة وقبولها سنة قال - صلى الله عليه وسلم - «تهادوا تحابوا» .
(وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك) .
عبدالعلی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
15/ جمادی الاولی /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


