03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدہ دوبیٹوں،ایک بیٹی میں تقسیم میراث
85510میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 پھوپھی کے دوبیٹے،ایک بیٹی ہے،پھوپھی کے انتقال کے وقت والدہ بھی حیات تھی،دوبھائی اور تین بہنیں بھی حیات ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہے،اسی طرح مرحومہ کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، اور بھائی سے ملنے والاحصہ، سب مرحومہ کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال  ورثہ میں تقسیم کیاجائے، تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے:۔

میراث کے 6 حصے بنائے جائیں  گے،جن میں سے1حصہ والدہ،ہربیٹے کو دو حصے جبکہ بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔دوبھائیوں اور تین بہنوں کو کچھ نہیں ملے گا۔

نمبر

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

والدہ

1

16.666

2

بیٹا

2

33.333

3

بیٹا

2

33.333

4

بیٹی

1

16.666

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

16/ جمادی الاولی 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب