03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدہ،اہلیہ،تین بیٹیوں،دوبھائی اور چار بہنوں میں تقسیم میراث
85509میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے والد 2020میں انتقال کرگئے ،پسماندگان میں میری دوبہنیں،اور میری والدہ ہیں،کوئی بھائی نہیں ہے،میرے والد کے دو بھائی اور چار بہنیں ہیں،میرے دادا کا انتقال والد سے پہلے ہوا ،اور دادی کا انتقال والد کے بعد ہوا،میری ایک پھوپھو کا انتقال بھی والد کے بعد ہوا،ان کے تین بچے ہیں۔مجھے اس مسئلے میں ایک دکان اور ایک پلاٹ جوکہ میرے والد کے نام پر ہیں،کی تقسیم تحریری طور پر بتادی جائے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہےاوراسی طرح مرحوم کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک

تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال  ورثہ میں تقسیم کیاجائے، تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے:۔

میراث کے 576 حصے بنائے جائیں  گے،جن میں سے96حصے والدہ،72حصے اہلیہ،128حصے ہربیٹی کو ملیں گے،تین بیٹیوں کےکل حصے384 ہوں گے،ہر بھائی کو 6حصے اور ہر بہن کو 3 حصے  ملیں گے.

پھوپھی اور دادی کا انتقال ہوچکا ہے ،ان کا حصہ ان کے اپنے ورثہ کو ملے گا،جس کی تفصیل بعد میں آرہی ہے۔

نمبر

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

والدہ

96

16.666

2

بیوی

72

12.5

3

بیٹی

128

22.222

4

بیٹی

128

22.222

5

بیٹی

128

22.222

6

بھائی

6

1.041

7

بھائی

6

1.041

8

بہن

3

0.52

9

بہن

3

0.52

10

بہن

3

0.52

11

بہن

3

0.52

 

 

 

 

 

 

 

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

16/ جمادی الاولی 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب