| 85508 | وصیت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے بڑے بھائی قیصر محمد کے سسرال والے ہمارے گھر پر آئے اور ہمارے والد صاحب سے کہا کہ ہم آپ کو قرض حسنہ پر مکان دلوانا چاہتے ہیں، اس پر والد صاحب نے کہا کہ ہم مکان تو لیں گے مگر قرض حسنہ پر نہیں لیں گے۔ ہم اس کے لیے وقت مقرر کر سکتے ہیں، اور اس مکان کی قیمت کا اندازہ 12 لاکھ تھا اور رقم کا وقت 12 سال طے ہوا۔ تاہم اس وقت مکان تعمیر سمیت، تقریباً 14,000 میں ملا، اور اب اس کی مالیت 1,50,00,000 روپے ہے۔ اس وقت والد صاحب نے ان سے کہا تھا کہ ہم آپ کو ہر مہینے کرائے کی طرح دیں گے، مگر انہوں نے کہا تھا کہ نہیں، ہم اس طرح رقم لیں گے کہ تھوڑی رقم جمع کرکے پھر آپ ہمیں دیں گے۔ مکان خریدنے کے بعد 2012 میں والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ پھر اس کے بعد آہستہ آہستہ ہمارے بھائی الگ الگ ہو گئے۔ اب اس مکان میں ہمارا بڑا بھائی جس کے سسرال کا مکان تھا، وہ رہ رہا ہے۔ اب 12 سال ہو گئے، تو بھائی کا سسرال جانا ہوا تو وہ انہیں مکان کی فائل دے رہے تھے۔ تو بھائی نے قبول نہیں کی اور کہا کہ فائل ابھی آپ اپنے پاس ہی رکھیں، کیونکہ رقم کی ادائیگی ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ مگر اب ہمارے سارے بھائی کہہ رہے ہیں کہ مکان کا فیصلہ کرو اور پھر ہمیں حصہ دو۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس حالت میں مکان کا فیصلہ کس کے ہاتھ میں ہوگا،اس پر کس کاحق ہوگا؟ آیا اس کا ہوگا جس نے قرض حسنہ پر مکان دیا تھا؟ اور اس کی رقم کی 12 سالہ مدت بھی پوری ادائیگی کے بغیر ختم ہو چکی ہے یا ہم بھائیوں کا حق ہے اس مکان پر؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ بھائی کے سسرال نے قرض یعنی ادھار پر یہ مکان لے کر دیا تھا، جس میں سے ساڑھے تین لاکھ قرض اب تک ادا کیا گیا ہے اور باقی ابھی تک ادا نہیں کیا گیا۔
بھائیوں کے نام یہ ہیں: قیصر محمد (ان کے سسر نے ادھار پر مکان لے کر دیا تھا)، عبدالرحیم، عبدالوہاب، عبدالستار، اور عبدالروف۔
میری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ مکان میرے بھائی قیصر محمد کے سسرال نے خرید کر ہمارے والد کو 14,00,000 روپے میں ادھار پر دیاتھا اور قیمت کی ادائیگی کے لیے 12 سال کا وقت طے کیا تھا، درمیان میں ہمارے والد کا انتقال ہوا اور اب تک اس میں سے صرف ساڑھے تین لاکھ روپے ادا کیے گئے ہیں، جبکہ باقی رقم کی ادائیگی ابھی باقی ہے،بھائی تقسیم اور اپنے حصے کا مطالبہ کر رہے ہیں،تو اس پر کس کا حق ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں خریدنے کے ساتھ ہی یہ مکان آپ کے والد کی ملکیت ہو گیا تھا، لہٰذا ان کی موت کے بعد یہ ان کی میراث میں شامل ہوگا اور ان کے ورثاء کا حق ہوگا۔ البتہ، ورثاء میں تقسیم سے پہلے آپ کے مرحوم والد کے کفن دفن کے متوسط اخراجات، قرض (جس میں اس مکان کی بقیہ قیمت بھی شامل ہے)، اور ایک تہائی تک وصیت کی علی الترتیب ادائیگی ہوگی، اور اس کے بعد یہ مرحوم کے انتقال کے وقت موجود ان کے شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا۔
اگر مرحوم کے ورثاء صرف وہی لوگ ہوں جو سوال میں مذکور ہیں، یعنی پانچ بیٹے، اور اس کے علاوہ بیٹی، بیوی، والدہ، دادا، دادی، نانا یا نانی میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو، تو کل منقولہ اور غیر منقولہ ترکہ مرحوم کے پانچ بیٹوں میں برابر تقسیم ہوگا، اور ہر بیٹے کو %20 حصہ دیا جائے گا۔
حوالہ جات
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 248):
اشترى سلعة وقبضها بإذن البائع، ثم مات المشتري، أو أفلس قبل أن يدفع الثمن، أو بعدما دفع طائفة منه وعليه دين لأناس شتى فالغرماء جميعا في الثمن أسوة وليس بائعها أحق بها منهم عندنا؛ لأن البائع لما سلمها إلى المشتري فقد رضي بإسقاط حقه من عينه ورضي به في ذمته فصار كغيره من سائر الغرماء.
قال في كنز الدقائق :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ." (ص:696, المكتبة الشاملة)
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 52)
قال - رحمه الله - (ولو على الميت دين محيط بطل الصلح والقسمة)؛ لأن الورثة لا يملكون التركة في هذه الحالة؛ لأن الدين المستغرق يمنع من دخول التركة في ملك الوارث؛ لأن حاجته مقدمة على الإرث.
وفی البحر الرائق (8/ 567)
والعصبة أربعة أصناف: عصبة بنفسه وهو جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده الأقرب.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
17/5۴/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


