03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شادی کے بعدعورت کے شناختی کارڈ سے والد کا نام ہٹا کرشوہر کے نام کا اندراج کروانا
85563جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا شادی کے بعد بیوی کے نام سے اس کے والد کا نام ہٹایا جا سکتا ہے ؟ اس صورت میں کہ شوہر بیوی کے شناختی کارڈ میں اس کے نام کے ساتھ اپنا نام لگائے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ولدیت کی نسبت غیر والد کی طرف حرام ہے۔  البتہ کوئی اور نسبت یا رشتہ ہو تو اس کا اظہار کرنے میں کوئی حرج نہیں  ۔  شوہر سے چونکہ زوجیت کا رشتہ ہے  اس لیے اس کا اظہار  کیا جا سکتا ہے۔شادی کے بعد شناختی کارڈ میں نام کی تبدیلی  کا مقصد ولدیت کی نسبت تبدیل کرنا نہیں ہوتا بلکہ زوجیت کی نسبت بیان کرنا ہوتا ہے  ، لہذا شناختی کارڈ میں شوہر کا نام لکھوانے میں کوئی قباحت نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں بھی عورت کے ساتھ شوہر کے نام کا رواج تھا، مثلاً: امرأۃ ابن مسعود  (رضی اللہ عنہما)وغیرہ کہا جاتا تھا۔

حوالہ جات

قال العلامۃ العینی رحمہ اللہ:قوله: (من ادعى إلى غير أبيه) ، أي: من انتسب إلى غير أبيه (فالجنة عليه حرام) إما على سبيل التغليظ، وإما أنه إذا استحل ذلك. (عمدة القاري :17/ 305)

وقال الإمام النووی رحمہ اللہ: وأما قوله صلى الله عليه وسلم:( فالجنة عليه حرام )ففيه التأويلان اللذان قدمناهما في نظائره ،أحدهما: أنه محمول على من فعله مستحلا له ،والثاني: أن جزاءه أنها محرمة عليه أولا عند دخول الفائزين وأهل السلامة، ثم إنه قد يجازى، فيمنعها عند دخولهم ثم يدخلها بعد ذلك، وقد لا يجازى بل يعفو الله سبحانه وتعالى عنه، ومعنى حرام ممنوعة.(شرح النووي :2/ 52)

سعد امین بن میر محمد اکبر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

18/جمادی الاولی1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سعد امین بن میر محمد اکبر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب