03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہونٹوں پربوسہ لینے سےمصاہرت کاحکم
85542نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

 زيد اور بكر دو بھائی ہیں،زيد بڑا اور بكر چھوٹا ہے،زيد نے دینی مدرسے ميں كچھ عرصہ پڑ ھا ہے،جبكہ بكر درس نظامی سے فا رغ التحصيل عالم وفاضل ہے،  زيد كے دو بيٹے بھی عالم ہیں، جبكہ ايك بيٹا حافظ قرآن ہے، دونو ں بھائی اپنے والدين كے ساتھ جو ائنٹ فيملی كے طورپر رہتے تھے، زيد شروع ہی سے بچوں كے ساتھ كھيل كود، ہنسی مذاق اور چھیڑچھاڑ كرنے ميں دلچسپي ركھتا تھا، اپنے بچوں سے بڑھ كر اپنے بھتیجوں اور بھتيجيوں  كے ساتھ زياده ہنسی مذاق کرتاتھا،ان  بچوں ميں بكرکی ايك بيٹی فاطمہ كے ساتھ تو اس كا پيار اور لاڈسب سے زياده تھا اور اس كے ساتھ چھیڑخانی بھی سب سے زياده ہوتی تھی،یہاں تك كہ فاطمہ كے دس باره سال سے زائد عمر ميں بھی وہ کبھی اسے ناك  سے ٖپکڑتااور ناک ميں پھونك مارتا وغيره جيسے كھيل كود ہنسی مذاق میں كيا كرتا تھا،اس كے بعد  زيد اور بكر ايك اوربھائی كی وجہ سے مکان تقسيم كر كے عليحده طورپر رہنے لگے، اس كے باوجود بھی زيد كے ان بچوں سے پیارمیں كوئی کمی نہیں ہوئی، خاص كر فاطمہ سے اس کی دل لگی زياده تھی،زيد باہرملک میں رہتاتھا، دو تين  سالوں كے بعد اس كاآنا جانا ہوتا،جب بھی آتااس كابچوں كے ساتھ اسی طرح ہنسی مذاق ،كھيل كودہواكرتا تھا، یہاں تك كہ جب فاطمہ تقريبا بيس سال كی عمر كو پہنچی تو اس کے والد بكرنے اس کی منگنی زيد كے بيٹے طلحہ كے ساتھ كردی،ان دنوں ميں بھی زيد اپنی اسی بھتیجی فاطمہ كے ساتھ ہنسی مذاق كرتا،ہمارے ہاں رسم ورواج يہ ہوتاہےکہ منگنی كے بعد اسی  طرح رخصتی كے بعد بھی بہواپنے سسر سے گھونگٹ لیتی ہے(یعنی چہرہ چھپاتی ہے) اور اس ميں سسر کی عزت سمجھی جاتی ہے، ليكن زيدفاطمہ سے  کہتا تمہارا آناجانا اب بھی ہمارے گھر اسی طرح ہوگاجس طرح پہلے تھا اور مجھ سے چہرہ نہیں چھپانا،چنانچہ زیدکبھی فاطمہ كو ناك سے پكڑتااورکبھی چہرہ سے گھونگٹ اتاردیتا۔

ان دنوں کی بات ہے كہ ايك بار زيد نے اپنی والده کی موجودگی ميں اس کا گھونگٹ اتارنے كی کوشش کی اورفاطمہ كے سر سےڈوپٹہ اتارلیا اور وه بر ہنہ سراور چہرہ كو اپنی رانوں ميں چھپانے پر مجبورہوئى ،پھر زيد نے کہا اب كيسا رہا؟ اسی طرح اس کےساتھ  ہنسی مذاق كرتا تھا اور يہ سب كے سامنے كيا كرتا تھا، تنہائی میں نہیں،كسی کا بھی اس طرف کبھی خیال نہیں ہواکہ زیدکی کوئی بری نیت ہے،کچھ دنوں كے بعد زيد كی چھٹی ختم ہوگئی تو زيد واپس اپنے كام كے سلسلے  ميں باہرملك چلا گيا، تقريبا ايك دو سال كے بعد فاطمہ كے منگيتر طلحہ کی درس نظامی سے فراغت ہوئی اورفاطمہ كی رخصتی  زيد كی عدم موجودگی ميں ہوئی، رخصتی كے تقريبا ڈيڑھ سال بعد زيد واپس باہرملك سے چار پانچ مہینہ كی رخصت پر آيا، اس  دوران زيد فاطمہ کی چال چلن، گھر  ميں خدمت ،  كام كاج ،اس كازياده سے زياده گھر كے سارے افراد كاخيال ركھنا، خاص كر زيد کی زياده  خدمت، وضوكا پانی ، غسل كا پانی،اس کے كپڑوں كی دھلائى استري ،اس کے كمرے کی صفائی اورديگر خدمت سےبہت زیادہ متاثرہوا، زيد كی ديگر دوبہوؤں اور ايك بيٹے جميل كے گھر كے كاموں ميں عدم دلچسپی کی وجہ سے تعلق میں کمی ہوتی گئی اور فاطمہ كی طرف اس کی  تو  جہ زیادہ ہوگئی،  اس كے ساتھ گپ شپ ، اس كا زياده پو چھنا ،فاطمہ كے كام كاج كے وقت اس كے پاس آنا ، وهاں كھڑے رہنا،اس کے ساتھ باتيں كرنا ، ان سب كا موں کی وجہ سےدیگر بہوئیں اس سے حسدکرنے لگیں،زيد كبھی کبھار یہ کہتاتھاکہ فاطمہ زیادہ کام کرتی ہے،باقی کیوں نہیں کرتیں ؟ فاطمہ سے بھی کہتااتنازیادہ کام کیوں کرتی ہو ؟  فاطمہ سب كو كھانا دیتی، زيد كے ديگر پوتوں ، پوتيوں اور بہوؤں كو كھانا كھلاتی ، صبح سوير ے سب كے لئے ناشتہ تيار كرتی، جبكہ ديگر بہوئیں اپنے كمروں ميں سوتی رہتیں،آخرمیں زید اورفاطمہ ان کی سستی،غفلت اورکام چوری پرکبھی تبصرہ کرتے،اسی دوران کوئی آجاتاتووہ خاموش ہوجاتے،جس  کی وجہ سے ان کوشک ہوتاکہ یہ آپس میں کیاباتیں کرتےہیں؟

پھر اس طرح ہواکہ دوسے چارمرتبہ زيد نے فاطمہ کےرخسارپربوسہ لیا، دومرتبہ زيد کی بيوی نے ديكھ ليا، رات كے كھانے كے بعد  عشاء كی نماز يا سونے كےلئے زيد  اپنے كمرے ميں چلا جاتا،اور لائٹ بند كردیتا(زيد كو جلدی سونے کی عادت تھي) باہر گھر كے افراد صحن اور برآ مد ے ميں ہوتے تھے اور با ہرروشنی ہوتی تھی ، كھڑکی اور درواز ے سے زيد كے كمرے ميں بھی دھيمی سے روشنی ہوتی تھی، یعنی اتنی مکمل  تاريكی نہیں ہوتی تھی کہ کوئی نظر ہی نہ آئے، زيد فاطمہ كو وضو يا پانی منگوانے يا بستر لگانے كيلئے بلاتا تو اس دوران بھی آپس ميں كھڑے كھڑے باتيں كرتے اوردروازہ کھلاہوتا۔

زيد کی بیوی كا بيان:زيد كي بيو ی کہتی ہے کہ زید کومیں نے فاطمہ کابوسہ لیتے ہوئے دیکھا،وہ اس طرح كہ زيد بیٹھاہواتھا  اور فاطمہ اس كے سامنےاس کی طرف   کھڑے ہونے کی حالت میں جھکی ہوئی تھی،جب ميں كمر ے ميں داخل ہوئی تو فاطمہ کی پشت میری طرف تھی،  دوسری بار دونوں كھڑے تھے اور فاطمہ كے سرپر(دوپٹہ تھا) ہاتھ رکھ کر كر اپنی طرف جھکاکررخسارکابوسہ لیا،لیکن دونوں دفعہ یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کے چہرہ پردوپٹہ تھا یانہیں؟کیونکہ اس کی پشت میری طرف تھی۔

زيد کی بیوی  نے زيد سے كہاکہ تم كيا كرتے ہو ؟ جواب ميں زيد نے كہاکہ یہ مجھے اپنی فلاں بیٹی کی طرح عزیزہے،جس طرح بیٹی سے پیارکیاجاتاہے تواس طرح میرااس سے بھی لگاؤ ہے۔

فاطمہ(بہو) كا بيان:فاطمہ كہتی ہے ميں نے كبھی بھی اس طرح محسوس  نہیں كيا كہ زيد كی غلط نيت  ہے،بلكہ  وه  تو میرے چچا اور سسر ہے، ليكن گھر کی ديگرعورتيں (بہوئیں)جب يہ باتيں كر تیں کہ تمہارے سسر زيد كا اراده اور نيت صحيح نہیں، تو مجھے يہ خيا ل   ہوتاکہ شایدایساہو، ليكن جب ميں اس كو دیکھتی  تو اس کے انداز سےکہیں بھی غلط نیت محسوس نہیں ہوتی اور بو سہ  جورخسار پر ليا ہے اس کے بارے ميں يہ معلوم نہیں کہ درمیان میں گھونگٹ تھایانہیں اور زيد کی بیوی نے جوجھکنے کی بات ہےوه اس طرح تھا کہ ميں چچا كےلئے چائے  لے آئی اور چائے  كپ ميں ڈالنے كے لئے جھکی،بوسہ لینے یادینے کے لئے نہیں جھکی۔

چچا اور سسر (زيد) كا بيان:زيد كہتاہے کہ جب بھی فاطمہ کے ساتھ ہنسی مذاق کیاہے یابوسہ لیاہے قطعا غلط نيت واراده سے نہیں لیاہے ،بلكہ مجھے اب بھی فاطمہ اس طرح بچی لگتی ہے جس طرح بچپن میں لگتی تھی اور جس طرح بچپن ميں میری اس کے  ساتھ پيارو محبت  تھی اب بھی اسی طرح ہے،اس کی خدمت کی وجہ سے مجھے اورزیادہ اچھی لگتی ہے۔

 واضح رہے کہ زيد كے باہر ملك چلے جانے كے بعد گھر ميں يہ مسئلہ  کھڑاہوگیا اورزید کوجب وٹس ایپ پراس کاعلم ہواتووہ چیخ چیخ کرزاروقطاررونے لگ گیا اورمذکورہ بالابیان دیا،اس پروہ قسم کھانے کے لئے بھی تیارہے اورزید یہ بھی کہتاہے جب بھی بوسہ لیا چہرہ پردوپٹہ حائل تھا۔

شوهر(طلحہ) كا بيان:ميں دو ماه كراچی ميں مقيم تھا اور گھر نهيں آيا ،دو ماه  بعد جب گھر پہنچا تو والد صاحب باہرملك چلے گئے تھے، جب ميں گھر آيا تو يہ بات سامنے آ ئی كہ سسر اور بہو كے آپس ميں تعلقات تھے ، پہلے تو مجھے اس وقت شك ہواکہ شایدیہ تعلق غلط تھا،لیکن تحقیق کے بعد جب تفصیلات سامنے آئیں تومجھے یقین ہوگیا یہ تعلق غلط نہیں تھا،اس تفصیل کی روشنی میں درج ذیل امورکاحل مطلوب ہے:

1۔ كيا زيد كے اس قول كہ "[جب بھی بوسہ لیاہے توچہرہ پردوپٹہ حائل تھا] كا اعتبار كر كے عدم حرمت كا حكم لگا يا جائے گايا نہیں؟

 2 ۔   اگر اس کے مذكوره بالاقول كا اعتبار نہیں ہوگا تو كيا رخسار پر بو سہ لينے كو سر ، پيشانی اور ٹھوڑی  پربوسہ لينے كے ساتھ ملحق كر كے زيد كے عدم شہوت كے قول كا اعتبار كرتے ہوئے عدم حرمت كا حكم لگا يا جا ئے گا؟ جيسا كہ فتاوي عبادالرحمان [ ۴/ ۴۴۳] ميں  ہے اگر چہ احتياط الحاق بالفم ميں ہے۔

3۔اگر الحاق بالفم والے قول پر بہرصورت فتوی ہو اورسسر اور بہوميں حرمت نسبي نہ ہوتوعدم شہوت کی بات کومعتبرنہ ماناجائے اورحرمت کوثابت کیاجائے جيسا  كہ نجم الفتاوی [۴/۴۳۹-۴۴۱] ميں موجود ايك صورت  ہے ، ليكن اگر سسر  اور  بہوميں حرمت نسبی ہو تو اس ميں اصل عدم شہوت ہے اورقرینہ حرمت نسبی کاہوناہےجیساکہ نوازل الفقہ[۳/۳۹_۴۵](مصنف مولانا مفتی اختر امام عادل قاسمی)سے واضح ہے ، تو كيا زيد كا فاطمہ كا محرم نسبی ہونا اورمذکورہ بالابیان اورگزشتہ ساری صورت حال شہوت کے نہ ہونے پرقرینہ نہیں ہوں گے؟کیازیدکے قول کی تصدیق نہیں کی جائے گی؟

4  ۔ نيز شوہرکی تصديق وتكذيب  كو فقہاءنے بڑی اہمیت دی ہے جيسا كہ نجم الفتاوي: ۴/۴۳۲ ميں  ہے تو كيا صورت مسؤلہ ميں شوہر(طلحہ ) كی تصديق كرنا اپنے والد (زيد) كے عدم شہوت والے قول کو ،عدم حرمت ميں مؤثر ہوگایانہیں؟حاصل یہ ہے کہ حرمت مصاہرت ثابت ہوگی یانہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تنہائی میں براہ راست چہرہ یارخسار پربوسہ لیناشہوانی عمل ہے اور اس میں شہوت کاہونااصل ہے،اس لئے عمومی حالات میں اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجائے گی،البتہ جہاں شہوت کے ہونے میں شک واقع ہوجائے یاحالات اورقرائن قویہ شہوت کی نفی کرتے ہوں توایسی صورت میں عدم شہوت پرمحمول کریں گے اورحرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی،اس کی تاییددرج ذیل دومسائل سے بھی ہوتی ہے:

     1.باپ اپنی مشتہاۃ بیٹی کے چہرہ پربوسہ لے اورشہوت پرکوئی قرینہ نہ ہوتواس سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی،کیونکہ باپ بیٹی کارشتہ قرینہ ہے عدم شہوت کااورشہوت پرکوئی قرینہ نہیں ہے۔

2.ساس نے لڑائی میں داماد کاعضوتناسل پکڑلیا اوربعدمیں ساس کہےکہ میں نے شہوت سےیہ عمل نہیں کیاہے توفقہاءکرام لکھتے ہیں اس سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ تنہائی میں براہ راست منہ یارخسار پربوسہ لینے کی صورت میں بعض فقہاء مطلقاحرمت کاحکم لگاتے ہیں،لیکن ہمارے خیال سے یہ حکم مطلق نہیں،کیونکہ اگرمطلق حرمت کاحکم لگاتے ہیں توفقہاء کرام کے ذکرکردہ بالامسائل میں بھی حرمت ثابت ہونی چاہیے،جبکہ اس صورت میں حرمت کاحکم کسی نے نہیں لگایا،اس لئے راجح اس میں تفصیل معلوم ہوتی ہے،اس سے فقہاء کی عبارات میں تطبیق بھی پیداہوجاتی ہے، صورت مسؤلہ میں بوسہ لینے سے شہوت پرمحمول کرکے حرمت مصاہرت کاحکم نہیں لگائیں گے،خاص طورپرجب شہوت کی نفی پردرج ذیل قرائن قویہ موجود ہیں:

1.چچاکابھتیجی کے ساتھ شروع سے پیارکاتعلق ہونا

2.حرمت نسبی کاتعلقہونا

3.سسرکاشہوت کے نہ ہونے پرقسم کھانا

4.سسرکے قول کے مطابق درمیان میں دوپٹہ کاحائل ہوناسوتیں رہتیں۔

5.شہوت کے ہونے پردلیل کانہ ہونا(عورت اورشوہرکا دعوی کی نفی کرنا وغیرہ)

باقی سسرکابہوکے ساتھ اس حدتک بے تکلف ہونااوراس کے ساتھ اس طرح کاتعلق رکھنابہرحال نامناسب عمل ہے، حدسے زیادہ اس طرح کے تعلق کوکسی بھی معاشرہ میں اچھانہیں سمجھاجاتا،اس لیے سسرپرلازم ہے کہ آئندہ اس طرح کے تعلق سے مکمل اجتناب کریں۔

حوالہ جات

فی رد المحتار (ج 9 / ص 269):

( قوله : وأصل ماسته ) أي بشهوة قال في الفتح : وثبوت الحرمة بلمسها مشروط بأن يصدقها ، ويقع في أكبر رأيه صدقها وعلى هذا ينبغي أن يقال في مسه إياها لا تحرم على أبيه وابنه إلا أن يصدقاه أو يغلب على ظنهما صدقه ، ثم رأيت عن أبي يوسف ما يفيد ذلك .

وفی رد المحتار (ج 3 / ص 39):

قوله: (قبل أم امرأته الخ) قال في الذخيرة: وإذا قبلها أو لمسها أو نظر إلى فرجها ثم قال: لم يكن عن شهوة، ذكر الصدر الشهيد أنه في القبلة يفتى بالحرمة، ما لم يتبين أنه بلا شهوة، وفي المس والنظر لا، إلا إن تبين أنه بشهوة، لان الاصل في التقبيل الشهوة، بخلاف المس والنظر۔۔۔۔ حرمت امرأته إذا لم يظهر عدم اشتهاء، وهو صادق بظهور الشهوة وبالشك فيها، أما إذا ظهر عدم الشهوة فلا تحرم ولو كانت القبلة على الفم۔

وفی رد المحتار (ج 3 / ص 39):

ومنهم من فصل في القبلة فقال: إن كانت على الفم يفتى بالحرمة، ولايصدق أنه بلا شهوة، وإن كانت على الرأس أو الذقن أو الخد فلا، إلا إذا تبين أنه بشهوة.وكان الامام ظهير الدين يفتي بالحرمة في القبلة مطلقا، ويقول: لا يصدق في أنه لم يكن بشهوة.وظاهر إطلاق بيوع العيون يدل على أنه يصدق في القبلة على الفم أو غيره.وفي البقالي: إذا أنكر الشهوة في المس يصدق، إلا أن يقوم إليها منتشرا فيعانقها، وكذا قال في المجردة: وانتشاره دليل شهوته .

قوله: (على الصحيح جوهرة) الذي في الجوهرة للحدادي خلاف هذا، فإنه قال: لو مس أو قبل، وقال :لم أشته صدق، إلا إذا كان المس على الفرج والتقبيل في الفم وهذا هو الموافق لمسينقله الشارح عن الحدادي، ولما نقله عنه في البحر قائلا: ورجحه في فتح القدير وألحق الخد بالفم.

وقال في الفيض: ولو قام إليها وعانقها منتشرا أو قبلها وقال لم يكن عن شهوة لا يصدق، ولا قبل ولم تنتشر آلته وقال :كان عن غير شهوة يصدق، وقيل: لا يصدق لو قبلها على الفم، وبه يفتى.

فهذا كما ترى صريح في ترجيح التفصيل.

وأما تصحيح الاطلاق الذي ذكره الشارح، فلم أره لغيره، نعم قال القهستاني: وفي القبلة يفتى بها: أي بالحرمة ما لم يتبين أنه بلا شهوة، ويستوي أن يقبل الفم أو الذقن أو الخد أو الرأس.

وقيل: إن قبل الفم يفتى بها وإن ادعى أنه بلا شهوة، وإن قبل غيره لا يفتى بها إلا إذا ثبتت الشهوة ۔

وظاهره ترجيح الاطلاق في التقبيل، لكن علمت التصريح بترجيح التفصيل.تأمل.

قوله: (حرمت عليه امرأته الخ) أي يفتى بالحرمة إذا سئل عنها، ولا يصدق إذا ادعى عدم الشهوة إلا إذا ظهر عدمها بقرينة الحال، وهذا موافق لما تقدم عن القهستاني والشهيد، ومخالف لما نقلناه عن الجوهرة ورجحه في الفتح، وعلى هذا فكان الاولى أن يقول: لا تحرم ما لم تعلم الشهوة: أي بأن قبلها منتشرا، أو على الفم فيوافق ما نقلناه عن الفيض، ولما سيأتي أيضا، وحينئذ فلا فرق بين التقبيل والمس.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (ج 6 / ص 136):

ولو أخذت امرأة ذكر ختنها في الخصُومة وشدته وقالت: كان عن غير شهوة صدّقت۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

   ۱۵/جمادی الاولی ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب