| 85544 | طلاق کے احکام | صریح طلاق کابیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میں ...........ولد....... بیان کرتا ہوں کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی۔میری بیوی نے ملیر کورٹ میں مورخہ 25-10-2023 کو میرے خلاف خلع کا کیس دائر کیا تھا۔ جب کورٹ سے نوٹس آیا تو میں پیش ہوا اور جج صاحب کو بتایا کہ میری بیوی کے نام پر پنجاب میں 4 کنال زمین اور مکان ہیں۔ میں نے کہا کہ وہ یہ جائیداد واپس کریں گے تو میں طلاق دوں گا۔ اس پر جج صاحب نے اگلی تاریخ دے دی۔
اس کے بعد میرے سالے عمر فاروق نے جھوٹا مضمون بنا کر جامعۃ الرشید سے فتویٰ حاصل کر لیا۔ پھر مورخہ 30-12-2023 کو اس نے اپنے مضمون میں لکھا کہ میں نے طلاق لکھ کر دی ہے اور وہ میرا لکھا ہوا خط لے کر آیا۔ بعد ازاں، کورٹ سے دوبارہ نوٹس آیا کہ میں پیش ہوں، لیکن مورخہ 27-01-2024 کو میری بیوی نے کیس واپس لے لیا۔
مورخہ 22-03-2024 کو میری بیوی کے چچا نے مجھ سے فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ میری آپ کی بیوی سے بات ہوئی ہے، اور وہ زمین واپس کرنے پر تیار ہے۔ چچا نے مزید کہا کہ اگر میں طلاق لکھ کر دوں تو زمین میرے حوالے کر دی جائے گی۔ میں نے جواباً کہا: "جی ہاں، زمین میرے نام ہونے کے بعد میں طلاق لکھ کر دے دوں گا۔"یہ فون کال کی ریکارڈنگ میرے پاس موجود ہے، اور میں یہ ریکارڈنگ مفتی صاحب کو سنوا بھی سکتا ہوں۔ اگر میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہوتی، تو یہ لوگ مورخہ 22-03-2024 کو مجھ سے یہ کیوں کہتے کہ آپ طلاق لکھ کر دیں، تب زمین آپ کے حوالے کریں گے؟
مفتی صاحب، میں نے تمام تفصیل آپ کے سامنے رکھ دی ہے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ میرے لیے اب کیا حکم ہے؟میں نے آپ کے سابقہ فتویٰ اور کیس واپس لینے کی کاپی بھی اس استفتاء کے ساتھ منسلک کر دی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ اپنے پاس آئے ہوئے سوال کے مطابق جواب دیتا ہے۔ سوال کے صحیح یا غلط ہونے کی ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے۔ سابقہ سوال میں آپ کے سالے عمر فاروق صاحب کی طرف سے بھیجے گئے سوال میں چونکہ صراحتاً ایک طلاق لکھ دینے اور اس کے بعد دو طلاق دینے کا ذکر موجود تھا، جیسا کہ منسلکہ استفتاء کے خط کشیدہ عبارت سے واضح ہے، اس لیے ہم نے تین طلاقوں کا حکم لکھا تھا۔ اب آپ اپنے استفتاء میں اس کا انکار کر رہے ہیں، تو صورت حال یہ ہے کہ آپ میاں بیوی کے درمیان طلاق کے حوالے سے اختلاف ہے۔ آپ کی بیوی اور خاندان والے طلاق کے مدعی ہیں اور آپ مدعی علیہ ہیں۔
میاں بیوی کے درمیان طلاق کے حوالے سے اختلاف کی صورت میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر بیوی نے خود اپنے کانوں سے شوہر کے منہ سے یہ الفاظ سنے ہیں یا ان کے سامنے تحریر کیے گئے ہیں، تو اگر ان کے پاس دو معتبر مرد یا ایک مرد اور دو معتبر عورتوں کی گواہی موجود ہو تو تین طلاقیں واقع سمجھی جائیں گی، اور شوہر کے انکار کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔ اس صورت میں دونوں میاں بیوی اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ ایسی صورت میں اگر بیوی خود شوہر سے جان نہ چھڑا سکتی ہو، تو وہ عدالت سے رجوع کر کے ان سے کسی طریقے سے خلاصی حاصل کر سکتی ہے۔
اور اگر بیوی کے پاس گواہ نہ ہوں یا پورے نہ ہوں، تو طلاق کا ثبوت گو قضاءً نہیں ہوگا، مگر جب بیوی نے طلاق کے الفاظ خود شوہر سے سنے ہیں یا ان کے سامنے تحریر کیے گئے ہیں اور اس کو پورا یقین بھی ہے، تو ایسی صورت میں اس کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کو اپنی ذات پر قدرت دے اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرے۔ بلکہ اسے اس سے بچنے کی ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہیے، مثلاً مال دے کر خلع حاصل کرے یا شرعی قاضی یا شرعی پنچایت کے ذریعے کوشش کرے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو، تو عدالت کے ذریعے بھی خلع حاصل کر سکتی ہے۔ کیونکہ عام حالات میں عدالتی خلع کا اعتبار نہیں ہوتا، لیکن جب وہ ویسے ہی طلاق شدہ ہو، تو ایک ثبوت اور قانونی حمایت کے لیے عدالتی فیصلہ حاصل کر سکتی ہے۔
اگر ان میں سے کسی طریقے سے اس کے لیے جان خلاصی ممکن نہ ہو، تو اس مجبوری کی صورت میں اس کے لیے اس شخص کے ساتھ رہنے کا گناہ نہیں ہوگا، بلکہ پورا گناہ شوہر اور اس کی حمایت کرنے والوں پر ہوگا۔
بیوی کو اور اس کے بھائی کو اس موقع پر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر واقعاً شوہر نے طلاق نہیں دی نہ زبان سے اور نہ تحریر سے تو جھوٹ بولنےسے وہ سخت گناہ گار ہوں گے اور خداوند کریم کے ہاں قیامت کو جوابدہ ہوں گے اور اس طرح کرنے سے بیوی شوہرکے نکاح سے بھی نہیں نکلے گی اور آگے وہ نکاح بھی نہیں کر سکے گی، لہٰذا اپنی قبراور آخرت کو سامنے رکھتے ہوئے سچی بات پر عمل کریں اور کسی قسم کی غلط بیانی کر کے اپنی دنیا اور آخرت برباد نہ کریں۔
حوالہ جات
وفی الشامیة :
المرأۃ کالقاضی اذا سمعتہ او اخبرھا عدل لا یحل لھاتمکینہ‘ والفتویٰ علی انہ ‘ لیس لھا قتلہ ولا تقتل نفسھا بل تفدی نفسھا بمال او تھرب کما انہ‘ لیس لہ قتلھا اذا حرمت علیہ وکلما ہرب رد تہ بالسحر ، وفی البزازیۃ عن الا وزجندی انھا ترفع الا مر للقاضی فان حلف ولا بینۃ لھا فالا ثم علیہ اھ قلت اذا لم تقدر علی الفداء اوالھرب والا علی منعہ عنھا فلا ینافی ما قبلہ (شامی ص ۵۹۴ ج۱ باب الصریح)
وفی البحرالرائق :
والمرأۃ کالقضی اذ سمعۃ اواخبرھا عدل لا یحل لھا یمکینہ ھکٓذا قتصر الشارحون وذکر فی البزازیۃ وذکر الا
وزجندی انھا ء ر فع الا مرالی القاضی فان لم یکن لھا بینۃ تحلفۃ فان حلف فالاثم علیہ اھ ولا فرق فی البائن بین الواحدۃ والثلاث ا ھ وھل لھا ان تقتلہ اذ ارادجماعھا بعد علمھا بالبینونۃ فیہ قولان والفتوی انہ لیس لھا ان تقسم … الی قولہ … وعلیھا ان تفدی نفسھا بمال اوتھرب … الخ (البحرالرائق ص ۲۵۷ ج۳ باب الطلاق)
قال شمس الأئمۃ السرخسي: ما ذکر أنہا إذا ھربت لیس لہا أن تعتد وتتزوج بزوج آخر جواب القضاء، أما فیما بینہا وبین اللّٰہ تعالیٰ فلہا أن تتزوج بزوج آخر بعد ما اعتدت، کذا في المحیط۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکرہیۃ / الفصل الثاني ۵؍۳۸۶ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
امراۃ اذا ادعت علی الزوج انہ طلقہا فہی للزوج مالم یثبت الطلاق نہایہ.
(۲)ونصابھا ای الشھادۃ لغیر من الحقوق الخ کنکاح وطلاق رجلان او رجل و امرائتان (الدرا لمختار علی ہامش ردالمحتار کتاب الشھادۃ ج ۴ ص ۵۱۵۔ط۔س۔ج۵ص۴۶۵) ظفیر۔(۳)ونصابھا لغیرھا من الحقوق الخ کنکاح وطلاق رجلان اورجل وامرأتان (الدر المختار علی ہامش ردالمحتار کتاب الشھادۃ ج ۴ ص ۵۱۵۔ط۔س۔ج۵ص۴۶۵) ظفیر.
رد المحتار - (ج 12 / ص 388)
ومفاده أنه لو وطئها بعد الثلاث في العدة بلا نكاح عالما بحرمتها لا تجب عدة أخرى لأنه زنا ، وفي البزازية : طلقها ثلاثا ووطئها في العدة مع العلم بالحرمة لا تستأنف العدة بثلاث حيض ، ويرجمان إذا علما بالحرمة.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (ج 9 / ص 375)
فی سنن ابن ماجة (ج 2 / ص 152)باب من طلق ثلاثا في مجلس واحد 2024
حدثنا محمد بن رمح . أنبأنا الليث بن سعد ، عن إسحاق بن أبى فروة ،عن أبى الزناد ، عن عامر الشعبى قال : قلت لفاطمة بنت قيس :حدثينى عن طلاقك . قالت : طلقني زوجي ثلاثا ، وهو خارج إلى اليمن .فأجاز ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم .
سنن البيهقي الكبرى - (ج 7 / ص 339)
أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني أنا أبو أحمد عبد الله بن عدي الحافظ نا محمد بن عبد الوهاب بن هشام نا علي بن سلمة اللبقي ثنا أبو أسامة عن الأعمش قال كان بالكوفة شيخ يقول سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة والناس عنقا وآحادا إذ ذاك يأتونه ويسمعون منه قال فأتيته فقرعت عليه الباب فخرج إلي شيخ فقلت له كيف سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول فيمن طلق امرأته ثلاثا في مجلس واحد قال سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق رجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة قال فقلت له أين سمعت هذا من علي رضي الله عنه قال أخرج إليك كتابا فأخرج فإذا فيه بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فقد بانت منه ولا تحل له حتى تنكح زوجا غيره قال قلت ويحك هذا غير الذي تقول قال الصحيح هو هذا ولكن هؤلاء أرادوني على ذلك.
رد المحتار - (ج 10 / ص 448)
وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف - { فماذا بعد الحق إلا الضلال} وعن هذا قلنا لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف.
الفتاوى الهندية - (ج 10 / ص 196)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.
لو قال لزوجتہ أنت طالق طالق طالق طلقت ثلاثاً۔ (الأشباہ والنظائر ۲۱۹ قدیم)کرر لفظ الطلاق وقع الکل۔ (شامي ۴؍۵۲۱ زکریا)
أحكام القرآن للجصاص ج: 5 ص: 415
قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} منتظم لمعان: منها تحريمها على المطلق ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره، مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا; لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة، وذكر الزوج يفيد العقد، وهذا من الإيجاز واقتصار على الكناية المفهمة المغنية عن التصريح. وقد وردت عن النبي صلى الله عليه وسلم أخبار مستفيضة في أنها لا تحل للأول حتى يطأها الثاني، منها حديث الزهري عن عروة عن عائشة: أن رفاعة القرظي طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا نبي الله إنها كانت تحت رفاعة فطلقها آخر ثلاث تطليقات فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وإنه يا رسول الله ما معه إلا مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك".
وفی مسند أحمد مخرجا (14/ 123):
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنما أنا بشر، ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض، فمن قطعت له من حق أخيه قطعة، فإنما أقطع له قطعة من النار»
وفی صحيح البخاري:
عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أنبئكم بأكبر الكبائر قلنا: بلى يا رسول الله، قال: " الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وكان متكئا فجلس فقال: ألا وقول الزور، وشهادة الزور، ألا وقول الزور، وشهادة الزور " فما زال يقولها، حتى قلت: لا يسكت. (صحيح البخاري، كتاب الأدب، باب: عقوق الوالدين من الكبائر، ج:2، ص: 884)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
20/5/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


