| 85554 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ امید ہے کہ تمام علماء کرام بخیر و عافیت ہونگے میرا سوال اس طرح ہے : زید اور فاطمہ بھائی بہن ہیں جن کے والد کا انتقال بچپن میں ہوا تو انکے چاہنے والوں نے نادانی میں ان کے لئے کچھ رقم بینک میں فکس ڈیپازٹ (fix deposit) کی۔ اب ان پیسوں کے نکالنے کا وقت آپہنچا ہے۔ یہ پیسے فاطمہ کی شادی کے لیے جمع کیے گئے تھے۔ اب اس میں سے سود کے پیسے نکال دیے جائیں تو وہ رقم اتنی تھوڑی بچے گی کے اس میں فاطمہ کی شادی نا ممکن ہے، اور وہ بہت غریب بھی ہیں، تو کیا وہ سود کی رقم شادی وغیرہ کے خرچ میں استعمال کر سکتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سودی رقم استعمال کرناجائزنہیں۔اور نہ ہی سودی اکانٹ میں رقم رکھنی چاہیے۔البتہ اگرغلطی سےرکھ لی ہو تووصول کرنے کےبعد بلانیت ثواب فقراء ومساکین پرصدقہ کرناواجب ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:فی الأشباہ: كل قرض جر نفعا حرام .(رد المحتار:5/ 166)
قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ :وقد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قرض جر نفعا.
( بدائع الصنائع :6/ 83)
قال العلامۃالمرغینانی رحمہ اللہ : وقد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قرض جر نفعا.
( الهداية:3/ 100)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه. (رد المحتار :6/ 385)
قال الشیخ المفتی محمدتقی العثمانی أدام اللہ ظلّہ :فیجب علیہ أن یردہ إلی مالکہ أو إلی وارثہ بعد وفاتہ وإن لم یمکن ذالک لعدم معرفۃ المالک أووارثہ أو لتعذر الرد علیہ لسبب من الاسباب وجب علیہ التخلص منہ بتصدقہ عنہ من غیرنیۃثواب الصدقۃلنفسہ .(فقہ البیوع:1006/2)
محمدادریس
دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
/18جمادی الأولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن غلام محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


