03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی ،بیٹا اور بیٹی کے درمیان تقسیم میراث
85626میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

 محترم مفتی صاحب السلام علیکم! براۓ کرم وراثت کی شرعی تقسیم میں میری مدد فرمائیں۔ میرے ہم زلف کا کئی سال قبل انتقال ہو چکا ہے، جبکہ اب وراثت کی تقسیم ہونی ہے۔ ورثہ کی تفصیل و مکان کی مالیت درج ذیل ہے۔ مکان کی مالیت 9,000,000 ( نوے لاکھ) ورثہ ١۔ بیوہ حیات ہیں ما شاء الله ٢۔ لڑکا شادی شدہ ( ایک بیٹا عمر ١٢ سال تقریباً، ایک بیٹی عمر ٨ سال تقریباً) ٣۔ بیٹی بیوہ (٢ بیٹے عمر ١٨ اور ٩ سال تقر یباً اور ٢ بیٹیاں عمر ١٦ اور ٨ سال تقریباً) براۓ مہربانی شرعی طریقہ کے مطابق رقم اور کتنے فیصد ہوگی بتادیں۔ نوازش ہوگی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں مذکورہ ایک مکان سمیت جو منقولہ و غیر منقولہ مال ،جائیداداورسازوسامان چھوڑا ہے،  وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اس میں سےسب سے پہلے مرحوم کی تجہیز و تکفین كےمتوسط اخراجات اداكیے جائیں گے، بشرطیکہ کسی نے اپنی طرف سے تبرعًا ادا نہ کیے ہوں ، پھر اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ء ہو تو اس کو ادا کیاجائے گا،پھر اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی  ہو تو  بقیہ  مال  میں سےوہ ایک تہائی تک ادا کیا جائےگا۔

 اس کے بعد جو کچھ بچ جائے،اس کےکل 24 حصےکیے جائیں  گے،ان میں سے 14حصےمرحوم کےبیٹے کو ،7حصے بیٹی کو اور3حصےمرحوم کے بیوہ کو دے دیےجائیں گے ،جبکہ فیصدی لحاظ سے بیٹے کو58.33فیصد ،بیٹی کو 29.17اورمرحوم کے بیوہ کو12.5فیصد ملےگا۔

آسانی کےلیے نقشہ ملاحظہ فرمائیں :

نمبر شمار

ورثہ

کل:24حصے

100 فیصد

نوے لاکھ کی مالیت

1

بیٹا

14

58.33%

5250000

2

بیٹی

7

29.17%

2625000

3

زوجہ

3

12.5%

1125000

حوالہ جات

قال اللہ تبارک وتعالی :يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَولَٰدِكُم لِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ الأُنثَيَین.(النساء:11)

قال اللہ تبارک وتعالی :فَإِن كَانَ لَكُم وَلَدفَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكتُمۚ مِّنۢ بَعدِ وَصِيَّة تُوصُونَ بِهَآ أَودَين.(النساء:12)

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ :فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن.(الدر المختار:ص،762)

وقال رحمہ اللہ : ويصير عصبة بغيره البنات بالابن.(الدر المختارمع رد المحتار:775/6)

قال العلامۃ  نظام الدین رحمہ اللہ :وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث ...ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین،وھو یعصبھن.(السراجی في المیراث :ص،32)

وقال رحمہ اللہ :أماللزوجات فحالتان...والثمن مع الولد أو ولد الابن وإن سفل.(السراجی فی المیراث:32)

ارشاد احمدبن عبد القیوم 

دار الافتاءجامعۃالرشید ،کراچی

21/جمادی الاولیٰ1446ھ      

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ارشاد احمد بن عبدالقیوم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب