| 85569 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میں الحمد لله حافظ قرآن ہوں اور ابھی فی الحال عربی دوم میں زیر تعلیم ہوں اور میری عمر بیس سا ل کے قریب ہے اور مجھ سے بدفعلی ہوگئی ہے۔ میں نے اللہ سے بہت توبہ و استغفا ر کیا ۔تو غلط کاری پہلے سے کم ہوئی ہے۔لیکن پھر بھی کبھی کبھی ہوجاتا ہے، لیکن اب گندی فلمیں اورمشت زنی ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے پڑھائی میں دل نہیں لگتا اور جو یاد کرتا ہوں یاد نہیں رہتا۔میں اپنے والدین سے کہہ چکا ہوں کی میری شادی کرادیں ورنہ مجھے پھر اسی گناہ میں مبتلاء ہونے کا ڈر ہے ۔جب میں شادی کی بات کرتا ہوں تو پورے گھر والے مجھ پر آگ بگولہ ہوجاتے ہیں ،اور کہتےہیں کہ پڑھائی مکمل کرلو اس کے بعد شادی ہوگی، لیکن اگر شادی نہیں ہوگی تو مجھے خطرہ ہے کہ پھر وہ گناہ ہوجائےگا۔
سائل کی طرف سے تنقیح کے بعد یہ امور واضح ہوئے:
- سائل کا اپنا کاروبار نہیں ہے جس کی وجہ سے از خود شادی کے بعد اخراجات اٹھانے پر قادر نہیں ہے،لیکن والد صاحب کی ماہانہ دس لاکھ آمدنی ہے۔
- گھر والوں کے شادی کرانے پر راضی نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ فی الحال سائل کے بڑے بھائی کی شادی نہیں ہوئی،اور سائل کی پڑھائی بھی مکمل نہیں ہوئی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شادی کی شرائط میں سے ایک شرط یہ کہ اپنی بیوی بچوں کے اخراجات اٹھانے پر قدرت ہو۔لیکن صورت مسئولہ میں چونکہ سائل زیر تعلیم ہے اور کوئی ذریعہ معاش بھی نہیں ہے تو گھر والوں کو چاہیے کہ جب بچے کو گناہ میں مبتلاء ہونے کا ظن غالب ہے تو کسی مناسب جگہ پر نکاح کروادیں، تاکہ بچہ حرام کاموں سے محفوظ رہے، اور بچے کی پڑھائی مکمل ہونے تک شادی کے بعد کے تبرعاً اخراجات اٹھا لیں۔ لیکن اگر گھر والے اس پر رضامند نہیں ہیں تو سائل کو چاہیے کہ مسلسل روزے رکھے ، جیساکہ حدیث شریف میں ہے کہ اگر کوئی نوجوان شادی کے اخراجات وغیرہ پر قادر نہیں ہے تو اس کے لیے حرام کاموں سے بچنے کے لیے بہترین حل یہ ہے کہ مسلسل روزے رکھے،کیونکہ یہ شرمگاہ کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ ساتھ ساتھ اللہ جل شانہ سےدعا کرتے رہیں ،اور کسی بزرگ سے اپنا اصلاحی تعلق قائم کریں اور اپنے حالات ان کے سامنے رکھ کر اپنی ذات کی اصلاح کریں۔
حوالہ جات
(ويكون واجبا عند التوقان) فإن تيقن الزنا إلا به فرض نهاية وهذا إن ملك المهر والنفقة، وإلا فلا إثم بتركه بدائع. .... (قوله: وهذا إن ملك المهر والنفقة) هذا الشرط راجع إلى القسمين أعني الواجب والفرض وزاد في البحر شرطا آخر فيهما وهو عدم خوف الجور أي الظلم قال: فإن تعارض خوف الوقوع في الزنا لو لم يتزوج وخوف الجور لو تزوج قدم الثاني فلا افتراض، بل يكره. أفاده الكمال في الفتح ولعله؛ لأن الجور معصية متعلقة بالعباد، والمنع من الزنا من حقوق الله تعالى وحق العبد مقدم عند التعارض لاحتياجه وغنى المولى تعالى. اهـ. (الدر المختار مع رد المحتار :3/ 6)
ويمكن الحمل على اختلاف المراد فإنه قيد الخوف الواقع سببا للافتراض بكونه بحيث لا يتمكن من التحرز إلا به ولم يقيد به في العبارة الأولى، وليس الخوف مطلقا يستلزم بلوغه إلى عدم التمكن فليكن عند ذلك المبلغ فرضا وإلا فواجب. هذا ما لم يعارضه خوف الجور، فإن عارضه كره. قيل: لأن النكاح إنما شرع لتحصين النفس وتحصيل الثواب بالولد الذي يعبد الله تعالى. والذي يخاف الجور يأثم ويرتكب المحرمات فتنعدم المصالح لرجحان هذه المفاسد، وقضيته الحرمة إلا أن النصوص لا تفصل فقلنا بالشبهين اهـ.
(فتح القدير:3/187)
أخرج الإمام الترمذي في" سننه "(1/ 216)(الحدبث رقم:170)من حد يث علي بن أبي طالب: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "يا علي، ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا آنت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت كفئا".
أخرج الإمام البخاري في "صحيحه"(5/1950)(الحديث رقم:4779) من حديث عبد الله : كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم شبابا لا نجد شيئا فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا معشر الشباب، من استطاع الباءة فليتزوج، فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم، فإنه له وجاء.
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
22/جمادی الاولیٰ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


