03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جیل کی دھمکی سے تحریری طلاقنامہ پر دستخط
85543طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

میرے شوہر نے چپ کر دوسری شادی کی،جب مجھے پتا چلا تو میں نے اپنے شوہر کو کسی کیس میں جیل بھیجا،اور میری گواہی سے اسے پچیس سال کی سزا ہوسکتی تھی،اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شوہر سے ڈیمانڈ کی کہ یا مجھے چھوڑدو یا دوسری بیوی کو،اگر آپ نے دوسری بیوی کو نہیں چھوڑا تو میں آپ کے خلاف گواہی دے کر آپ کو سزا دلواؤوں گی،میں نے اپنے شوہر کو ڈرا،دھمکا کر فیصلہ کی ڈیمانڈ کی،میرے شوہر نے بہت سمجھانے کی کوشش کی،مگر میں اپنی ضد اور انا کی وجہ سے ڈٹی رہی،میرا شوہر میرے پاؤں میں ہاتھ لگا کر بولا کہ ضد کو چھوڑو اور اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ جاؤ، میں نے شوہرکو مجبور دیکھ کر ارادہ تبدیل کیا کہ اب فیصلہ نہیں لوں گی،پھر میر ابھائی آکر بولا کہ باجی آپ  فیصلہ لے لیں ،یہ مجبور ہے ،اس  کی مجبوری سے فائدہ اٹھالیں،میں خاموش کھڑی رہی،میرےبھائٰی نے جاکراسٹام پیپر پر وکیل سے طلاق نامہ لکھوا کر لایا اور میرے شوہر سے زبردستی دستخط کرنے کا  بولا کہ اگر آپ نے اس پر دستخط نہ کیے تو آج ہی آپ کے خلاف گواہی دے کر سزا دلوائیں گے،یااس پر دستخط کرکے اپنی جان چڑواؤ،میرے شوہر نے مجبور ہوکر دستخط کیے اور منہ سے طلاق نہیں دی،پھر اس کو پولیس کسٹڈی والے لے کر گئے،جب ایک سال بعد میرا شوہر رہا ہوکر آیا،اوراس نے مجھ سے رابطہ کیا ،بولا کہ زبردستی کی طلاق نہیں ہوتی،میں مجبور اور قیدی تھا۔اب قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کا حل بتادیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگرشوہرکو ظن غالب یایقین ہوکہ طلاق نامہ پر دستخط نہ کیے تو وہ پچیس سال جیل بجھوادیں گے ،اس کے پاس قانونی طور پر اس سزاسے خلاصی کا کوئی طریقہ کار نہیں تھا،اوریہامر اس کے لیے قابل برداشت نہ ہو،نیز دستخط کرتےوقت اس کی نیت طلاق کی نہیں تھی اور نہ ہی زبان سے طلاق کےکوئی الفاظ ذکر کیےہیں ،تو اس صورت میں دیانةً طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، دیانةً کا مطلب یہ ہے کہ اگر بیوی اس طلاقنامے کو دلیل بناکر طلاق کا دعوی نہیں کرتی تو طلاق نہیں ہے،تاہم اگرشوہر کو اس بات پریقین تھاکہ طلاق نامے پردستخظ نہ کرنےکی صورت میں ایساکچھ نہیں ہوگا، پچیس سال قید کی دھمکی محض وقتی طور پر صرف دباؤڈالنےکی حدتک ہے،جیساکہ بیوی کے خاموش ہوجانے اور بھائی کے تمام کاروائی میں حصہ لینے سے معلوم ہوتاہے،یا اس کے پاس قانونی طور پر اس سزا سے بچنے کا طریقہ کار تھا،یا اس نے زبان سے طلاق کے الفاظ کہے ہیں توایسی صورت میں طلاق نامےمیں مذکورہ طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔

بیوی کے لیے حکم یہ ہے کہ اگر بیوی کو شوہر سے قسم لے کر اطمینان حاصل ہوکہ اس نے شدید دباؤمیں آکر دلی رضامندی کے بغیر دستخط کیے ہیں توبیوی کے لیےشوہر کے ساتھ رہنے کی گنجائش ہےاور اگر بیوی کوشوہر کے واقعی مجبور ہونے کا دلی اطمینان نہ ہو تواس کےلیے شوہر کے ساتھ رہنا اوراس کو اپنے اوپر قدرت دینا شرعا جائز نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

حاشية رد المحتار" 3 / 271:

"وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اه ملخصا۔"

"رد المحتار" 10 / 458:

"وفي البحر: أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق ، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق ،لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية ۔"

"رد المحتار" 6 / 128:

"(و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال۔" 

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

22/ جمادی الاولی 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب