03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کافر ملک کی عدالت سے لیے گئے خلع کا حکم
85650طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

 کسی مسلمان کے خلاف نکاح وغیرہ کے شرعی معاملات میں انگریزی عدالت کا فیصلہ معتبر ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

غیرمسلموں کی  عدالت میں خلع کامقدمہ دائر کرنے کے نتیجے میں غیرمسلم جج کا خلع کافیصلہ دینا معتبر نہیں ہے؛ اس لیےکہ غیرمسلم جج کو مسلمان کے بارے میں  خلع یا فسخِ نکاح کااختیار نہیں ہے۔

حیلۂ ناجزہ میں ہے:

"لیکن اگرکسی جگہ فیصلہ کنندہ حاکم غیر مسلم ہوتواس کافیصلہ بالکل غیر  معتبر ہےاس کے حکم سے فسخ وغیرہ ہر گز نہیں ہوسکتا، (لأن الكافرليس بأهل للقضاء على المسلم كماهومصرح في جميع كتب الفقه.)حتٰی کہ اگررودادِ مقدمہ غیرمسلم مرتب کرےاورمسلمان حاکم فیصلہ کرے یابالعکس تب بھی فیصلہ نافذ نہیں ہوگا۔"

(الحیلۃ الناجزۃ،ص: 31)

"وہ حکام جج وغیرہ جوگورنمنٹ کی طرف سے اس قسم کے معاملات میں فیصلہ کااختیار رکھتے ہیں اگر وہ مسلمان ہوں اور شرعی قاعدہ کے موافق فیصلہ کریں تو اُن کاحکم بھی قضائے قاضی کے  قائم مقام ہوجاتاہے اور اگر مسلمان نہ ہوں تواُن کا فیصلہ کالعدم ہےحتٰی کہ اگر کئی ججوں یاممبروں  کی کمیٹی فیصلہ کرے تو اُن سب کامسلمان ہوناشرط ہے اگر ایک جج یاممبر وغیرہ بھی غیرمسلم ہو توشرعًا فیصلہ معتبر نہیں۔(الحیلۃ الناجزۃ، ص: 171)

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

22/ جمادی الاولی 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب