| 85651 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
اس خاتون نے غیر مسلم عدالت سے یک طرفہ خلع لینے کے بعد دوسری جگہ شادی کرلی ہے،کیا یہ نکاح
درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یکطرفہ خلع سے نکاح ختم نہیں ہوتا،جیساکہ سوال نمبر ایک میں گزر چکا ہے،نیز غیرمسلم ملک کی عدالت کے غیر مسلم جج کا فیصلہ مسلمان کے خلاف معتبر نہیں ہے،اس لیے صورت مسئولہ میں پہلا نکاح ختم نہیں ہوا ہے،لہذا دوسری جگہ شادی کرنا جائز نہیں ہے اور یہ دوسرا نکاح باطل ہے۔
حوالہ جات
وفی الھندیۃ (6/496):
لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة ، كذا في السراج الوهاج .
وفی الھندیۃ (3/132):
أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
22/ جمادی الاولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


