| 85615 | خرید و فروخت کے احکام | شئیرزاور اسٹاک ایکسچینج کے مسائل |
سوال
ٓن لائن مختلف چیزوں کی ٹریڈنگ میں ایک فیوچر ٹریڈنگ ہےاور اس میں ایک لانگ پوزیشن ہوتی ہے،مثلاً فیوچر ٹریڈنگ میں لانگ پوزیشن کا مطلب یہ ہے کہ ایک تاجر کسی اثاثے کی خریداری کر لیتا ہے کیونکہ اسے امید ہوتی ہے کہ مستقبل میں اس کی قیمت بڑھے گی۔ مثال کے طور پر فرض کریں کہ ایک تاجر کو لگتا ہے کہ سونے کی قیمت اگلے مہینے میں بڑھ جائے گی تو وہ ابھی سونا خرید لے گا تاکہ قیمت بڑھنے پر اسے نفع حاصل ہو۔ اگر قیمت بڑھ جاتی ہے تو تاجر اپنے سونے کو زیادہ قیمت پر فروخت کر کے منافع کماتا ہے، جبکہ اگر قیمت کم ہو جائے تو اسے نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
اسی طرح لیوریج ایک ایسی سہولت ہے جو بروکرز کی طرف سے فراہم کی جاتی ہے، جس کے ذریعے تاجر اپنی اصل سرمایہ کاری سے زیادہ کی پوزیشن کھول سکتے ہیں، یہ خاص طور پر اس وقت فائدہ مند ہوتا ہے،جب کسی تاجر کے پاس محدود سرمایہ ہو،مگر وہ زیادہ نفع کمانا چاہتا ہو۔ مثال کے طور پر اگر کسی تاجر کے پاس 1000 ڈالر ہیں اور وہ 5x لیوریج کا استعمال کرتا ہے تو وہ 5000 ڈالر کی پوزیشن کھول سکتا ہے۔ اگر قیمت اس کے حق میں بڑھتی ہے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے،لیکن اگر قیمت کم ہو جائے تو اسے زیادہ نقصان بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ لیوریج کے ذریعے لی گئی رقم اسے واپس کرنی ہوتی ہے،لہٰذالیوریج اور لانگ پوزیشن دونوں ہی فیوچر ٹریڈنگ میں اہم ہیں اور ان کا درست استعمال تاجر کے منافع اور نقصان پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔لیوریج پر منافع حاصل ہونے کی صورت میں ہمیں کسی قسم کا سود ادا نہیں کرنا پڑتا، جتنا ہم نے قرض لیا ہوتا ہے،ہمیں اتنا ہی واپس کرنا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم صرف اپنے سرمائے کے بغیر اضافی منافع کما سکتے ہیں، جبکہ سود کا بوجھ نہیں اٹھانا پڑتا۔جب آپ اپنی پوزیشن بند کرتے ہیں تو آپ کو صرف قرض لی گئی رقم واپس کرنی ہوتی ہے،لیکن فنڈنگ فیس یا چارجز ادا کرنے پڑ سکتے ہیں،یہ فنڈنگ فیس روایتی بینک سود سے مختلف ہوتی ہے اور یہ آپ کی ٹریڈنگ پوزیشن کی مدت پر منحصر ہوتی ہے،جب آپ لیوریج ٹریڈنگ کرتے ہیں تو ایکسچینج آپ کی پوزیشن کو منظم کرنے کے لیے لیکویڈٹی مارک لائن (یا مارجن کال لائن) کا استعمال کرتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب آپ کی پوزیشن نقصان میں جاتی ہےتو ایکسچینج آپ کو مارجن کال کرکے یا اپنی پوزیشن کو لیکویڈیٹ کرکے اپنے قرض کو محفوظ رکھ سکے۔
لیکویڈٹی مارک لائن کیا ہے؟
یہ لائن آپ کے اکاؤنٹ بیلنس اور قرضہ لی گئی رقم کے درمیان کے تعلق کو دکھاتی ہے، جب آپ لیوریج لیتے ہیں تو ایکسچینج آپ کو ایک کم سے کم مارجن کی مقدار مقرر کرتا ہے۔یہ کم سے کم مارجن کی مقدار اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ اگر مارکیٹ آپ کے خلاف جاتی ہےتو آپ کے پاس کچھ ایکوٹی (اپنا پیسہ) ہونا چاہیے جو نقصان کو کور کر سکے۔
مارجن کال اور لیکویڈیشن
مارجن کال:جب آپ کی پوزیشن نقصان میں جاتی ہے اور آپ کا اکاؤنٹ بیلنس اس کم سے کم مارجن کی ضرورت سے نیچے چلا جاتا ہےتو ایکسچینج آپ کو مارجن کال دیتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ آپ کو اپنے اکاؤنٹ میں مزید پیسے ڈالنے ہوں گے تاکہ آپ کی پوزیشن برقرار رہے۔
لیکویڈیشن: اگر آپ مارجن کال کو نظر انداز کرتے ہیں یا آپ کا اکاؤنٹ بیلنس مزید نیچے جاتا ہےتو ایکسچینج آپ کی پوزیشن کو زبردستی بند کر دیتا ہے، اسے "لیکویڈیشن" کہا جاتا ہے۔ یہ اس لیے ہوتا ہے تاکہ ایکسچینج اپنے خطرے کو منظم کر سکے اور جو قرض آپ نے لیا ہے اس کی وصولی کر سکے۔جب آپ لیوریج کے ساتھ ٹریڈنگ کرتے ہیں تو آپ ایکسچینج کو ایک مخصوص خطرہ دیتے ہیں،اگر آپ کی پوزیشن اتنی زیادہ نقصان میں جاتی ہے کہ آپ کی ایکوٹی (اپنا پیسہ) ختم ہو جاتی ہےتو ایکسچینج کو اپنے پیسے کا نقصان نہ ہو،لیے وہ آپ کی پوزیشن کو لیکویڈیٹ کرتے ہیں تاکہ ان کا قرضہ واپس مل سکے۔
مثال :
آپ نے *$1,000* کا لیوریج لیا ہے اور آپ کی ابتدائی سرمایہ کاری *$200* ہے۔اگر آپ کی پوزیشن مارکیٹ کے خلاف چلی جاتی ہے اور آپ کا نقصان *$180* ہو جاتا ہے، تو آپ کی ایکوٹی صرف *$20* بچی ہے۔اگر کم سے کم مارجن کی ضرورت *$50* ہےتو ایکسچینج آپ کو مارجن کال کرے گا۔اگر آپ مارجن کال پر جواب نہیں دیتے یا آپ کی ایکوٹی اور نیچے جاتی ہےتو ایکسچینج آپ کی پوزیشن کو لیکویڈیٹ کر دے گا۔لیکویڈٹی مارک لائن اور مارجن کال کا نظام ایکسچینجز کےنقصان کے خطرے کے انتظام کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے،جب آپ لیوریج کے ساتھ ٹریڈنگ کرتے ہیں تو ایکسچینج آپ کی پوزیشن کو محفوظ رکھنے کے لیے اقدام اٹھاتا ہے،اگر آپ کے نقصانات ان کے مقرر کردہ مارجن کی ضرورت سے زیادہ ہو جائیں۔یہ نظام اس لیے ہے تاکہ ٹریڈنگ پلیٹ فارم اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ کر سکے اور مارکیٹ کے استحکام کو برقرار رکھ سکے۔سوال یہ ہے کہ آن لائن فیوچر ٹریڈنگ میں یہ سارے کام جائز ہیں یا نہیں؟اس طرح کا کاروبار یا انویسٹمنٹ جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سب سے پہلے فیوچر ٹریڈنگ اور اس سے متعلق مختلف اصطلاحات ملاحظہ فرمائیں:
فیوچر ٹریڈنگ یعنی مستقبل کی تاریخ پرخریدوفروخت/عقود المستقبلیات(Future sale)
انویسٹوپیڈیا کے مطابق فیوچرز ایک معاہدہ ہوتا ہے، جس کے تحت مخصوص بنیادی اثاثہ(A Specific underlying asset ) کو کسی مستقبل کی تاریخ پر خریدنے یا بیچنے کاعقد(contract)کیا جاتا ہے۔ بنیادی اثاثہ کسی بھی قسم کی اشیاء(commodity)، سیکیورٹی(security)، یا دیگر مالیاتی آلہ(Financial Instrument) ہو سکتا ہے۔ فیوچرز کی تجارت میں خریدار کوعقدکے مطابق طے شدہ قیمت پر اثاثہ خریدنا ہوتا ہے یا بیچنے والے کو عقدکے مطابق طے شدہ قیمت پر اثاثہ بیچنا ہوتا ہے، خواہ مارکیٹ میں اس اثاثے کی قیمت کچھ بھی ہو، اور یہ عمل عقد کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ پر انجام پاتا ہے۔
مستقبل کی خریدوفروخت(Future Trade) میں بطور مبیع/معقود علیہ (subject matter)درج ذیل اشیاءکا رواج ہے:
- کموڈیٹی فیوچرز(Commodity futures)یعنی بنیادی اجناس جیسے مکئی، اور گندم وغیرہ
- کرپٹو کرنسی فیوچرز(Crypto currency futures) جیسے بٹ کوائن یا ایتھریم
- کرنسی فیوچرز(Currency futures): مختلف ممالک کی کرنسیز
- توانائی فیوچرز(Energy futures): بنیادی اثاثے یعنی خام تیل، قدرتی گیس، پٹرول، اور ہیٹنگ آئل (heating oil)
- ایکویٹی فیوچرز(Equities futures):اسٹاک مارکیٹ میں مستقبل کی کسی متعین تاریخ اور متعین قیمت پر شیئرز کی خریدوفروخت۔
- شرح سود فیوچرز(Interest rate futures):ٹریژریز(Treasuries) اور دیگر بانڈز(Bonds)کی شرح سود میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق ،تخمین(speculate) یا نقصان سے حفاظت(Hedge) کرنے کے لیے فیوچرزیعنی مستقبل کے سودے کرنا۔
- قیمتی دھاتوں کے فیوچرز(Precious metal futures) جیسے سونا اور چاندی۔
- اسٹاک انڈیکس فیوچرز(Stock index futures ):جن میں بنیادی اثاثے انڈیکس ہوتے ہیں،انڈیکس کے پوائنٹس میں تبدیلی کے ذریعے نفع یا نقصان طے کیا جاتا ہے۔
شرعی حکم
یاد رہےشریعت کی نظر میں "کسی قابل قیمت(Permissible and valuable) چیز کا دوسری قابل قیمت چیز کے ساتھ جانبین کی رضامندی سے تبادلہ "عقد خریدوفروخت (sale)کہلاتا ہے۔
عقدِخریدوفروخت کی بنیادی شرائط میں سے ایسی شرائط جن کا تعلق مبیع (subject matter) سے ہے،ان میں یہ شرائط بھی ہیں کہ مبیع (subject matter) عقد بیع کے وقت موجود (existence of goods)ہو،بائع (seller)کی ملکیت (ownership)میں ہو،بائع (seller)کےقبضہ حقیقی یا حکمی (Possession either physical or constructive) میں ہو،مقدور التسلیم (Transferable at the time of contract without any barrier) ہو۔
فیوچر ٹریڈنگ خواہ کسی بھی چیز کی ہواس میں مبیع(subject matter) سے متعلق شرائط نہیں پائی جاتیں،کیوں کہ عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ عقد کے وقت (At the time of contract)وہ چیز بائع(seller)کی ملکیت میں نہیں ہوتی،یا ملکیت میں ہوتی ہے لیکن قبضہ نہیں ہوتا،یا کسی حد تک قبضے کا تحقق ہوجاتا ہےلیکن مقدور التسلیم نہیں ہوتی،یا مقدور التسلیم بھی ہوتی ہے لیکن عاقدین(seller & buyer)کا ارداہ نہیں ہوتا کہ مبیع(subject matter)خریدار کےقبضے میں دی جائے،اس لیے کہ عام طور پر فیو چر ٹریڈ میں مبیع کا لین دین مقصود نہیں ہوتا ،بلکہ عقد کی انتہاء قیمتوں کے مابین فرق کی برابری پر ہوتی ہے۔لہٰذا عقدِخریدوفروخت کی بنیادی شرائط میں سے ایسی شرائط جن کا تعلق مبیع (subject matter) سے ہے،وہ شرائط نہ پائے جانے کی وجہ سے فیوچر ٹریڈنگ خواہ کسی بھی چیز کی ہو،ناجائزہے،اس سے اجتناب لازم ہے۔
شرعی نقطہ نظر سے فیوچر ٹریڈنگ کے ناجائز ہونے کی ایک اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ شریعت کی نظر میں خریدوفروخت کا عقد،ان عقود میں سے ہے ،جنہیں فوری طور پر مؤثر قرار دیاجانا ضروری ہے،یعنی مستقبل کی کسی تاریخ کی جانب منسوب کرنا درست نہیں،بلکہ فوری طور پر کم ازکم مبیع(subject matter)خریدار کے حوالے کرناضروری ہے،جبکہ فیوچر ٹریڈنگ میں بوقت عقد مبیع (subject matter)خریدار کے حوالے نہیں کی جاتی اورنہ ہی متعاقدین (seller & buyer) کا یہ ارادہ ہوتاہے۔
اسی طرح شرعی نقطہ نظر سے فیوچر ٹریڈنگ کے ناجائز ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عقد بیع(sale contract)میں عوضین(subject matter & price)میں سے ہر ایک کا مؤجل (deferred) ہونا جائز نہیں،جبکہ فیوچر ٹریڈنگ میں عوضین میں سے ہر ایک مؤجل ہوتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ فیوچر ٹریڈنگ خواہ کسی بھی چیز(شیئرز،انڈیکس،کموڈٹی،کرنسی وغیرہ) میں ہو،شرعاً ناجائز ہے،اس سے اجتناب لازم ہے،اس سے حاصل شدہ آمدن حرام اور واجب التصدق ہے۔
لانگ پوزیشن اور اس کا شرعی حکم
لانگ پوزیشن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ" کوئی شخص اس امید پر کوئی چیز خریدتا ہے کہ اس کی قیمت بڑھے گی اور وہ اسے بیچ کر نفع کمائے گا"۔عام طور پر لانگ پوزیشن کی صورت میں باقاعدہ خرید وفروخت ہوتی ہے،(بشرطیکہ آپشنز کے بغیر ہو)لہٰذا خرید فروخت کے نتائج بھی مرتب ہوتے ہیں کہ وہ چیز(subject matter) خریدار کی ملکیت میں آ جاتی ہے ،لیکن آگے بیچنے کے لیے شرعاً یہ ضروری ہے کہ مبیع(subject matter) بائع کی ملکیت کے ساتھ ساتھ اس کے قبضے میں بھی ہو،جبکہ اس صورت میں یہ امکان ہوتا ہے کہ مبیع ابھی قبضے میں نہ آئی ہو اور آگے بیچ دی جائے،جیسا کہ اسٹاک میں یہ ہوتا ہے کہ شیئرز ابھی سی ڈی سی(central depository company) اکاؤنٹ میں منتقل نہیں ہوتے اور آگے بیچ دیے جاتے ہیں،لہٰذا یہ صورت شرعاً جائز نہیں ،البتہ اگر لانگ پوزیشن لینے کے بعد باقاعدہ خریدار کے قبضے میں بھی خریدی گئی چیز آجائے،یعنی شرعاً قبضے کا تحقق ہوجائے تو آگے بیچنا جائز ہے۔
شارٹ پوزیشن اور اس کاشرعی حکم
شارٹ پوزیشن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ" کوئی شخص اس امید پر کوئی چیز بیچتا ہے کہ اسے مستقبل میں وہ حاصل ہوجائے گی اور وہ اسے خریدار کو دے دے گا،جبکہ بیچتے وقت اس کے پاس وہ چیز نہیں ہوتی"۔جب وہ چیز(شیئرز،کرنسی اور کموڈٹی وغیرہ)حوالے کرنے کاوقت آتا ہےتو شارٹ پوزیشن والے سرمایہ کار کو اپنی ٹرانزیکشن کی ذمہ داری پوری کرنی ہوتی ہے، یعنی انہیں مارکیٹ سے خرید کر فراہم کرنا ہوتا ہے،اس کے لیےاکثر اوقات شارٹ سرمایہ کار ان اشیاء کو مارجن اکاؤنٹ کے ذریعے بروکریج فرم سے قرض لے کر لیتا ہے تاکہ وہ یہ اشیاء خریدار کو دے سکے۔
شرعاً جو چیز بیچنے والی کی ملکیت میں نہ ہو اسے بیچنا جائز نہیں ہے،لہٰذا شارٹ پوزیشن/شارٹ سیل خواہ کسی بھی چیز (شیئرز،کرنسی،کموڈٹی وغیرہ) میں ہو، ناجائز ہے،اس سے اجتناب لازم ہے۔
خیارات(Options) کی صورت میں لانگ اور شارٹ پوزیشن اور اس کا شرعی حکم
خیارات(Options)
جن کی صورت یہ ہوتی ہے کہ متعین قیمت پر ایک متعین وقت کے لیےکسی چیزکی خریدوفروخت کا حق حاصل ہوتا ہے اور وہ چیز، بیچنے والے کے ہی ضمان میں رہتی ہے۔
اس کی دو قسمیں ہیں۔(۱)خیا ر الطلب (۲) خیار الدفع
خیار الطلب(Call Option)
خيار الطلب سے مراد کسی چیز کو خریدنے کا حق ہے۔مثلاً زید ،بکر سےروئی کی گانٹھیں خریدنے پر کال آپشن خریدتا ہے،تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ زید کو یہ حق حاصل ہےکہ وہ بکر سے تین ماہ تک جب چاہے روئی کی ہزار گانٹھیں خریدے، اس عرصے میں زیدجب بھی بکر سے طلب (Call) کرے گا ، بکر مطلوبہ گانٹھیں دینے کا پابند ہوگا، لیکن زید کےلئے ضروری نہیں ہے کہ وہ اس مدت میں یہ گانٹھیں خریدے بلکہ اسے اختیار ہے کہ چاہے توخریدے ورنہ نہ خریدے۔
خیار الدفع(Put Option)
خيار الدفع سے مراد کسی چیز کو بیچنے کا حق ہے،یہ خیار الطلب کی ضد ہے۔ اس میں بیچنے والے شخص کو تو خیار حاصل ہوتا ہے لیکن خریدارکے لئے لازم ہوتا ہے کہ وہ اسے خریدے۔ مثلا زید نے ساٹھ روپے کا ایک ڈالر خریدا، وہ اس کشمکش میں ہے کہ اگر یہ اپنے پاس رکھوں تو اس کی قیمت گرنے کا احتمال ہے اور اگر ابھی فروخت کر دوں تو ہو سکتا ہے کہ آئندہ قیمت بڑھ جائے اور میں نفع سے محروم رہوں،بکر اسے اطمینان دلاتا ہے کہ یہ ڈالر تم اپنے پاس رکھو، میں تین ماہ تک تم سے یہ ڈالر ساٹھ روپے میں خرید لوں گا۔اس صورت میں زید کو یہ ڈالر فروخت کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے، لیکن اگر وہ بیچے توبکر کے لئے اس کا خرید نا ضروری ہے۔
الخيار المركب (Straddle Option)
الخیار المرکب سے مراد خرید نے اور بیچنے (دونوں) کا اختیار ہے، بعض مرتبہ لوگ دونوں اختیار لے لیتے ہیں،مثلا زید نے بکر سے معاملہ کر کے بیچنے کا خیار لے لیا اور خالدسے معاملہ کر کے خریدنے کا خیار لے لیا،اب وہ بازار کے بھاؤ دیکھتا ہے،اگر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہو تو بیچنے کا خیار استعمال کرتا ہے جس سے نفع حاصل کرتا ہے اوراگر قیمت گر رہی ہو تو خریدنے کا خیاراستعمال کر کے کم قیمت پر مطلوبہ چیز خریدلیتا ہے۔
بیع الخيارات(Options) کا شرعی حکم
بیع الخيارات دراصل ایک حق کی بیع ہے،جو ایک فریق دوسرے کو فراہم کرتا ہے اور حق حاصل کرنے والا شخص دراصل یہ حق اس لئے خریدتا ہے تا کہ اسے آئندہ کسی مالی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔گویا یہ حق،دفع ضرر کے لئے خریدا گیا ہے،ورنہ اصالۃً کسی شخص کو ایسا کوئی حق حاصل نہیں جس کی وجہ سے کوئی دوسراشخص اسے کوئی چیز بیچنے یا خریدنے کا پابند کر سکےاورایسےحقوق جو اصالۃًمشروع نہیں ہوتے بلکہ دفع ضرر کے لئےحاصل کئے جاتے ہیں ان کی خرید و فروخت جائز نہیں۔ علامہ خالد الا تا سی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :۔
"إن عدم جواز الاعتياض عن حقوق المجردة ليس على إطلاقه بل فيه التفصيل، وهو أن ذلك الحق المجرد إن كان الشرع جعله لصاحبه لدفع الضرر عنه كحق الشفعةوحق القسم للزوجة وحق الخيار للمخيرة فالاعتياض عنه بمال لا يجوز… لأن صاحب الحق لما رضى علم أنه لايتضرر بذلك، فلا يستحق شيئا ".
ترجمہ:"حقوق مجردہ کی خرید و فروخت کے عدم جواز کا حکم علی الاطلاق نہیں بلکہ اس میں یہ تفصیل ہے کہ وہ حقوق جو اصالۃً مشروع نہیں،بلکہ دفع ضرر کے لئے ان کی اجازت دی گئی ہے، جیسے حق شفعہ،عورت کے لئے باری کا حق اور اپنےاوپرطلاق واقع کرنے کا اختیاررکھنے والی عورت کا اختیار،ان حقوق کی خرید و فروخت جائز نہیں، کیونکہ ان صورتوں میں جب صاحب حق اپنا حق چھوڑنے پر راضی ہو گیا تو معلوم ہوا کہ اس حق کے نہ ملنے سے اس کا کوئی نقصان نہیں ہے،لہٰذا وہ کسی عوض کا مستحق نہ ہوگا"۔
اسی طرح آپشنز کی بیع کے عدم جواز کی دیگر وجوہات بھی ہیں،مثلاًآپشنز کی خرید و فروخت میں بائع مشتری کو نہ تو کوئی مال دے رہا ہوتا ہے اور نہ ہی حق مال،بلکہ مشتری بائع کو جو عوض دے رہا ہوتا ہے، درحقیقت وہ بیع کے انتظار کا معاوضہ ہوتا ہے،اور بیع کا انتظار ایسی چیز نہیں جس کاعوض لینا جائز ہو۔
اسی طرح یہ معاملات جوابازی کے زیادہ مشابہ ہیں ،کیوں کہ اختیار کو فروخت کرنے والا عموماً خود بھی اس چیز کا مالک نہیں ہوتا جس کی بیع کا وہ التزام کرتا ہے،بلکہ وہ یہ التزام ان توقعات کی بنیاد پر کرتا ہے جس کا اس نے مستقبل میں تخمینہ لگایا ہے اور مشتری کا بھی یہی حال ہوتا ہےاور التزام ایسا حق نہیں ہے جو مشتری کی جانب منتقل ہو بلکہ ملتزم کی جانب سے وعدۂ محض ہے،اور اس جیسے وعدے پر عوض لینا درست نہیں ہے۔
مجمع الفقہ الاسلامی کے فیصلے کے مطابق آپشنز نہ مال ہیں نہ منفعت اور نہ مالی حق کہ اس کا عوض لینا درست ہو۔
۱۱۸ - بيع الاختيارات (Options)
ومن البيوع الشائعة في البورصات العالمية بيع الاختيارات. وهو عبارة عن التزام أحد الطرفين ببيع شيء أو شراءه بسعر متفق عليه خلال مدة معلومة. مثل أن يحتاج رجل إلى شراء حنطة في المستقبل، ولكنه يخشى أن يزداد سعره في السوق عند الشراء. فيأتى آخر، ويقول له: إنى ملتزم ببيع الكمية المطلوبة من الحنطة بسعر محدد اليوم، ولك الخيار في شراءها منى خلال مدة : أجرة نتفق عليها، ويتقاضى أجرةمقابل هذا الالتزام، ويُسمى ثمن الاختيار.وعلى عكس ذلك، ربما يُريد البائع أن يبيع شيئاً في المستقبل، ولكنه يخشى أن ينتقص سعره عند البيع، فيأتي آخر فيقول: إنى ملتزم بالشراء في ذلك التاريخ بسعر نحدده اليوم، ولك الخيار في أن تبيعه منى خلال مدة نتفق عليها. ويتقاضى الملتزم أجرة مقابل هذا الالتزام. ومثل هذه الاختيارات شائعة اليوم في بيع أسهم الشركات، والعملات، والسلع الدولية. وإن هذه البيوع باطلة في الشريعة الإسلامية، لأن البائع فيها لا ينقل إلى المشترى مالاً، ولا حقا ماليا، فهو من قبيل أكل أموال الناس بالباطل. ولا يمكن تخريجه على العربون، لأن ما يدفع من ثمن الاختيارات إنما يكون قبل البيع، والعربون إنما هو مشروع عند الحنابلة في عقد البيع، ولأن ثمن الاختيارات لا يحسب من ثمن المبيع إن وقع الشراء بعده. وقد ذكر الفقهاء أن الانتظار بالبيع لا تجوز المعاوضة عنه وأقرب ما ذكره الفقهاء في مثل هذا العقد ما قاله ابن قدامةرحمه الله تعالى:
"فأما إن دفع إليه قبل البيع درهماً، وقال: لا تبع هذه السلعة لغيري، وإت لم أشترها منك، فهذا الدرهم لك، ثم اشتراها منه بعد ذلك بعقد مبتدئ وحسب الدرهم من الثمن، صح، لأن البيع خلا عن الشرط المفسد.... وإن لم يشتر السلعة في هذه الصورة، لم يستحق البائع الدرهم، لأنه يأخذه بغير عوض، ولصاحبه الرجوع فيه، ولا يصح جعله عوضاً عن انتظاره وتأخير بيعه من أجله، لأنه لو كان عوضاً عن ذلك، لما جاز جعله من الثمن في حال الشراء، ولأن الانتظار بالبيع لا تجوز المعاوضة عنه. "
والواقع أن هذه التعاملات داخلة في المضاربات التي هي أشبه بالمقامرة منها بالبيع والتجارة. وذلك أن بائع الاختيار لا يملك عادةً ما يلتزم ببيعه، وإنما يدخل في هذا الالتزام على أساس التوقعات التي يخمنها للمستقبل، وكذلك المشترى.ولا يقاس هذا على الحقوق التي التحقت بالأعيان في جواز بيعها على أساس العرف والتي سبق أن ذكرنا جواز مبادلتها بالمال، لأنها حقوق مشروعة يملكها البائع قبل البيع، فينقلها إلى المشترى بثمن بخلاف الاختيارات، فإن هذا الالتزام ليس حقا يقبل الانتقال إلى المشترى، وإنما هو وعد محض من قبل الملتزم، ولا يجوز أخذ العوض على مثل هذا الوعد. وبذلك صدر قرار مجمع الفقه الإسلامي في دورته السابعة المنعقدة بجدة. ونص القرار ما يلي:
" إن المقصود بعقود الاختيارات الاعتياض عن الالتزام ببيع شيء محدد موصوف، أو شراءه بسعر محدد خلال فترة زمنية معينة، أو في وقت معين، إما مباشرة، أو من خلال هيئة ضامنة لحقوق الطرفين. إن عقود الاختيارات كما تجرى اليوم في الأسواق المالية العالمية هي عقود مستحدثة لا تنضوى تحت أي عقد من العقود الشرعية المسماة. وبما أن المعقود عليه ليس مالاً، ولا منفعة، ولا حقاً مالياً يجوز الاعتياض عنه، فإنه عقد غير جائز شرعاً. وبماأن هذه العقود لا تجوز ابتداء، فلا يجوز تداولها.(فقہ البیوع:۲۸۷)
آپشن میں لانگ پوزیشن (Long position in options)
جب کوئی شخص آپشن میں لانگ پوزیشن لیتا ہےتو اس کا مطلب ہے کہ اس شخص نے خیار الطلب(Call Option)یا خیار الدفع(Put Option)خریدا ہے۔
مثلاً: کسی اثاثے کے لئےخیار الطلب(Call Option)خریدا کیونکہ اس کا خیال ہے کہ اس کی قیمت اوپر جائے گی۔
یا کسی اثاثے کے لئےخیار الدفع(Put Option) خریدا کیوں کہ اس کا خیال ہےکہ اس کی قیمت کم ہوگی۔
گویا کہ آپشن میں لانگ پوزیشن (Long position in options) کا مطلب ہے کہ کسی شخص نے آپشن خریدا ہے اور قیمت کے بڑھنے یا کم ہونے سے فائدہ اٹھانے کی توقع رکھتا ہے۔
آپشن میں شارٹ پوزیشن (Short position in options)
جب کوئی شخص آپشن میں شارٹ پوزیشن لیتا ہےتو اس کا مطلب ہے کہ اس شخص نے خیار الطلب(Call Option)یاخیار الدفع(Put Option)بیچا ہے۔
مثلاً: کسی اثاثے کے لئے خیار الطلب(Call Option)بیچا کیونکہ اس کا خیال ہے کہ اس کی قیمت نہیں بڑھے گی یا کم ہوگی۔
یا کسی اثاثے کے لئےخیار الدفع(Put Option) بیچاکیوں کہ اس کا خیال ہےکہ اس کی قیمت کم نہیں ہوگی یا بڑھ جائے گی۔
گویا کہ آپشن میں شارٹ پوزیشن (Short position in options) کا مطلب ہے کہ کسی شخص نے آپشن بیچاہے اور قیمت کےکم ہونے یا بڑھنےسے فائدہ اٹھانے کی توقع رکھتا ہے۔
خلاصہ:
Long Positionآپشن خریدنا: خریدار کو توقع ہے کہ قیمت اوپر جائے گی (Call) یا نیچے جائے گی (Put)۔
Short Position آپشن بیچنا: فروخت کنندہ کو توقع ہے کہ قیمت اوپر نہیں جائے گی (Call) یا نیچے نہیں جائے گی (Put)۔
بنیادی طور پرآپشنز میں لانگ اور شارٹپوزیشنز کا مقصد قیمت کے اتار چڑھاؤ سے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے، مگر خریدنے اور بیچنے کا فرق ہوتا ہے۔
خیارات(Options) کی صورت میں لانگ اور شارٹ پوزیشن کا شرعی حکم
خیارات کی صورت میں لانگ اور شارٹ پوزیشن کا حکم وہی ہے جو مطلقاً آپشنز کی صورت میں ذکر کیا گیا ہےکہ جیسے مطلق آپشنز کی خرید وفروخت جائز نہیں ،ویسے ہی آپشنز میں لانگ اور شارٹ پوزیشن کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے،اس لیے کہ دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔
لیوریج (Leverage)اور اس کا شرعی حکم
لیوریج کا مفہوم جدید معاشی نظام میں یہ ہے کہ ایک شخص جو مخصوص کسی بازار(اسٹاک ایکسچینج، فاریکس وغیرہ)میں کاروبار کرتا ہے تو بسااوقات خریداری کے لیے اس کے پاس مکمل پیسہ نہیں ہوتاتو اسے اس مخصوص بازار کے بروکر سے سود پرادھار مل جاتا ہے(اور یہ سود، ٹرانزیکشن کمیشن کے علاوہ ہوتا ہے)،یہ اضافی رقم سے کاروبار کرنے کی سہولت (مالیاتی فائدہ اٹھانا)لیوریج (Leverage)کہلاتی ہے۔
لیوریج کی بنیاد پر کی گئی سرمایہ کاری میں مارجن(Margin)،مارجن کال(Margin call)اور لیکویڈٹی (Liquidity) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے،ان کی وضاحت کے بعد حکم ملاحظہ ہو۔
مارجن(Margin)
مارجن(Margin)وہ رقم ہوتی ہے جو سرمایہ کار اپنے بروکر سے قرض کے طور پر لیتا ہے تاکہ اضافی سرمایہ کاری کرسکے۔ کبھی مارجن کااطلاق اس فرق پر کیا جاتا ہے، جو کسی سرمایہ کاری کی کل قیمت اور اس پر لیے گئے قرض کے درمیان ہوتا ہے،اسی طرح مارجن ٹریڈنگ میں بطور ضمانت (Collateral)رکھوائی جانے والی رقم یا سیکورٹیزپر بھی مارجن کا اطلاق کیا جاتا ہے۔
مارجن ٹریڈنگ(Margin Trading)
وہ طریقہ کاروبارہے ،جس میں ایک سرمایہ کار قرض (مارجن) کا استعمال کرتا ہے تاکہ وہ کسی مالی اثاثہ (جیسے اسٹاک، بانڈز،کرنسی،کموڈٹی یا دیگر مالیاتی دستاویزات وغیرہ) کو خرید سکے۔یہ قرض حاصل کرنے اور اسے ادا کرنے کے لیے، سرمایہ کار اپنے پاس موجود رقم وغیرہ، بطور ضمانت (Collateral)فراہم کرتا ہے۔
مارجن اکاؤنٹ(Margin Account)
ایک ایسا بروکریج اکاؤنٹ ہوتا ہے، جس میں سرمایہ کار کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹ میں موجود کیش یا سیکیورٹیز(securities) کو قرض کے لیے ضمانت کے طور پر استعمال کرے، اس میں بروکر کو قرض دینے کی اجازت ہوتی ہے تاکہ سرمایہ کار مزید اثاثے خرید سکے۔
مارجن کال(Margin Call) اور لیکویڈیشن(Liquidation)
مارجن کے ذریعے لیوریج حاصل کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قرض لی گئی رقم کی ممکنہ واپسی کا اہتمام زیادہ سے زیادہ ہوسکے۔تاہم یہ فائدہ صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب سرمایہ کار کو نفع ہو،اگر نقصان ہو تو ایسی صورت میں قرض لی گئی رقم کی واپسی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔چونکہ قرض مارجن پر لیا جاتا ہے، لہٰذا متعین مارجن کم ہونے کی صورت میں متعین مارجن کی حد تک مارجن کا مطالبہ بروکر کی طرف سے کیا جاتا ہے ،جسے مارجن کال(Margin Call) کہتے ہیں۔
اگر مارجن کال(Margin Call) کے باوجود متعین مارجن کی حد،سرمایہ کار پوری نہ کرے تو بروکر پہلے سے موجود مارجن جو کہ بطور ضمانت(collateral)رکھا ہوتا ہے اس کے ذریعے اپنا قرض وصول کرلیتا ہے،اس عمل کو لیکویڈیٹ کرنا (Liquidate)کہتے ہیں۔
خلاصہ:مارجن ٹریڈنگ میں آپ بروکر سے قرض لے کر سرمایہ کاری کرتے ہیں، اور یہ قرض آپ کے اکاؤنٹ میں موجود اثاثوں کو ضمانت کے طور پر استعمال کرتے ہوئے فراہم کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کی سرمایہ کاری منافع دے تو آپ کے فائدے میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن نقصان کی صورت میں آپ کو اپنے قرض کو پورا کرنے کے لیے اضافی رقم فراہم کرنی پڑسکتی ہے، ورنہ بروکر آپ کی سیکیورٹیز کو بیچ کر اپنا قرض وصول کر سکتا ہے۔
مارجن کے ذریعے کاروبار کی ایک صورت ملاحظہ ہو:
فاریکس یا اسٹاک میں جو لوگ کاروبار کرتے ہیں ان کے پاس بسا اوقات پیسہ نہیں ہوتاتو خریداری کے لیے ان کو بینکنگ سسٹم سے براہ راست یا بروکر کے ذریعے قرضہ لینا پڑتا ہے۔ بازار میں خریداری کرنے والا جب ادھار کام کرنا چاہتا ہے تو کچھ پیسے اس کو بھی ملانے پڑتے ہیں اور بقیہ اس کو ادھار مل جاتا ہے۔اس کو کتنا ادھار مل سکتا ہے؟اس بارے میں ملکی قوانین اور بازار کی صورت حال کو دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے،پاکستان کے موجودہ قوانین کے تحت مار جن کم از کم 15 فیصد ضروری ہے،جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو100روپے کی ادھار خریداری کیلئے 15 روپے اپنے پاس سے ملانے ہوں گے،تا کہ وہ ادھار لےکرخریداری کرسکے،ادھار دینے کی جو حد بندی کی جاتی ہے یہ کریڈٹ لمٹ(credit limit) ہوتی ہے اورجتنی رقم خریداری کرنے والے کو دینی ضروری ہوتی ہے،وہ مار جن کہلاتی ہے۔قانون کی کم از کم 15فیصد کی حد کے ساتھ ہر بروکر اپنی مار جن کی لمٹ طے کرنے میں آزاد ہوتا ہے،وہ جتنی چاہے لمٹ رکھ سکتا ہے۔ لہٰذا اگر کسی کی مار جن لمٹ 50 فیصد طے کی گئی ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص جتنے پیسے جمع کروائےگا،اس سے دوگنی رقم اس کی قوت خرید طے ہو جائے گی۔ چنانچہ یہ شخص 50 لاکھ روپے جمع کروا کر ایک کروڑ روپےتک کی خریداری کی اجازت رکھتا ہے۔ اب جب یہ خریداری کرتا ہے تو ضروری نہیں کہ کل رقم سے خریداری کرے،یہ ممکن ہے کہ وہ خریداری 50 لاکھ تک کی یا اس سے کم کی کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص اپنی لمٹ کے اندر رہ کر جتنی کم یا زیادہ خریداری کرے،اس کا اختیار ہے۔ اپنے مار جن سے زیادہ کی جب خریداری کرتا ہے تو بقیہ رقم اس کو فائنانسنگ کے ذریعے یعنی سودی قرضے کی بنیاد پر مل جاتی ہے۔
شرعی حکم
مارجن کے طریقےسےاشیاءکی خرید وفروخت کرنا ،درج ذیل خرابیوں کی وجہ سے ناجائز ہے۔
(1) انویسٹر ،بروکرسے سودی قرض کا معاملہ کرتا ہے ،اور سودی قرض کا عقد کرناناجائز ہے۔
(2) بروکر اس شرط پر یہ قرض دیتا ہے کہ اشیاء کی خرید و فروخت اسی کے ذریعے کی جائے گی ، چنانچہ ہر بار ٹریڈنگ کے نتیجے میں وہ اپنا کمیشن بھی رکھے گا، یعنی طے شدہ سود کے علاوہ عموماً وہ یہ شرط بھی لگاتا ہے کہ اشیاء کی ٹریڈنگ اسی کے ذریعے کی جائے گی،جوکہ قرض پر مشروط منفعت کے تحت داخل ہے۔
(3) بسا اوقات مارجن لیتے ہوئے بروکر کے ساتھ قرض کا معاملہ محض صورتاً (دکھلاوے کے طور پر) ہوتا ہے اس لئے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہےکہ بروکرکے پاس خودوہ رقم موجود نہیں ہوتی، جس کی بنیاد پر انویسٹر اشیاء کی خرید و فروخت کرتا ہے،یعنی محض قیمت کے اتار چڑھاؤ کی بنیاد پردن کے اختتام پر سیٹلمنٹ (Settlement) ہو جا تی ہے۔لہٰذامارجن لے کر ٹریڈنگ کرنے سے بہرحال اجتناب لازم ہے۔
المبسوط للسرخسي :(12/ 109)
فأما الربا في اللغة: هو الزيادة. يقال: أربى فلان على فلان، أي زاد عليه. ويسمى المكان المرتفع ربوة لزيادة فيه على سائر الأمكنة. وفي الشريعة: الربا: هو الفضل الخالي عن العوض المشروط في البيع؛ لما بينا: أن البيع الحلال مقابلة مال متقوم بمال متقوم فالفضل الخالي عن العوض إذا دخل في البيع كان ضد ما يقتضيه البيع فكان حراما شرعا.
[المعیار الشرعی رقم(۲۱)،الأوراق المالیۃ (الأسہم والسندات)]
۳/۵۔لا یجوز شراء الأسہم بقرض ربوی من السمسار أو غیرہ(بیع الھامش Margin)کما لایجوز رھن السہم لذٰلک القرض.وینظر المعیار الشرعی رقم(۱۲) بشان الشرکۃ (المشارکۃ)والشرکات الحدیثۃ البند۴/۱/۲/۶.
[المعیار الشرعی رقم(۱۲)،الشرکۃ (المشارکۃ)والشرکات الحدیثۃ]
لایجوز شراء الأسہم بقرض ربوی من السمسار أو غیرہ لقاء رھن السہم.
اسی طرح یہ بھی سمجھیے کہ فی نفسہ مارجن لے کر ٹریڈنگ کرنا سودی معاملہ ہونے کی وجہ سے ناجائزاور حرام ہے،البتہ اگر انویسٹر مارجن لے کر جائز اشیاء کی خریداری کرتا ہے اور خرید و فروخت کے شرعی احکامات کا خیال رکھتے ہوئے نفع کماتا ہے تو ایسے نفع کا استعمال جائز ہے۔
سنن الترمذي (2/ 340)
حدثنا قتيبة حدثنا أبوعوانة عن سماك بن حرب ، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن ابن مسعود ، قال : لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الرباوموكله وشاهديه وكاتبه . وفي الباب عن عمر وعلى وجابر . حديث عبدالله حديث حسن صحيح .
صحيح مسلم (5/ 50)
حدثنا عثمان بن ابى شيبة واسحق بن ابراهيم (واللفظ لعثمان) قال اسحق اخبرنا وقال عثمان حدثنا جرير عن مغيرة قال سأل شباك ابراهيم فحدثنا عن علقمة عن عبد الله قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله قال قلت وكاتبه وشاهديه قال انمانحدث بما سمعنا حدثنا محمد بن الصباح وزهير بن حرب وعثمان بن ابى شيبة قالوا حدثنا هشيم اخبرنا أبو الزبير عن جابر قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال هم سواء.
(إعلاء السنن،ج:۱۴،ص:۵۴۸)
وقال الحنفية يبطل الشرط لكونه منافيا للعقد، ويبقى القرض صحيحا، وقولهم بطلان الشرط لكونه منافيا للعقد فيه تصريح بأن القرض إذا كان مشروطا بالمنفعة يلزم منه انقلابه بيعا، ولذا أبطلوا الشرط حفظا للعقد عن الانقلاب، وإلا لم يكن لإبطاله معنى، ومرادهم بكون القرض صحيحا، والشرط باطلا، أن المستقرض إذا قبض الدراهم التي استقرضها بالشرط يصير دينا عليه، ولا تكون أمانة غير مضمونة، وأما إن الإقراض والاستقراض بالشرط جائز فكلا، فقد صرح في "الدر" عن "الخلاصة "القرض بالشرط حرام، والشرط لغو، وفيه أيضاّ: واعلم أن المقبوض بقرض قائد كمقبوض بیع فاسد سواء اهـ (٢٦٦:٤ و ٢٧٠)، فثبت بذلك أن القرض المشروط بالنفع كالبيع عندهم، ولذا أبطلها الشافعي ومالك عقد القرض، والحنفية أبطلوا الشرط صونا له عن معنى البیع،فافھم.
شرعی احکامات کا خلاصہ اور جائز متبادل
آن لائن فاریکس ٹریڈنگ درج ذیل شرائط کےساتھ جائز ہے۔
- جائز چیز کی خریدو فروخت ہو۔
- لین دین حقیقی ہو ، صرف اکاونٹ میں ظاہر نہ کی جاتی ہو ۔
- چیز بیچنے والا اس کامالک ہواور بیچنے سے پہلے اس پر قبضہ بھی کیا ہو ۔
- عقد کی مجلس میں ہی مبیع (subject matter)پرحقیقتاً یا حکماً قبضہ کیا جائے۔
- کرنسی اور سونا چاندی کی خرید وفروخت میں کسی ایک عوض پر لازمی قبضہ کیا جائے۔
- بیع فوری ہو ، فیوچر یا فارورڈسیل نہ ہو،اسی طرح آپشز(options)،مارجن ٹریڈنگ،شارٹ سیل اوربلینک سیل کی صورت نہ ہو۔
[شارٹ سیل اوربلینک سیل میں فرق یہ ہے کہ شارٹ سیل میں فروخت کنندہ نے جو اشیاء بیچی ہوتی ہیں ان کی مقررہ وقت پر خریداری کے لیے پیسوں کا انتظام کر رکھا ہوتا ہے، جبکہ بلینک سیل میں ایسا انتظام بھی نہیں ہوتا، باقی غیرمملوک بیچنے کے سلسلہ میں اور ناجائز ہونے میں دونوں برابر ہیں]۔
ہماری معلومات کےمطابق آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کےموجودہ ماڈل میں ان شرائط کا عملاً خیال نہیں رکھا جاتا،اس لیےاس سے احتراز لازم اور اس پر کام کرنا ناجائز ہے ۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 505)
وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 561)
ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح وكذا الهبة والصدقة.
حوالہ جات
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
24/ .جمادی الاولی1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


