| 85541 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
2003 میں دادا کا انتقال ہوا، ورثہ میں دو بیٹیاں، ایک بیٹا اور ایک بیوی تھے۔ دادا نے میراث میں ایک مکان چھوڑا تھا۔
2005 میں بیٹے کا انتقال ہو گیا، اور بیٹے کے بیٹے نے 2012 میں مکان کی تعمیر کروائی۔ یہ مکان انہی کے استعمال میں رہا، اور مکان سے حاصل ہونے والا کرایہ وغیرہ بھی ان کے استعمال میں رہا ۔
2024 میں مکان 7,00,000 روپے میں فروخت ہوا۔ زمین کی قیمت تقریباً 2,50,000 روپے تھی، جبکہ باقی رقم تعمیر کی قیمت سمجھی گئی۔ بیٹے کا بیٹا کہتا ہے کہ مکان میں نے تعمیر کیا تھا، اس لیے میں زمین میں سے تمہیں حصہ دوں گا، مگر مکان میں سے نہیں دوں گا۔سوال یہ ہے کہ
کیا بہنوں کو زمین میں سے حصہ دیا جائے گا یا مکان میں سے بھی حصہ دیا جائے گا؟ براہِ کرم اس کی وضاحت فرمائیں۔جزاکم اللہ خیرا
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیٹے کے بیٹے نے جو تعمیر مشترکہ پلاٹ پر کی ہے، اگر اس نے وہ اپنی ذاتی رقم سے صرف اپنے لیے کی ہو اور ورثہ کو اس میں شریک کرنا مقصود نہ ہو، تو پھر وہ پوری تعمیر صرف اسی کی ہوگی،اوراس کی قیمت اسی کوملے گی،دیگرورثہ اس تعمیرمیں حصہ دارنہیں ہونگے، جبکہ پلاٹ اس کے اور دیگر ورثہ کے درمیان مشترک ہوگا اور شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔جس میں دادا مرحوم کی بیوی کو %12.5،ہر بیٹی کو% 21.875اوربیٹے کو% 43.75حصہ دیاجائے گا اورچونکہ بیٹا اب فوت ہو چکا ہے، تواس کا حصہ اب آگے اس کے ورثہ میں شرعی حصوں کے حساب سے تقسیم ہوگا۔
لیکن اگر بیٹے کے بیٹے نے مذکورہ تعمیر میراث کی مشترکہ رقم سے کی ہو یا سب ورثہ کو اس میں شریک کرنے کی نیت سے کی ہو، تو اس صورت میں پلاٹ کی طرح یہ تعمیربھی مشترک ہوگی اور دادا کی بیٹیوںسمیت تمام ورثہ کو اس مکان کی تعمیر میں بھی حصہ دیا جائے گا۔
حوالہ جات
وفی العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 81)
(سئل) في رجل بنى بماله لنفسه قصرا في دار أبيه بإذنه ثم مات أبوه عنه وعن ورثة غيره فهل يكون القصر
لبانيه ويكون كالمستعير؟(الجواب) : نعم كما صرح بذلك في حاشية الأشباه من الوقف عند قوله كل من بنى في أرض غيره بأمره فهو لمالكها إلخ ومسألة العمارة كثيرة ذكرها في الفصول العمادية والفصولين وغيرها وعبارة المحشي بعد قوله ويكون كالمستعير فيكلف قلعه متى شاء.
وفی الأشباه والنظائر - حنفي - (ج 1 / ص 219)
كل من بنى في أرض غيره بأمره ة فالبناء لمالكها.
فی رد المحتار(6/747سعید)
کل من بنی فی دار غیرہ بامرہ فالبناء لآمرہ ولولنفسہ بلاأمرہ فھولہ ولہ رفعہ.
جامع الفصولين (2 / 119):
"عده": كل من بنى في دار غيره بأمر فالبناء لآمره ولو بنى لنفسه بلا أمره يكون له وله رفعه إلا أن يضر بالبناء فيمنع ولو بنى لرب الأرض بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعاً كما مر.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
24/5/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


