03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ننواتے(خاص رواج )کےطور پر جانور لےکر ذبح کرنا(جھگڑے کے فیصلہ کے بعد پشتون روایات کے مطابق جانور ذبح کرنا)
85630ذبح اور ذبیحہ کے احکام ذبائح کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان عظام! اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں یہ رواج ہے کہ اگر دو فریقوں کے آپس میں کوئی جھگڑا ہو یا کسی ایک فریق کا کوئی شخص دوسرےفریق کے کسی آدمی پر چوری کا دعوی کرے یا ایک آدمی قومی قانون کی خلاف ورزی کرے ۔تو اس قوم کو راضی کرنے کے لیے یاجس سے جھگڑا کیا ہواس کو راضی کرنے کیلیے یا چوری کا  دعوی  جھوٹا ثابت ہوجائے۔ اس کو راضی کرنے کے لیے(جب اس کےمالی نقصانات کامعاوضہ طےکیاجائے اوردوسرے نقصانات کی تلافی اوردیگر تمام معاملات مکمل کیے جانے کے بعد صلح کے وقت الگ طورپر) اپنی طرف سے 4 یا5بکرے ننواتے کے لے آتے ہیں تو یہ  دوسرافریق،ان میں سے ایک 1یادو2 کو قبول کرکے ان کو ذبح کرتے ہیں اور باقی کو واپس کرتے ہیں۔ توان ذبح کیے ہوئے بکروں کوکھانا جائز ہے یا نہیں؟

تنقیح :علاقےکےایک معتمدعالم دین سےاس بارےمیں رائے لی گئی تو اس نے اس کو ہبہ واکرام پر محمول کیا کہ سارےمعاملات طے ہو جانے کے بعد اس طرح اکرام کےطور پرکیاجاتاہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب مالی نقصانات کامعاوضہ طےکیاجائےاور دوسرے نقصانات کی تلافی اورسارے معاملات مکمل ہوجانے کے بعد ایک فریق دوسرے فریق کوخوش کرنے کے لیے اپنے طرف سےکوئی جانورلے کر جاتا ہےتو یہ ہبہ کے حکم میں ہونے کی وجہ سے جائز ہے اور دوسرا فریق ایک یادو کو ذبح کرتا ہے تو وہ مہمانوں کے اکرام کے لیے ہے ۔ لہذامذکورہ صورت حال کے مطابق یہ بکرے لےکر ذبح کرنااوران کاگوشت کھانا جائزہے۔البتہ جب بھی بطور جبرلیےجائیں یا بطورجرمانہ کے دیےجانےلگے،تو ان کا لینا جائزنہیں ہوگا۔

حوالہ جات

 قال العلامۃ ابن النجیم رحمہ اللہ :وحكمها ثبوت الملك للموهوب له، غير لازم حتى يصح الرجوع والفسخ وعدم صحة خيار الشرط فيها.(البحر الرائق: 7/ 284)

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ : وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم. 

(رد المحتارعلی الدر المختار :5/ 688)

قال العلامۃ ابن النجیم رحمہ اللہ :وحكمها ثبوت الملك للموهوب له، غير لازم حتى يصح الرجوع والفسخ وعدم صحة خيار الشرط فيها.(البحر الرائق: 7/ 284)

وفی الھندیۃ:

وأماحكمهافثبوت الملك للموهوب له غيرلازم حتى يصح الرجوع والفسخ. (الھندیۃ:(374/4

قال العلامۃ ابن النجیم رحمہ اللہ :

وحكمها ثبوت الملك للموهوب له، غير لازم حتى يصح الرجوع والفسخ وعدم صحة خيار الشرط فيها.(البحر الرائق: 7/ 284)

 قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ :

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعيوالحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال. (البحر الرائق:5/ 44) ا

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:

والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال ).رد المحتار:4/ 62)

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ:

(ولو) ذبح (للضيف) (لا) يحرم لأنه سنة الخليل وإكرام الضيف إكرام الله تعالى. والفارق أنه إن قدمها ليأكل منها كان الذبح لله والمنفعة للضيف أو للوليمة أو للربح، وإن لم يقدمها ليأكل منها بل يدفعها لغيره كان لتعظيم غير الله فتحرم ).  رد المحتار:(310/6

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :

واعلم أن المدار على القصد عند ابتداء الذبح فلا يلزم أنه لو قدم للضيف غيرها أن لا تحل لأنه حين الذبح لم يقصد تعظيمه بل إكرامه بالأكل منها وإن قدم إليه غيرها، ويظهر ذلك أيضا فيما لو ضافه أمير فذبح عند قدومه، فإن قصد التعظيم لا تحل وإن أضافه بها وإن قصد الإكرام تحل وإن أطعمه غيره تأمل. (رد المحتار: 6/ 309)

قال العلامۃ الطوری رحمہ اللہ :

رجل ذبح للضيف شاة فذكر اسم الله عليها فقال: يحل أكله ولو ذبح لأجل قدوم الأمير أو قدوم واحد من العظماء وذكر اسم الله يحرم أكله لأنه ذبحها لأجله تعظيما له .(تكملة الطوري لبحر الرائق :8/ 192)

محمدادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

 /17جمادی الأولی1446 ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن غلام محمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب