| 85715 | نکاح کا بیان | نکاح کی وکالت کابیان |
سوال
حضرت! ایک لڑکی کی ایک لڑکے کے ساتھ فون پر بات چیت ہوئی، اس کے بعد ان لوگوں نے نکاح کا فیصلہ کیا نکاح بھی فون پر ہوا۔ نکاح کی صورت یہ تھی کہ لڑکے نے لڑکی کو کہا :’’ تمہاری طرف سے میں ایک وکیل بٹھا رہا ہوں، تمہیں منظور ہے؟‘‘ لڑکی نے کہا:’’ ہاں!‘‘ لیکن اس وکیل نے لڑکی سے کوئی سوال نہیں کیا اور نہ ہی لڑکی نے وکیل سے کہا :’’قبول ہے‘‘، کیا اس صورت میں نکاح واقع ہو چکا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
لڑکی کا لڑکے سے اس طرح فون پر بات چیت کرنا پھر والدین سے چھپ کر نکاح کر لیناحیا کے بالکل خلاف ہے ۔ نکاح بڑوں کی راہنمائی اور سرپرستی میں کرنا چاہیے۔ عام مشاہدہ ہے کہ جو نکاح اس طرح اپنی رائے سے والدین کی اجازت و مرضی کے بغیر کیے جاتے وہ دیر پا نہیں ہوتے۔نکاح تو ایسی چیز ہے جو مزاق میں بھی ہو جاتا ہے لہذا بہت احتیاط کرنی چاہیے۔
صورتِ مسئولہ میں نکاح اگر اولیاء کی اجازت کے بغیر ہوا ہے تو اس کے منعقد ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ لڑکا لڑکی کے ہم پلہ (کفو) ہو یعنی خاندان،دینداری،مالداری اور پیشہ کےلحاظ سےلڑکی کے برابر یا اس سے برتر ہو اور اگر ایسا نہیں ہے تو مفتیٰ بہ قول کے مطابق یہ نکاح منعقد نہیں ہوا۔ نکاح کے وقت گواہوں کی موجودگی میں لڑکی کا نام اور اس کے باپ دادا کا نام وغیرہ لینا کہ جس سےلڑکی کی پہچان ہو جائے نکاح کے درست ہونے کی لیے ضروری ہے۔لڑکی نے اپنے نکاح کی وکالت کے لیے اگر یوں کہا کہ کسی کو بھی میرے نکاح کا وکیل بنا دو تو اس کی یہ توکیل درست نہیں اورلڑکی کی طرف سے اس وکیل کا پڑھایا ہوا نکاح بھی منعقدنہیں ہوا اور اگر لڑکی نے لڑکے کو اختیار دیا کہ وہ اپنی مرضی سے کسی کو میرے نکاح کا وکیل بنا دے تو لڑکے کا لڑکی کی طرف سے کسی کو نکاح کا یوں وکیل بنانا درست ہو گا، لہذا اس وکیل کا پڑھایا ہوا نکاح بھی صحیح ہو گا ۔ اس وکیل کا لڑکی سے سوال کرنا اور لڑکی کا اسے’’قبول ہے‘‘کہنا ضروری نہیں ہے۔ اگر نکاح میں بیان کردہ تمام شرائط پائی جاتی ہیں تو نکاح منعقد ہو گیا ہے۔اگر لڑکا لڑکی اس نکاح کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں توسب کے سامنے اعلانیہ دوبارہ نکاح بھی کر لیں تاکہ والدین کی بدنامی نہ ہواور اگر برقرار نہیں رکھنا چاہتے تو لڑکا لڑکی کوطلاق دے دے۔
حوالہ جات
قال في الهندية:يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود. (الفتاوى الهندية: 1/ 294)
فال في الهندية:امرأة وكلت رجلا ليزوجها من نفسه فقال الوكيل بحضرة الشهود: ’’تزوجت فلانة ‘‘ولم يعرف الشهود فلانة لا يجوز النكاح ما لم يذكر اسمها واسم أبيها وجدها؛ لأنها غائبة والغائبة تعرف بالتسمية، كذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية: 1/ 268)
فال في الهندية:ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى-وهوقول أبي يوسف-رحمه الله تعالى-آخراوقول محمد-رحمه الله تعالى-آخرا أيضا........ولكن للأولياء حق الاعتراض وروى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أن النكاح لا ينعقد وبه أخذ كثير من مشايخنا رحمهم الله تعالى، كذا في المحيط والمختار في زماننا للفتوى رواية الحسن وقال الشيخ الإمام شمس الأئمة السرخسي رواية الحسن أقرب إلى الاحتياط، كذا في فتاوى قاضي خان في فصل شرائط النكاح ،وفي البزازية ذكر برهان الأئمة أن الفتوى في جواز النكاح بكرا كانت أو ثيبا على قول الإمام الأعظم، وهذا إذا كان لها ولي ،فإن لم يكن صح النكاح اتفاقا، كذا في النهر الفائق. (الفتاوى الهندية: 1/ 292)
محمد اسماعیل بن نجیب الرحمان
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
۲۷ جمادی الاولی ۱۴۴۶ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل ولد نجیب الرحمان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


