03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرعہ اندازی کی ایک خاص صورت کاحکم
85631سود اور جوے کے مسائلجوا اور غرر کے احکام

سوال

ہمارے علاقے میں دوکاندار ایک موبائل مثلا 21 yاس کی قیمت مارکیٹ میں 30 ہزار ہوتی ہے اور وہ اس کی قیمت 40 ہزار لگاتے ہیں پھر اس میں 70 بندوں کو جمع کرتے ہیں ہر بندے سے ماہانہ 2 ہزار روپے جمع کرتے ہیں پھر ان میں قرعہ اندازی ہوتی ہے جس کا قرعہ نکلے اس کو ایک موبائل دیا جاتا ہے اور وہ بیچ سے خارج ہو جاتا ہے پھر اگلے مہینے 69 بندے دو دو ہزار روپے جمع کرتے ہیں اور قرعہ اندازی کرتے ہیں جس کا نام نکلے اس کو بھی موبائل مل جاتا ہے اور وہ بھی بیچ سے خارج ہو جاتا ہے اس طرح ہر مہینے قرعہ اندازی ہوتی ہے اور دو دو ہزار روپے جمع کرتے ہیں جس کا قرعہ نکلے اسکو موبائل دیا جاتا ہے اور وہ بیچ میں سے نکل جاتا ہے 20 مہینوں تک یہی سلسلہ چلتا رہتا ہے جس کا قرعہ جلدی نکلے اس کو سستامو با ئل پڑ جاتا ہے اور جو 50 بندے باقی رہ جاتے ہیں آخر میں ان کو دو اختیار دیےجاتے ہیں وہ موبائل لے یا اس کو 30 ہزار روپے واپس کرتے ہیں حالانکہ 20 مہینوں کے اس کے 40 ہزار بنے تھے اور اس میں یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر موبائل کی قیمت مارکیٹ میں زیادہ ہو جائے تو اس کی جگہ کوئی اور اسی قیمت کا موبائل دیتے ہیں علاوہ از یں یہ کے جو شخص شروع میں ہی پانچ ہزار روپے جمع کرتا ہے، اس کو موبائل ایڈوانس میں دیے دیا جاتا ہے اور وہ بھی اسی طرح پیسے جمع کر تار ہتا ہے جب اسکاقرعہ نکل جائے تو وہ بھی خارج ہو جاتا ہے اس سارے معاملے کا شرعی حکم کیا ہے ؟

 نوٹ: علاقے کے علماء اس کو استصناع پر قیاس کرتے ہوئے جائز قرار دیتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مذکورہ میں ثمن مجہول ہونےکی وجہ یہ عقدہی فاسدہے۔لہذا اس کواستصناع پرقیاس کرکےجا ئز قراردینا درست نہیں ۔نیز اس میں قمار اور غررکی خرابی بھی ہےوہ اس طرح کہ مارکیٹ میں موبائل کی قیمت کم ہے جبکہ مذکورہ صورت میں اس کی قیمت زیادہ لگا ئی جاتی ہے اور مارکیٹ کے قیمت سے زیادہ یہ لوگ اس لیے دیں گے تا کہ اگرقرعہ اندازی میں  نام جلدی نکل آئےتوکم داموں میں موبائل مل جائےگا۔ چونکہ قرعہ اندازی میں نام آ نا موہوم ہےاس لیے جورقم قیمت سےزیادہ دی جائےگی،اس کاعوض بھی موہوم رہےگا۔ لہذا اس میں غررلازم ہونے کی وجہ سے بھی یہ جائز نہیں۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ :وحرم لو شرط) فيها (من الجانبين) لأنه يصير قمارا . (رد المحتار: 6/ 403)

وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ : لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص.(رد المحتار: 6/ 403)

قال الشیخ البرکتی رحمہ اللہ :القمار مصدر قامر هو كل لعب يشترط فيه غالبا أن يأخذ الغالب شيئا من المغلوب….. ثم عرفوه بأنه تعليق الملك على الخطر والمال في الجانبين.(قواعد الفقه : 434)

قال العلامۃ سلیم رستم باز رحمہ اللہ: یلزم أن یکون الثمن  معلوماًفلوجھل الثمن  فسد البیع.( شرح المجلۃ لسلیم رستم بازص :132:رقم المادۃ: 23 8)

       محمدادریس

دار الافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

/22جمادی الاولی1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن غلام محمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب