| 85616 | سود اور جوے کے مسائل | انشورنس کے احکام |
سوال
متحدہ عرب امارات میں ویزا کے لیے ہیلتھ انشورنس کروانا قانوناً لازم ہے۔ اس سلسلے میں تمام کمپنیاں اپنے ملازمین کی ہیلتھ انشورنس کرواتی ہیں۔ ہماری کمپنی نے ایک کمپنی سے تمام ملازمین کی ہیلتھ انشورنس کروائی ہے۔ لیکن انشورنس پریمیم کی آدھی رقم کی کٹوتی ملازمین کی تنخواہوں سے کی گئی ہےاور اس کٹوتی یہ انشورنس نہ کرنے کا اختیار ملازمین کو نہیں دیا گیا ۔ چونکہ انشورنس بذات خود حرام ہے اور بیان کردہ صورت میں یہ مکمل طور پر کمپنی کی طرف سے نہیں دی جا رہی بلکہ ہماری تنخواھ سے بھی اس میں حصہ ڈالا جا رہا ہے تو کیا اس صورت میں اس انشورنس کے ذریعے علاج معالجے سے استفادہ کرنا جائز ہو گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جوا اور سود کی وجہ سے انشورنس ممنوع ہے ۔ لیکن اگر کوئی شخص ایسےمقام پر اور ایسے ماحول میں ہوکہ انشورنس کروانا قانونی مجبوری ہو اور اس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو انشورنس کروا سکتا ہے ۔اور جتنا حصہ تنخواہ میں سے ڈالا جارہا ہےیاکمپنی کی طرف سے اس کے لیے جمع کروایا جا رہا ہے اس حد تک علاج کروا سکتا ہے ۔
حوالہ جات
قال اللہ سبحانہ وتعالی :و احل اللہ البیع وحرم الربوا. ( سورۃ البقرۃ:275)
قال اللہ سبحانہ وتعالی :انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ.(سورۃ المائدۃ:90)
فی قواعد الفقہ :قاعدة: الضرورات تبيح المحظورات.(قواعد الفقہ :89)
حمادالرحمن بن سیف الرحمن
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
۲۷ جمادی الاولی ۱۴۴۶ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الرحمن بن سیف الرحمن | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


