| 85696 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص سےاس کی بیوی نے کہا کہ یہ کہو:" اس گھر میں اگر میرا بھائی اور اس کی اہلیہ آئے تو آپ کو طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے" ۔ یہی الفاظ اس نے دہرائے۔ اس گھر میں اس شخص کے ساتھ ایک اور بھائی بھی رہتا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ:
- اگر وہ شخص گھر تبدیل کرتا ہے تو کیا وہ بھائی اس پرانے گھر جا سکتا ہے؟
- کیا وہ بھائی اس شخص کے نئے گھر جا سکتا ہے؟
نوٹ : دونوں بھائیوں میں صلح ہو چکی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس شخص نے اپنی بیوی کی تین طلاقوں کو بھائی اور اس کی اہلیہ کے گھر میں داخل ہونے کے ساتھ معلق کیا ہے، لہذا جب اس کا بھائی اور اس کی اہلیہ اس کے گھر میں داخل ہو ں گے(چاہے اکٹھے داخل ہوں یا الگ الگ)تو اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی اور وہ حرمتِ مغلظہ کے ساتھ اس پر حرام ہو جائے گی۔ البتہ اگر ان میں سے کوئی ایک داخل ہوا تو جب تک دوسرا داخل نہیں ہو گا تب تک طلاق واقع نہیں ہو گی ؛کیونکہ طلاق دونوں کے داخلے پر معلق ہے، لہذا اگر بھائیوں کی آپس میں صلح کے بعد صرف بھائی اپنے بھائی سے ملاقات کے لیےاس گھر میں آتا جاتا رہے تو اس سے طلاق واقع نہیں ہو گی، لیکن اگر بھائی کے ایک مرتبہ اکیلے وہاں جانے کے بعد کسی دن بھائی کی اہلیہ بھی اس گھر میں داخل ہو گئی(چاہے اکیلی داخل ہو یا شوہر کے ہمراہ) تو طلاق واقع ہو جائے گی۔
اگر وہ شخص گھر تبدیل کرتا ہے تب بھی دوسرے بھائی اور اس کی اہلیہ کے اس پرانے گھر میں جانے سے طلاق واقع ہو جائے گی؛ کیونکہ طلاق اسی خاص گھر میں داخلے کے ساتھ معلق ہے، البتہ نئے گھر میں (جہاں میاں بیوی رہتے ہوں) جانے سے طلاق واقع نہیں ہو گی ۔
حوالہ جات
قال جمع من العلماء رحمھم اللہ :وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا، مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.(الفتاوى الهندية:1/ 420)
وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: قوله:(الأيمان مبنية على الألفاظ إلخ) أي الألفاظ العرفية ........ لا على الأغراض أي المقاصد والنيات .........ودلالة العرف لا تأثير لها في جعل غير الملفوظ ملفوظا. إذا علمت ذلك فاعلم! أنه إذا حلف لا يشتري لإنسان شيئا بفلس ،فاللفظ المسمى وهو الفلس ،معناه في اللغة والعرف واحد، وهو القطعة من النحاس المضروبة المعلومة ،فهو اسم خاص معلوم لا يصدق على الدرهم أو الدينار، فإذا اشترى له شيئا بدرهم لا يحنث، وإن كان الغرض عرفا أن لا يشتري أيضا بدرهم ولا غيره، ولكن ذلك زائد على اللفظ المسمى غير داخل في مدلوله، فلا تصح إرادته بلفظ الفلس، وكذا لو حلف لا يخرج من الباب، فخرج من السطح لا يحنث، وإن كان الغرض عرفا القرار في الدار وعدم الخروج من السطح أو الطاق أو غيرهما،ولا يحنث بالغرض بلا مسمى.( رد المحتار :3/ 744)
وقال العلامۃ تفتازانی رحمہ اللہ: قوله:( الواو لمطلق الجمع) أي جمع الأمرين وتشريكهما في الثبوت .....ولا يدل على المعية والمقارنة أي الاجتماع في الزمان .....ولا على الترتيب .
(التلويح على التوضيح :1/ 187)
وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ:(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت، وعتق، وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار: أن يطلقها واحدة، ثم بعد العدة تدخلها، فتنحل اليمين، فينكحها. (الدر المختار ،ص:221)
سعد امین بن میر محمد اکبر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
27/جمادی الاولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سعد امین بن میر محمد اکبر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


