03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹےنےوالدہ کی اجازت سےوالدہ کی زمین پر ایک منزل تعمیرکی تو وہ کس کی ہوگی ؟
85668میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 سوال:ہماری والدہ کاایک منزلہ  گھر ہے ،والدہ کوچھوٹےبھائی نےاوپرکی ایک منزل بناکردی ،مگراس سےگھرکی ویلیومیں اضافےپر کوئی بات نہیں کی۔

اب ہماری والدہ  یہ گھربیچ کراپنی زندگی میں اپنی اولاد(صرف 3 لڑکوں) میں برابرحصہ دیناچاہتی ہیں،تاکہ بعدمیں مسئلہ نہ ہو۔

سوال یہ  ہےکہ کیاچھوٹےبھائی نےاوپرجورقم لگائی ہےوہ اس کوالگ سےگھر بکنےکےبعد دیں گےیاجو ٹوٹل قیمت میں گراؤنڈفلور کااضافہ ہواہےوہ بھی دےسکتی ہیں اگرچاہیں تو؟

                       

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بیٹےنے والدہ کی زندگی میں ان  کی اجازت سےمنزل بناکردی ہے،توچونکہ (سوال کی وضاحت کےمطابق )اس نےالگ سےویلیو وغیرہ کی بات نہیں کی ،اس لیےاوپرکی منزل بھی والدہ ہی کی شمارہوگی،ایسی صورت میں بعدمیں جب والدہ  3 بیٹوں میں یہ تقسیم کرناچاہتی ہیں توشرعا برابرتقسیم کرسکتی ہیں۔

ہاں اگربیٹااوپروالی منزل میں ذاتی ملکیت کادعوی کرےکہ یہ منزل میری ذاتی ہےتواس کادعوی شرعامعتبرہوگا،ایسی صورت میں اوپروالی منزل چھوٹےبیٹےکی ذاتی ہوگی اورزمین  والدہ کی شمارہوگی،بعدمیں  اگروالدہ مکمل گھر بیچنا چاہےتو اوپروالی منزل کی قیمت الگ سےبیٹےکی ہوگی ۔

چھوٹابیٹااگرراضی ہوتو سوال میں ذکرکردہ دونوں صورتیں اختیارکی جاسکتی ہیں۔

حوالہ جات

 "تنقيح الفتاوى الحامدية155/2:

والأصل أن من بنى في دار غيره بناءوأنفق في ذلك بأمر صاحبه كان البناء لصاحب الدار وللباني أن يرجع على صاحب الدار بما أنفق ۔

سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ وعن ورثہ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ ویکون کالمستعیر ﴿الجواب﴾نعم کما صرح بذلک فی حاشیہ الاشباہ عند قولہ من بنی فی ارض غیرہ بامرہ فہو لمالکھا ومسئلة العمارة کثیر ذکرھا فی الفصول العمادیة ،و الفصوولین ،وغیرھا وعبارة االمحشی بعد قولہ ویکون کا لمستعیر فیکلف قلعھا متی شاء ۔

"مجمع الضمانات 8 / 67:

كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره  ولو بنى لنفسه بلا أمره فهو له وله رفعه إلا أن يضر بالبناء فيمنع ۔

ولو بنى في دار غيره بأمره فالبناء لرب الأرض ، وقال بعضهم : البناء للباني ، ولو بنى بإذن رب الدار واستدلوا بما ذكر محمد أن من استعار من آخر دارا فبنى فيها بإذن ربها ، فالبناء للمستعير ، وهذا الاختلاف فيما أمر ولم يشترط الرجوع ، فأما لو شرط الرجوع بما أنفق ، فالبناء لرب الدار ، وعليه ما أنفق ألا يرى إلى ما ذكر محمد : أن من استأجر حماما ووكله ربه أن يرم ما استرم من الحمام ، ويحسب له ذلك من الأجر ففعل فالبناء لرب الحمام ، وللمستأجر على المؤجر ما أنفق۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

26/جمادی الاولی 1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب