03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کےبعد  والدہ  اگربیٹےکووالدسےملنےنہ دےتوکیابیٹاوالدکی وراثت کاحقدارنہیں ہوگا؟
85667میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 سوال:ہم جب بالغ ہوئےاورپتہ چلاکہ ہمارابھائی ایک اور ہےتوہم نےوالد صاحب کو مجبورکرکےایک دودفعہ ملاقات کی ،مگر اس کی والدہ نےپھربھی اچھی طرح ملنےنہ دیا،والدنےیہ بھی کہاکہ کالج کی فیسوں کایا کوئی  اورمسئلہ ہےتو بتاؤ،مگراس کی والدہ نےصاف انکارکردیاکہ نہیں، کوئی واسطہ نہیں  رکھناتوکیااب بعدمیں وراثت کامطالبہ  درست ہے؟ باقی ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، شرعاجوحکم ہوگاوہ کریں گے،ان شاءاللہ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ملنےنہ دینےاور واسطہ نہ رکھنےکی وجہ سےوراثت سےمحروم نہیں ہوگا،اسی طرح اگرشروع میں کالج کی فیس وغیرہ لینےسےمنع کیاہےتواس منع کرنےکی وجہ سےوراثت کاحصہ ساقط نہیں ہوا،اگروالدہ کےنام اورقبضہ میں دی گئی جائیدادکےعلاوہ والدکی  دیگر جائیدادموجود ہے(جس میں تمام ورثہ کےساتھ چوتھےبھائی کابھی حصہ بنتاہے)توشرعااس کومطالبہ کاحق ہےاوروہ دیگرورثہ سےاپناحصہ وصول کرسکتاہے۔

ہاں اگر باقاعدہ میراث کی تقسیم کےوقت وہ اپناحصہ لینےسےانکار کرکردے،اس طورپر کہ اس کواس کاوراثتی حصہ ملکیت میں دےدیاجائےپھروہ واپس کردےتوخاص اس صورت میں دوبارہ مطالبہ کاحق نہ ہوگا۔

حوالہ جات

۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

26/جمادی الاولی 1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب