03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث کی دوکانوں اور گھر کے کرایہ کاحکم
86117میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

والد کی چار دوکانیں کرائے پر ہیں،جن میں سے ابھی دودکان خالی ہیں،ایک دوکان کا کرایہ چھ ہزار روپے ہیں تو دو دوکان کا کرایہ 12 ہزار روپے آتا ہے،جب ابو زندہ تھے توتین بھائی سے 3ہزار روپے گھر میں رہنے کا کرایہ لیتے تھے،اور اب دوکان کا کرایہ دونوں بہن لینا چارہی ہیں،پر ایک بھائی راضی نہیں ہے،اب کیا کریں کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔اس کرایہ میں سے ہر بھائی کو تین ہزار روپے اور ہر بہن کو  پندرہ سو روپے ملیں گے،اگر کوئی بھائی اپنا حصہ دینے پر راضی نہیں ہے،تو اس کو مجبور نہیں کیا جاسکتا،البتہ بہنوں کی جو رقم بنتی ہیں وہ دینا لازم ہے،اور جو بھائی رقم میں سے اپنا حصہ خوشی سے دیناچاہتے ہیں وہ دے سکتے ہیں۔

2۔اس مشترکہ گھر میں جوبھائی رہتے ہیں،ان سے اس رہائش کے بدلے بقیہ بھائی اور بہن کرایہ کا مطالبہ کرسکتے ہیں،یہ ان کا شرعی حق ہے،لہذا باہمی رضامندی سے جو بھی کرایہ طے ہووہ ان ورثہ کودینا ضروری ہے جو اس مکان میں رہائش نہیں رکھتے ہیں۔

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

27/ جمادی الثانیہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب