| 85752 | طلاق کے احکام | وہ اسباب جن کی وجہ سے نکاح فسخ کروانا جائز ہے |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ محمد وقاص ولد خدا بخش کی منکوحہ مسماۃ ثمینہ بی بی دختر محمدصادق ہے ، جس کے بطن سے محمد وقاص کا پسر مسمی عبدالله پیدا ہوا، جو بقید حیات ہے اور محمد وقاص کے زیر کفالت ہے۔
ثمینہ بی بی مورخہ 13-03-24 کو ایک نا محرم شخص مسمی ظہیر احمد ولد حسین علی ساکن سورگ کے ساتھ بلاوجہ چلی گئی ۔ جس کے خلاف مقدمہ نمبر 24/157مؤرخہ 27-03-24تھانہ پنڈی گھیپ میں درج رجسٹر ہوا۔ ثمینہ بی بی نے فیملی جج صاحب بمقام سرگودھا کی عدالت میں رجوع اورتنسیخ نکاح کا دعوی محمد وقاص کے خلاف دائر کیا ۔ عدالت کی طرف محمد و قاص کو کوئی نوٹس موصول نہ ہوا ، نہ ہی محمد وقاص نے ثمینہ بی بی کو طلاق دی جبکہ ثمینہ نے مورخہ 24-06-24کو تنسیخ نکاح کی یک طرفہ ڈگری حاصل کرلی،قانوناًثمینہ بی بی کی مدت 24-09-24 کو مکمل ہو رہی تھی،جبکہ مورخہ 08-09-24کو ثمینہ بی بی اورظہیر احمد گاؤں واپس آگئے اور ظاہر یہ کیا کہ ہم نے نکاح کر لیا ہے،جو نکاح نامہ دکھایا گیا ہے اس پر نہ تاریخ درج ہے، نہ ہی گواہ اور نہ رجسٹرار کے دستخط اور مہر وغیرہ۔
1)مذکورہ صورت میں عدالتی طلاق یعنی ( ڈگری) واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
2)اگر طلاق واقع نہیں ہوئی تو محمد وقاص کیلئے شرعی حکم کیا ہے؟ رہنمائی فرما دیں۔
3)عدالتی طلاق کے بعد دوران عدت ظہیر احمد کا مذکورہ عورت کے ساتھ نکاح صحیح ہوا یا نہیں ؟
4)اگر نکاح صحیح نہیں ہوا جبکہ ظہیر احمد نے مذکورہ عورت کو اپنے پاس رکھا ہوا ہے،ایسی صور تحال میں ظہیر احمد اور ثمینہ بی بی کے ساتھ لوگوں کا اجتماعی معاملات ( خوشی غمی) میں شریک ہونا اور اپنے گھر میں پناہ دینا کیسا ہے؟
تنقیح:سائل(شوہر)نے فون کال پر بتایا کہ عدالت کی طرف سے انہیں کسی قسم کا نوٹس موصول نہیں ہوا،اس لیے وہ عدالت حاضر نہیں ہوئے،اسی طرح جو الزامات ثمینہ بی بی (بیوی)کی طرف سے ان پر لگائے گئے ہیں جن کا تذکرہ عدالتی فیصلے کی نقل میں موجود ہے،ان میں سے کوئی بھی الزام درست نہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ عدالتوں میں شوہر یا اس کے وکیل کی غیر موجودگی میں جو یک طرفہ طور پر خلع کی ڈگری دی جاتی ہے ،وہ خلع شرعاً معتبر نہیں ہے اور اس کی وجہ سے زوجین کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا ،اس لیے کہ خلع کے شرعاً درست ہونے کے لیے شوہر اور بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے،دونوں میں سے کسی ایک کی رضا مندی کے بغیر شرعاً خلع درست نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی عدالت یا جج کو شرعاً یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ زوجین میں سے کسی کی رضامندی کے بغیر خلع کا فیصلہ دے۔البتہ چند اسباب ایسے ہیں جیسے شوہر کا نامرد ہونا یا مجنون ہونا یا نان نفقہ نہ دینا یا شوہر کا ایسا گم ہوجانا کہ اس کی زندگی اور موت کا علم نہ ہوسکے یا شوہر کا بے جاظلم وستم اور مارپیٹ کرتے رہنا کہ اس کے ساتھ رہنا انتہائی مشکل ہوجائے وغیرہ،جن کے ثابت ہونے کے بعد شرعاً عدالت یا جج کو بھی یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ شوہر کی رضا مندی کے بغیرمیاں بیوی کے درمیان تفریق کردے ،جسے فسخ نکاح کہا جاتا ہے،بشرطیکہ مذکورہ اسباب شرعی طور پر ثابت ہوجائیں،جس کا طریقہ یہ ہے کہ عورت ان وجوہات کی بنیاد پر عدالت میں فسخ نکاح کا دعوی دائر کرے اور اپنے دعوی کو شرعی گواہوں یعنی دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کے ذریعے عدالت میں ثابت کردے یا گواہ نہ ہونے کی صورت میں مدعی علیہ یعنی شوہر قسم کھانے سے انکار کردے تو اس صورت میں عدالت ،مذکورہ وجوہات کی بنیاد پر فسخ نکاح کی ڈگری جاری کرسکتی ہے،اگرچہ شوہر اس پر راضی نہ ہو ۔نیز یہ بھی واضح رہے کہ اگر خلع کی درخواست پر عدالت یک طرفہ طور پر خلع کی ڈگری جاری کردے لیکن اس میں فسخ نکاح کے اسباب میں سے کوئی سبب پایا جاتا ہواور اس سبب کو عدالت میں ثابت بھی کردیا گیا ہو تو اگرچہ و ہ فیصلہ خلع کے طریقے سے معتبر نہیں ہوگا لیکن فسخ نکاح کی شرائط پائے جانے کی صورت میں وہ فیصلہ فسخ کے طریقے سے درست سمجھا جائے گا ۔
تمہید کے بعدآپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
1,3)چونکہ شوہر کو عدالت کی طرف سے کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا اور شوہر،بیوی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی تردیدکر رہا ہے،لہٰذاعدالتی فیصلے کی بنیاد پر طلاق واقع نہیں ہوئی اورثمینہ بی بی کا نکاح شوہر محمد وقاص کے ساتھ ختم نہیں ہوا،بلکہ بدستور برقرار ہے،اس لیےثمینہ بی بی کا دوسرا نکاح ظہیر احمد کے ساتھ درست نہیں ،باطل ہے۔
2,4)نکاح ہوجانے کے بعد عورت پر شوہر کے پاس رہنا لازم ہے،بلا عذر الگ ہونا حرام اور قابل تعزیر جرم ہے،لہٰذامذکورہ صورت میں اگر عورت بغیر کسی عذر کےاپنے شوہر کے ساتھ رہنے پر رضامند نہیں ہے تو خاندان کے افراد کو چاہیے کہ وہ اسے سمجھائیں اور بلاعذر طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنے والی خواتین سے متعلق وارد ہونے والی احادیث بھی ان کوبتلائیں،مثلاًایک حدیث کے مطابق ایسی عورت پر جنت کی خوشبو حرام ہے،یعنی جنت میں داخل ہونا تو دور کی بات ہے،جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گی،وغیرہ۔بالفرض اگر عورت کو سمجھانے سے بھی وہ باز نہ آئےتو ایسی صورت میں تفصیل یہ ہے کہ جانبین سے معاملے کی تحقیق کے بعد اگر قصور مرد کا ہے تو اس سے بلا معاوضہ طلاق کا مطالبہ کریں اور قصور عورت کا ہے تو اسے خلع کا مشورہ دیں کہ وہ مہر معاف کرکے (اگر وصول نہیں کیا )یا واپس کرکے(اگر وصول کرلیا ہے) چھٹکارہ حاصل کرے،تاکہ شوہر کوضرر نہ پہنچے،لیکن واضح رہے کہ طلاق یا خلع دینے کااختیار عورت کے پاس نہیں ہے، بلکہ یہ اختیار مرد کا ہے کہ وہ طلاق یا خلع دے یا نہ دے۔
یاد رہے کہ یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ عورت کسی اور شخص کے نکاح میں ہے،اس سے نکاح کرناناجائز اور حرام ہے،ایسانکاح باطل ہے ،نکاح باطل ہونے کے باوجو دمیاں بیوی کے طور پر ساتھ رہنا اور ازدواجی تعلقات قائم کرنا شرعاً حرام اور زنا کے زمرےمیں ہے،ان پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں اور صدقِ دل سے توبہ واستغفار کریں،لہٰذا خاندان کے افراد کو چاہیے کہ انہیں سمجھائیں اور ایک دوسرے سے الگ کریں،البتہ اگر سمجھانے کے باوجود باز نہ آئیں تو ایسی صورت حال میں انہیں اپنی غلطی کا احساس دلانے کے لیے ان سے قطع تعلق کرنااس وقت تک جائز ہے، جب تک کہ اپنے اس گناہ سے باز نہ آجائیں۔
حوالہ جات
أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية (ص: 165)
وأما القاضي فلا يطلق الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب و التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه.
حاشية ابن عابدين (3/ 498)
قوله ( وإلا بانت بالتفريق ) لأنها فرقة قبل الدخول حقيقة فكانت بائنة ولها كمال المهر وعليها العدة لوجود الخلوة الصحيحة ,بحر , قوله ( من القاضي إن أبى طلاقها ) أي إن أبى الزوج لأنه وجب عليه التسريح بالإحسان حين عجز عن الإمساك بالمعروف فإذا امتنع كان ظالما فناب عنه وأضيف فعله إليه.
المبسوط للسرخسي (6/ 173)
(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 440)
في التتارخانية وغيرها: مطلق لفظ الخلع محمول على الطلاق بعوض؛ حتى لو قال لغيره اخلع امرأتي فخلعها بلا عوض لا يصح (قوله: أو اختلعي إلخ) إذا قال لها اخلعي نفسك فهو على أربعة أوجه: إما أن يقول بكذا فخلعت يصح وإن لم يقل الزوج بعده: أجزت، أو قبلت على المختار؛ وإما أن يقول بمال ولم يقدره، أو بما شئت فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده.
بداية المجتهد ونهاية المقتصد (3/ 90)
المسألة الثالثة: وأما ما يرجع إلى الحال التي يجوز فيها الخلع من التي لا يجوز: فإن الجمهور على أن الخلع جائز مع التراضي إذا لم يكن سبب رضاها بما تعطيه إضراره بها.والأصل في ذلك قوله تعالى: {ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} [النساء: 19] وقوله تعالى: {فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229]۔
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (2/ 78)
وإن تزوج منكوحة الغير ووطئها إن كان لا يعلم أنها منكوحة غيره تجب العدة وتحرم على الأول إلى أن تنقضي العدة وإن علم أنها منكوحة لا تجب العدة ولا تحرم على الأول؛ لأنه حينئذ يكون زنا محضا.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 132)
أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا.
صحيح البخاري (4/ 1603)
ونهى رسول الله صلى الله عليه و سلم المسلمين عن كلامنا أيها الثلاثة من بين من تخلف عنه فاجتنبنا الناس وتغيروا لنا حتى تنكرت في نفسي الأرض فما هي التي أعرف فلبثنا على ذلك خمسين ليلة.
السنن الكبرى للبيهقي وفي ذيله الجوهر النقي (7/ 316)
عن ثوبان عن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال :" أيما امرأة سألت زوجها طلاقا فى غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة".
الدر المختار (3/ 441)
(ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمهر)…
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 441)
(قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع. اهـ. ط، وهذا هو الحكم المذكور في الآية، وقد أوضح الكلام عليه في الفتح آخر الباب.
الفتاوى الهندية (1/ 488)
إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع.وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۲۷.جمادی الاولی۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


