| 85659 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
زونگ سم والوں کا ایک پیکج آیا ہے جو چار ہزار کا لگتا ہے، جس میں منٹ اور انٹرنیٹ وغیرہ ملتے ہیں۔ اس پیکج میں پانچ بندے مشترکہ طور پر پیکج استعمال کرتے ہیں، جبکہ یہ دو سو جی بی ہوتا ہے۔ اس میں کوئی کم اور کوئی زیادہ انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے۔ اسے فیملی پیکج کہتے ہیں۔ تو پوچھنا یہ ہے:
١۔ کیا ایسا پیکج لگانا درست ہے؟
۲۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ فیملی پیکج سے شرکاء کی اجازت کے بغیر کسی اور کو ہاٹ اسپاٹ دینا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(١)سوال میں مذکور فیملی پیکج لگانا شرعاً جائز ہے، اگرچہ استعمال کرنے میں سب شرکاء کے درمیان تفاوت ہو۔ جیسے کہ ایک گھر مشترکہ طور پر کرایہ پر لے کر ہر شریک استعمال کرتا ہے اور اس میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کس نے کتنا استعمال کیا، بلکہ بالعموم ایسا معلوم کرنا ممکن بھی نہیں ہوتا۔ اس کی دوسری نظیر یہ ہے کہ بعض اوقات ایک سے زیادہ ساتھی رقم جمع کرکے ہوٹل میں کھانا کھاتے ہیں اور اس میں یہ متعین نہیں کیا جاتا کہ کون کتنا کھائے گا اور نہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس نے کتنا کھا لیا۔ اسی طرح پیکج میں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کس نے کتنا استعمال کیا۔ جب سب کو اجازت ہو کہ استعمال کریں، تو ہر شریک اپنی حاجت کے مطابق جتنا چاہے، اسے استعمال کر سکتا ہے۔(فتاوی جامعة الرشید46/23134)
(۲)فیملی پیکج کے شرکاء میں سے کسی شریک کا دیگر شرکاء کی اجازت کے بغیر کسی اور کو ہاٹ اسپاٹ دینا راجح قول کے مطابق صحیح نہیں ہے، کیونکہ یہ سب کی مشترکہ چیز ہے۔ لہٰذا، کوئی شریک اسے دیگر شرکاء کی اجازت کے بغیر کسی کو استعمال کے لیے نہیں دے سکتا۔ ہاں، اگر سب کی طرف سے اجازت ہو تو پھر دینے میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ جات
في ’’ صحیح البخاري ‘‘ :
لم یر المسلمون في النهد بأسًا ، أن یأکل هذا بعضًا وهذا بعضًا . (ص/۴۳۷ ، کتاب الشرکۃ ، باب الشرکۃ في الطعام والنّہد والعروض ، ط: احیاء التراث ، بیروت)
في ’’ فیض الباري ‘‘ :
والنهد أن ینُشر الرفقۃ زادهم علی سُفرۃ واحدۃ لیأکلوا جمیعًا بدون تقسیم ، ففیہ شرکۃ أولا وتقسیم آخرا ، ولا ریب أنہ تقسیم علی المجازفۃ لا غیر مع التفاوت في الأکل . (۴/۴ ، کتاب الشرکۃ ، ط: بیروت)
في ’’ صحیح البخاري ‘‘ :
عن أبي موسی قال : قال النبي ﷺ : ’’ إن الأشعریین إذا أرملوا في الغزو ، أو قلّ طعام عیالهم بالمدینۃ جمعوا ما کان عندهم في ثوب واحد ثم اقتسموہ بینہم في إناء واحد بالسویۃ فهم مني وأنا منہم. (ص/۴۳۷ ، حدیث : ۲۴۸۶)(۳)
في ’’ فیض الباري ‘‘ :
انہا لیست من باب المعاوضات التي تجري فیہا المماسکۃ أو تدخل تحت الحکم ، وإنما ہي من باب التسامح والتعامل ، وکیف تکون خلاف الإجماع مع أنہ قد جری بہ التعامل من لدن عهد النبوۃ إلی یومنا هذا ۔ (۴/۴ ، کتاب الشرکۃ ، ط: بیروت ، و:۳/۳۴۲ ، ط : رشیدیہ کوئٹہ)
في ’’ عمدۃ القاري ‘‘ :
هذا باب في بیان حکم الشرکۃ في الطعام ۔۔۔۔۔ قال الأزهري في [التهذیب] : النہد إخراج القوم نفقاتہم علی قدر عدد الرفقۃ ، یقال : تناهدوا ، وقد ناهد بعضهم بعضًا ، وفي [المحکم] : النهد العون ، وطرح نهدہ مع القوم أعانهم وخارجهم ، وقد تناهدوا أي تخارجوا ، یکون ذلک في الطعام والشراب ، وقیل : النهد إخراج الرفقاء النفقۃ في السفر وخلطها ویسمی بالمخارجۃ ، وذلک جائز في جنس واحد وفي الأجناس ، وأن تفاوتوا في الأکل ، ولیس هذا من الربا في شيء ، وإنما هو من باب الإباحۃ . (۱۳/۵۶ ، کتاب الشرکۃ ، باب الشرکۃ في الطعام الخ ، ط: رشیدیہ)
وفیہ أیضًا :
قولہ : ’’ لما لم یر المسلمون ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔ هذا تعلیل لعدم جواز قسمۃ الذهب بالذهب والفضۃ بالفضۃ مجازفۃ ، أي : لأجل عدم رؤیۃ المسلمین بالنهد بأسا ۔۔۔۔۔۔۔۔ فکما أن مبنی النهد علی الإباحۃ وإن حصل التفاوت في الأکل ۔ اھـ ۔ ۔۔۔۔ قولہ : ’’ أن یأکل هذا بعضًا ‘‘ تقدیرہ : بأن یأکل ، وأشارہ بہ إلی أنہم کما جوزوا النهد الذي فیہ التفاوت ۔ اھـ .(۱۳/۵۷ ، کتاب الشرکۃ)
وفیہ أیضًا :
وأجیب : بأن حقوقهم تساوت فیہ بعد جمعہ فتناولوہ مجازفۃ کما جرت العادۃ . (۱۳/۵۸)
و في ’’ فتح الباري ‘‘ :
ولکنہ اغتفر في النهد لثبوت الدلیل علی جوازہ ۔ (۵/۱۶۰، ط: دار السلام الریاض)
وفی العناية شرح الهداية (ج 12 / ص 396):
قال : ( ولا يجوز إجارة المشاع عند أبي حنيفة إلا من الشريك ، وقالا : إجارة المشاع جائزة ) وصورته أن يؤاجر نصيبا من داره أو نصيبه من دار مشتركة من غير الشريك .لهما أن للمشاع منفعة ولهذا يجب أجر المثل ، والتسليم ممكن بالتخلية أو بالتهايؤ فصار كما إذا آجر من شريكه أو من رجلين وصار كالبيع ولأبي حنيفة أنه آجر ما لا يقدر على تسليمه فلا يجوز ، وهذا ؛ لأن تسليم المشاع وحده لا يتصور ، والتخلية اعتبرت تسليما لوقوعه تمكينا وهو الفعل الذي يحصل به التمكن ولا تمكن في المشاع ، بخلاف البيع لحصول التمكن فيه ، وأما التهايؤ فإنما يستحق حكما للعقد بواسطة الملك ، وحكم العقد يعقبه والقدرة على التسليم شرط العقد وشرط الشيء يسبقه ، ولا يعتبر المتراخي سابقا ، وبخلاف ما إذا آجر من شريكه فالكل يحدث على ملكه فلا شيوع ، والاختلاف في النسبة لا يضره ، على أنه لا يصح في رواية الحسن عنه ، وبخلاف الشيوع الطارئ ؛ لأن القدرة على التسليم ليست بشرط للبقاء ، وبخلاف ما إذا آجر من رجلين ؛ لأن التسليم يقع جملة ثم الشيوع بتفرق الملك فيما بينهما طارئ .
وفی رد المحتار - (ج 24 / ص 264)
( قوله فلا يعول عليه ) بل المعول عليه ما في الخانية أن الفتوى على قول الإمام ، وبه جزم أصحاب المتون والشروح فكان هو المذهب ، أفاده المصنف وعليه العمل اليوم .
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
27/5/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


