| 85646 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
عدالت کا خلع کب معتبر ہو گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خلع دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد مالی ہےجس میں بیوی اپنے مہرکےعوض شوہرکےنکاح سے خلاصی حاصل کرتی ہے،جس طرح دیگر عقود مالیہ میں عاقدین یا ان کے وکلاءکی جانب سےایجاب وقبول شرعا ضروری ہو تا ہےتو اسی طرح خلع میں بھی ایجاب وقبول شرعا ضروری ہوگا ،اگر میاں بیوی کی طرف سے یا ان کے وکلاءکی طرف سے ایجاب وقبول پا یا جا ئے تو یہ خلع شرعا معتبر ہو گی ،اوراس سے ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی ،اوراگر عدالتی خلع میں شوہریا اس کےوکیل کی طرف قبول نہ پایا گیاتو یہ خلع معتبر نہ ہوگی۔
حوالہ جات
﴿فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا یُقِیمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡهِمَا فِیمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَعۡتَدُوهَاۚ وَمَن یَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُو۟لَٰۤئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ 229﴾ [البقرة: 229-230]
قال ابن الهمام رحمہ اللہ🙁وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به) لقوله تعالى {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} (فإذا فعلا ذلك وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال) لقوله صلى الله عليه وسلم «الخلع تطليقة بائنة»(فتح القدير: 4/ 211)
قال العلامة الكا ساني رحمه الله:وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول. (بدائع الصنائع : 3/ 145)
محمد اسماعیل بن محمداقبال
دارالافتاء جا معۃ الرشید کراچی
27/جمادی الاولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن محمد اقبال | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


