| 85682 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
میرے والد نے 82 سال سے زائد کی عمر میں انتقال سے صرف تیں ماہ قبل اپنی اولاد کے علم میں لائے بغیر اپنے مکان (جوکہ گراؤنڈ فلور اور فرسٹ فلور پر مشتمل ہے) کا گراؤنڈ فلور اپنی دوسری بیوی کے شدید دباؤ میں آ کر انہیں تحفے میں دینے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت میرے والد بہت بیمار اور کمزور ہو گئے تھے اور واضح طور پر سوچنے کے قابل نہیں رہے تھے، اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میرے والد کی دوسری بیوی نے بظاہر چالاکی سے ان سے اس گفٹ ڈیڈ پر دستخط کرا لیے (جو میرے والد نے بغیر پڑھے کر دیا) جس میں پورا گھر انہیں تحفے میں دیا گیا تھا، جس کے بعد جب اس دھوکا دہی کے بارے میں ان کی اولاد اور خاندان والوں کو پتہ لگا تو اس گفٹ ڈیڈ میں ہاتھ سے ترمیم کرا کے 50 % کے حصہ تک کر دیا۔ (خلاصہ میں اس وقت کے حالات اور پس منظر کو تفصیلا بیان کیا گیا ہے تاکہ مسئلے کو سمجھنے میں آسانی ہو) گفٹ ڈیڈ پر دستخط کے بعد نہ ہی میرے والد نے اپنی دوسری بیوی کو مکان کا قبضہ دیا تھا اور نہ ہی وہ خود کسی اور جگہ منتقل ہوئے اور نہ ہی سامان وغیرہ منتقل کیا، وہ مرتے دم تک اسی گھر میں رہتے رہے۔ اس صورت حال میں گفٹ ڈیڈ کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکور ہ تفصیل کے مطابق اس صورت میں بیوی کا اس مکان کے گراؤنڈ فلورپر قبضہ نہیں ہوا، کیونکہ مکان کا گراؤنڈ فلور صرف بیوی کے نام کرنے سے شرعا قبضہ مکمل نہیں ہوتا ، لہذا یہ ہبہ درست ہی نہیں ، مکان کا گراؤنڈ فلور بدستور ترکہ میں شامل ہےاور تمام ورثہ میں میراث کے قانون کے مطابق تقسیم ہوگا ۔
حوالہ جات
قال العلامة ابن عابدین رحمه الله: وإن اتصل اتصال مجاورة فإن كان الموهوب مشغولا بحق الواهب لم يجز،ولو وهب دارا دون ما فيها من متاعه لم يجز، وإن وهب ما فيها، وسلمه دونها جاز، كذا في المحيط شرح مجمع. (ردالمحتار : 5/691)
قال العلامة ابن عابدین رحمه الله: قولہ 🙁 وهبته) أي إذا اتصل بها القبض قبل موته، أما إذا مات ولم يقبض فتبطل الوصية ؛لأن هبة المريض هبة حقيقية، وإن كانت وصية حكما ،كما صرح به قاضي خان وغيره اهـ ط عن المكي.(ردالمحتار :6/680)
قال العلامة المرغیناني رحمه الله: قال: "ومن أعتق في مرضه عبدا أو باع وحابى أو وهب فذلك كله جائز، وهو معتبر من الثلث، ويضرب به مع أصحاب الوصايا". وفي بعض النسخ فهو وصية مكان قوله جائز، والمراد الاعتبار من الثلث والضرب مع أصحاب الوصايا لا حقيقة الوصية؛ لأنها إيجاب بعد الموت وهذا منجز غير مضاف، واعتباره من الثلث لتعلق حق الورثة. (الھدایۃ : 4/526)
محمد یونس بن امین اللہ
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
30 جمادى الأولىٰ، 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد یونس بن امين اللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


