03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بھائی بہنوں کے شادی پر اخراجات نہ اٹھانے کا حکم
85680نان نفقہ کے مسائلدیگر رشتہ داروں کے نفقحہ کے احکام

سوال

ایک شخص جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہوئے اپنی پوری تنخواہ والدین اور بھائی بہنوں سے چھپاتا رہے جبکہ اس کے بیوی بچے بھی والد کے گھر میں رہ رہے ہوں اور گھر میں کم خرچ دینے پرکہے کہ اپنے بہن بھائی کی شادیوں کے لیے جمع کر رہا ہوں اور پھر اس جمع کی گئی رقم سے اپنا الگ گھر بنالے یعنی ان کی شادیوں کے اخراجات نہ اٹھائے تو ایسے شخص کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے؟

سائل کی طرف  سے تنقیح کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ  گھر میں بہت کم خرچ دیتے تھے اور اس کی  وجہ  سے تنگی رہتی تھی لیکن چونکہ گھر والوں سے یہ کہتے تھے کہ شادی کے اخراجات کے لیے پیسے جمع کررہا ہا ہوں  مگر  پیسے جمع کرکے اپنے لیے گھر بنایا اور شادی کے اخراجات نہیں اٹھائے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جھوٹ بول کر پیسے جمع کرنا اور وعدہ خلافی کرنا حرام ہے اس پر توبہ استغفار کرے ،آئندہ کے لیے جھوٹ بولنے اور وعدہ خلافی سے گریز کیا جائے۔ اپنے وعدے کے مطابق بھائی بہنوں کی شادی میں اخراجات اٹھانے ضروری ہیں ،اگر مالی گنجائش کے باوجود ایسا نہ کرے گا تو سخت گناہ گار ہوگا، اب بھی اس کی تلافی کے طور پر حتی الوسع ادائیگیاں کرنا چاہیئں۔ تاہم اس کے باوجود اگر وہ رقم نہیں دیتا تو یہ اسی کی مملوک ہے،اس میں ہر قسم کے تصرف کا اسے حق حاصل ہے۔

حوالہ جات

أخرج الإمام أحمد في مسنده 🙁423/20)(الحديث رقم:13199) من حديث أنس قال: ما خطبنا النبي صلى الله عليه وسلم إلا قال: " لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له"

(و تجب أيضا لكل ذي رحم محرم صغير أو أنثى مطلقا ولو كانت الأنثى بالغة صحيحة أو كان الذكر بالغا لكن عاجزا عن الكسب بنحو زمانة) قوله: وتجب أيضا إلخ شروع في نفقة قرابة غير الولاد، وجوبها لا يثبت إلا بالقضاء أو الرضا، حتى لو ظفر أحدهم بجنس حقه قبل القضاء أو الرضا ليس له الأخذ، بخلاف الزوجة والولد والأبوين فإن لهم الأخذ قبل ذلك كما مر.

(الدر المختار مع رد المحتار:(627/3

أما القرابة التي بمحرمة للنكاح فلا نفقة فيها عند عامة العلماء خلافا لابن أبي ليلى واحتج بظاهر قوله تعالى {وعلى الوارث مثل ذلك} من غير فصل بين وارث ووارث، وإنا نقول: المراد من الوارث الأقارب الذي له رحم محرم لا مطلق الوارث، عرفنا ذلك بقراءة عبد الله بن مسعود - رضي الله عنه - وعلى الوارث ذي الرحم المحرم مثل ذلك ولأن وجوبها في القرآن العظيم معلولا بكونها صلة الرحم صيانة لها عن القطيعة فيختص وجوبها بقرابة يجب وصلها ويحرم قطعها ولم توجد؛ فلا تجب. (بدائع الصنائع :31/4)

انس رشید ولد ہارون رشید

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

/30جمادی الاولی1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

انس رشید ولد ہارون رشید

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب