03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کی وفات کے بعد بیٹے کا والد کا لیا ہو ا سودی قرض اتارنا
85801خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !حضرت میرا سوال ہے کہ ایک شخص کے والد نے ای ایم ائی کے نام پر گھر کا قرض لیا تھا۔ اب اس شخص  کی وفات کے  بعد  بیٹا ان پیسوں کی ادائیگی کر رہا ہے۔ اس ادائیگی سے بیٹے پر کوئی گناہ تو نہیں ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم شخص کے  بیٹے کو چاہیے کہ وہ کسی بینک یا مالیاتی ادارے سے جو شرعی  اصولوں کے مطابق غیر سودی فائنانسنگ  فراہم کرتا ہو بات کر کے  اس معاملے کوکسی اسلامی فائنانس کے طریقے پر منتقل کروائے۔ اگر کوشش کے باوجود ایسا نہ ہو سکتا ہو تو اس گھر کو جو والد صاحب کی ملکیت ہےچھڑوانے کے لیےجبری ادائیگیاں کر سکتا ہے۔اسے چاہیے کہ  دیگر ورثہ کو بھی اعتماد میں لے لے،تاکہ وراثت کی تقسیم کے وقت ان ادائیگیوں کا حساب گھر کی تقسیم میں کیا جا سکے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ  ابن نجيم رحمہ اللہ: الحاجة تنزل منزلة الضرورة، عامة كانت أو خاصة.......وفي القنية والبغية: يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح. (الأشباه والنظائر ،ص:79)

وقال العلامۃ  علی القاری رحمہ اللہ: أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلما ،فلا بأس به.(مرقاة المفاتيح :6/ 2437)

وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن  نفسه و ماله و لاستخراج حقّ له ليس برشوة، يعني في حق الدافع. (ردالمحتار6/423)

سعد امین بن میر محمد اکبر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

01/جمادی الثانیہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سعد امین بن میر محمد اکبر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب