| 85745 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
ث (عورت) اپنی والدہ کے ساتھ اکیلی،علیحدہ گھر میں رہ رہی تھی، ث کو شوہر نے ایک طلاق دےکر،علیحدگی اختیار کر کے دوسری شادی کر لی،اور ڈیڑھ سال تک رجوع نہیں کیا۔ کچھ وقت بعدث نے اپنے شوہر سے بذریعہ عدالت خلع کی ڈگری لی۔ اور اپنی عدت مکمل کی۔ ث کی،پہلےشوہر سے طلاق کے وقت سات سال کی بیٹی اور ڈھائی سال کا بیٹا بھی تھا۔
ک(مرد) کا،اپنی بیوی سے رشتہ بد چلنی کی وجہ سے معاملات خراب ہونےپر طلاق پر ختم ہوا۔
اس بیوی سے ک کےتین بیٹے تھے۔ک اور ث کو ایک شخص نے آپس میں ملوایا تا کہ دونوں آپس میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو کر ایک دوسرے اور بچوں کا سہارا بن سکیں۔ک اور ث نے تنہائی میں ملاقات کر کے اللہ اور رسول کو گواہ بنا کر ایجاب و قبول کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم بعد میں باقاعدہ نکاح کریں گے ۔ بعد ازاں ک نے ث کے ساتھ ویڈیو کال پر ث کے دو سگےعاقل و بالغ بھانجوں کی موجودگی میں دونوں کو گواہ بنا کے ایجاب و قبول کیا اور ملاقات ہونے پر حق مہر نقد ادا کر دیا۔ اس نکاح کا ث نے اپنے والد ،بھائی اور پورے خاندان کے سامنے اعلان بھی کیا۔ جبکہ ک نے بھی اپنے گھر والوں کے سامنے اس کا اعلان کر دیا۔ ث نے ک کے والد اور والدہ کی موجودگی میں بھی اس بات کا اقرار کیا کہ ہم نے ایجاب و قبول کیا ہے ۔ اس نکاح کے بعد ک متعدد مرتبہ ث کو مختلف ہسپتالوں میں بھی بغرض علاج ساتھ لے گیا اور وہاں موجود اسٹاف کے سامنے اپنا رشتہ میاں بیوی کا ظاہر کیا۔ اورہسپتال کی پر چیوں پر بھی میاں بیوی کا رشتہ لکھوایا۔ اسی طرح ث جب بھی ہسپتال گئی اس نے پر چیوں پر شوہر کے نام کی جگہ ک کا نام لکھوایا۔ اس نکاح کے وقت ث کی عمر چونتیس سال تھی جبکہ ک کی عمر اکتالیس سال تھی۔ اس واقع کےبعد ک کے والد اور والدہ باقاعدہ طور پر ث کے والد کے پاس رشتہ مانگنے گئے جس پرث کے والد نے نہ مانی جانے والی نا جائز شرائط رکھ کر بادی النظر میں انکار کر دیا۔مفتیانِ کرام سے گزارش ہے کہ شریعت کی روشنی میں مذکورہ حالات کو مد نظر رکھ کر فتوی عنایت فرمائیں کہ:
1۔ کیا یہ نکاح منعقد ہوا یا نہیں ؟
2۔ اگر یہ نکاح منعقد ہوا، لیکن اس نکاح کے گواہان یعنی ث کے بھانجے اپنے نانا اور خاندانی دباؤ کی وجہ سے اپنی گواہی سے مکر گئے ،تو ایسے گواہان کے متعلق کیا حکم ہے ؟
3۔ اگر یہ نکاح منعقد ہو، اس کے باوجود بھی ث کا والد بیٹی پر خاندانی دباؤ اور عملیات کے ذریعے اسکا نکاح کہیں اور کر دیتا ہے تو اس بارے میں بھی شریعت مطہرہ کا حکم ارشاد فرمادیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ نکاح منعقد ہونے کی ایک شرط یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی یا ان کے وکیل ایک ہی مجلس میں گواہوں کے سامنے ایجاب و قبول کریں،اگر کسی مجبوری کی بناء پرکال پر ہی نکاح کرنا ہو تو مجلس میں موجود کسی ایسے شخص کو وکیل بنادیا جائے جو ان کو جانتا ہو۔ صورتِ مسئولہ میں لڑکے اور لڑکی کے درمیان ایجاب اور قبول گواہوں کے سامنے ایک مجلس میں نہیں ہوا، اس لیے یہ نکاح فاسد ہے۔نکاح فاسد کا حکم یہ ہے کہ لڑکایا لڑکی زبانی طور پر کہہ دے کہ میں نے تجھے چھوڑدیاہے،اور بہتر ہے کہ اس کی اطلاع دوسرے کو بھجوادے،اگر اطلاع دینا مشکل ہوتو متارکت پرکم از کم دوگواہ بنادے،تاکہ بوقت ضرورت ثابت کرنے میں آسانی ہو، اسی طرح بعد میں دوسری جگہوں پر میاں بیوی کے طور پر اپنا تعارف کروانے سے بھی نکاح منعقد نہیں ہوگا۔
2۔نکاح کے بعد گواہوں کے منکر ہوجانے سے نکاح پر اثر نہیں پڑتا،یہاں بھی گواہوں کی اپنی گواہی سے پھر جانے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، اس لیے کہ یہ نکاح شروع سے ہی فاسد ہے۔
3۔جب لڑکی پر گھریلو دباؤ ہے،اور یہ رشتہ کامیاب ہونے کے بجائے خاندانی تنازعہ کی صورت اختیار کرے گا تو لڑکا اس کو چھوڑ دے،تاکہ آسانی سے وہ دوسری جگہ نکاح کرسکے۔
حوالہ جات
وفی البدائع (2/ 232):
وأما الذي يرجع إلى مكان العقد فهو اتحاد المجلس إذا كان العاقدان حاضرين، وهو أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد، حتى لو اختلف المجلس لا ينعقد النكاح بأن كانا حاضرین، فأوجب أحدهما، فقام الآخر عن المجلس قبل القبول، أو اشتغل بعمل یوجب اختلاف المجلس لا ينعقد؛ لأن انعقاده عبارة عن ارتباط أحد الشطرين بالآخر، فكان القياس وجودهما في مكان واحد، إلا أن اعتبار ذلك يؤدي إلى سد باب العقود، فجعل المجلس جامعا للشطرين حكما مع تفرقهما حقيقة للضرورة، والضرورة تندفع عند اتحاد المجلس، فإذا اختلف تفرق الشطران حقيقة وحكما، فلا ينتظم الركن.
" وفی الشامیة(3/21):
(قَوْلُهُ: وَشُرِطَ حُضُورُ شَاهِدَيْنِ) أَيْ يَشْهَدَانِ عَلَى الْعَقْدِ، أَمَّا الشَّهَادَةُ عَلَى التَّوْكِيلِ بِالنِّكَاحِ فَلَيْسَتْ بِشَرْطٍ لِصِحَّتِهِ، كَمَا قَدَّمْنَاهُ عَنْ الْبَحْرِ، وَإِنَّمَا فَائِدَتُهَا الْإِثْبَاتُ عِنْدَ جُحُودِ التَّوْكِيلِ".
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
02/ جمادی الثانیة 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


