| 85773 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
السلام علیکم !ایک گروپ ہے جس میں ہمیں کچھ کام دیا جاتا ہے جو کافی آسان ہوتا ہے صرف اور صرف چینل کو سبسکرائب کرنا، ووٹ ڈالنا ہوتا ہے اور گروپ والے بتاتے ہیں کہ کس کو ووٹ ڈالنا ہے،اس کے بدلے مجھے رقم ملتی ہےتقریبا ایک ووٹ کے سو روپے، تو کیا یہ رقم حلال ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر آپ کا کام صرف چینلز کو سبسکرائب کرنا ، ووٹ ڈالناہے تو یہ شرعی طور پر کوئی قابل قدرمقصود ی منفعت نہیں ہے جس کی اجرت لی جا سکے۔ لہذا صرف اس کام پر اجرت وصول کرنا جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ:لغةً: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعًا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ؛ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له:فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له؛ لأنها منفعة غير مقصودة من العين، بزازية. (الدرالمختارعلی رد المحتار:(4/6
قال العلامۃ فرید الدین رحمہ اللہ:وفي الھدایۃ: الإ جارۃ عقد علی المنافع بعوض،وفي الزاد:یرید بالعوض عوضاًھومال.(الفتاویالتاتارخانیۃ:15/3)
محمد مجاہد
دار الافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
4/جمادی الثانیہ، 6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مجاہد بن شیر حسن | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


