| 85741 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میری اورمیرے شوہر کی اکثر وبیشتر لڑائی ہوتی رہتی ہے اور میرا شوہر جب بھی غصہ میں آتا ہے تو کہتا ہے: "جا ،میں نے تجھے آزاد کردیا" کبھی کہا: "جا،تو آزاد ہے ،جوکرنا ہے، کرلیں" اسی طرح کے الفاظ کئی بار اور کئی مواقع پر استعمال کرچکاہے،اب اس کا کیا حکم ہوگا؟آیا طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر آپ کے عرف میں بیوی کولفظ آزاد کہناطلاق ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے تو ایسی صورت میں لفظ آزاد کے استعمال کرنے پر طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے،اگرچہ بولتے وقت طلاق کی نیت نہ ہو،لہذا اگر ایک یا دودفعہ کہا ہوتو شوہر کو عدت کےاندراندررجوع کاحق ہوگا،وہ رجوع کرسکتاہے،اور عدت کے بعد باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ نیانکاح کر سکتے ہیں۔اگر تین یا اس سے زیادہ دفعہ کہا ہوتو پھر بیوی حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے۔حلالہ شرعیہ کے بغیر رجوع یا نیا نکاح نہیں ہوسکتاہے۔اوراگرآپ کے عرف میں لفظ آزاد طلاق کے علاوہ بیوی کو دوسرے معنی میں بھی بولا جاتا ہو،مثلا برا بھلا،دورکرنے،ٹالنے وغیرہ کےمعنیٰ میں بھی استعمال ہوتاہو تو پھریہ الفاظ " کنایاتِ طلاق" شمار ہوں گے،لہٰذالڑائی کے دوران استعمال کرنے سے طلاقِ بائن ہو گی، اگرچہ اس وقت شوہر کی نیت طلاق کی نہ ہو،اس لئے شوہر نے لڑائی میں جب پہلی بار اس طرح کے الفاظ کہے تھے، تو اس وقت ان الفاظ سے قضاء ً ایک بائن طلاق واقع ہوگئی تھی ، پھر اس کے بعد جتنی بار بھی یہ الفاظ بولے ہوں ، ان سے کوئی اور طلاق واقع نہیں ہوئی، کیوں کہ ایک بائن طلاق کے بعد دوسری بائن واقع نہیں ہوتی ۔شوہر کو ایسی صورت میں رجوع کرنے کا حق نہیں، البتہ اگر شوہر نے اس سے پہلے یا بعد میں صریح الفاظ میں کوئی اورطلاق نہ دی ہو، تو اب دونوں باہمی رضامندی سے عدت کے اندر یا اس کے بعد نئے مہر کے ساتھ نکاح کرسکتے ہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار (3/296):
الكنايات (لا تطلق بها)قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب
فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث: ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حراما......(وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة.
حاشية ابن عابدين (3/ 301):
والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية.
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
04/ جمادی الثانیة 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


