03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تجدید نکاح کا طریقہ
85742نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

  اگر طلاق واقع ہوئی ہے تو تجدید نکاح کےلیے "وھبتک نفسک أو ملکتک نفسک" سے نکاح منعقد ہوجائے گا؟اگر نہیں توپھرنکاح کا بالکل مختصر طریقہ بتادیں،اگر طلاق کے بعد عدت وغیرہ کی شرط ہے تو وہ بھی بتادیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اوپر ذکرکردہ صورت کے مطابق اگر طلاق واقع ہوئی ہے تو پھرطلاق کے وقت سے عدت بھی شروع ہوجاتی ہے،تجدیدِ نکاح کا طریقہ بھی عام نکاح کی طرح  ہے، دو مسلمان عاقل بالغ مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ ایجاب و قبول کیا جائے، نکاح کے وقت خطبے کی  بھی فضیلت ہے،مگر نکاح اس کے بغیر بھی درست ہے،ہبہ اور تملیک کے الفاظ سے بھی نکاح منعقد ہوجاتاہے،تاہم اس کے لیے جملہ کی بناوٹ درست ہونی چاہیے،اوپر سوال میں موجود جملے درست نہیں ۔بہتر یہ ہے کہ اپنی مقامی زبان میں ایجاب وقبول کیاجائے

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

04/ جمادی الثانیة 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب