| 89347 | نکاح کا بیان | حرمت مصاہرت کے احکام |
سوال
میں نے دارالافتاء سے ایک سوال پوچھا تھا، جس کا نمبر یہ (65/87899)ہے ،اس میں میں نے یہ پوچھا تھا کہ کیا حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کے لیے صرف شہوت کافی ہے یا رغبتِ جماع بھی ضروری ہے؟ جس کا جواب موصول ہوا تھا۔ کہ حرمت ثابت ہونے کےلیے رغبتِ جماع ضروری ہے، صرف شہوت کافی نہیں ، آپ فتویٰ میں دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اس فتویٰ میں ایک چیز پوچھنے کے لیے میں نے مفتی محمدحسین صاحب سے رابطہ کیا جن کے فتویٰ پر تصدیقی دستخط ہیں۔ تو انہوں نے یہ فرمایاکہ یہ شرط شامل نہیں ہے، جس کی وجہ سے مجھے کافی پریشانی ہو رہی ہے۔
میرا اب سوال یہ ہے کہ براہ مہربانی آپ اس کی وضاحت فرمائیں کہ اگر کوئی آدمی کسی عورت کو غلط نیت سے یعنی شہوت سے، بغیر کسی کپڑے کے ہاتھ لگاتا ہے اور اسے انتشار ہو جاتا ہے، لیکن اس عورت کے ساتھ رغبتِ جماع نہ ہو تو کیا اس صورت میں حرمت ثابت ہو گی یا نہیں؟ کیوں کہ یہ شرط اس فتوے میں بھی ہے جو مجھے موصول ہوا اور ایک اور فتوے میں بھی ہے جس کا میں نے حوالہ( 70574) دیا تھا ،آپ سے گزارش ہے کہ سوال کو ویب سائٹ پر نہ ڈالیں اور جتنا جلدی ہو سکے جواب دے دیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید جاننا چاہیے کہ چھونے کے ذریعہ حرمتِ مصاہرت کی علت میں فقہائے کرام رحمہم اللہ کی عبارات مختلف ہیں اوریہ اختلاف دراصل شہوت کی تفسیر میں ہے،کیونکہ شہوت کے ساتھ کسی عورت کو چھونا ہی حرمتِ مصاہرت کا سبب ہے، بغیر شہوت کے چھونا بالاتفاق حرمتِ مصاہرت کا سبب نہیں، شہوت کی تعریف میں فقہائے کرام رحمہم اللہ کی عبارات سے دوقول معلوم ہوتے ہیں:
پہلا قول: شہوت صرف ہیجان (شدت اورجوش) اور رغبت الی الجماع کا نام ہے، لغت سے بھی اس معنی کی تائید ہوتی ہے، کیونکہ اشتہاء اور شہوت کا لغوی معنی کسی چیز کو چاہنا اور میلان رکھنا ہے، چنانچہ قرآن ِ کریم میں اہلِ جنت کے بارے میں وارد ہوا ہے:{ولکم فیھا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ } [فصّلت: 31] یعنی جنت میں تمہارے لیے تمام وہ چیزیں ہو گی جن کو تمہارے نفوس چاہیں گے۔
اس قول کے مطابق صرف ہیجان اور رغبت الی الجماع سے ہی حرمت ثابت ہو جائے گی، اگرچہ انتشار نہ ہو، بہت سے مشائخ رحمہم اللہ نے اسی قول کو لیا ہے، چنانچہ بدائع الصنائع، تحفة الفقہاء، فتح القدیر، درر الحکام شرح غرر الحکام اور البحر الرائق وغیرہ میں یہی قول نقل کیا گیا ہے۔درر الحکام میں المحیط اور غایة البیان کے حوالے سے اس قول کو صحیح اور تحفة الفقہاء میں اس کو اصح کہا گیا ہے۔
دوسرا قول: جماع کی رغبت کے ساتھ ساتھ عضو میں حرکت کا آنا بھی ضروری ہے، چنانچہ بدائع الصنائع اور البحرالرائق میں رغبت الی الجماع کو لازمی شرط قرار دینے کے بعد بعض حضرات کے حوالے سے انتشار کو بھی ضروری قرار دیا ہے۔
نیز بعض حضرات نے شہوت کی تفسیر انتشارِ آلہ سے کی ہے اورانہوں نے حرمتِ مصاہرت کا مدار ظاہری انتشار پر رکھا ہے، جیسا کہ المبسوط سرخسی اور ہدایہ میں مذکور ہے اور صاحب ہدایہ نے اس کو صحیح کہا ہے اور خلاصة الفتاوی میں اس پر فتوی کی تصریح کی گئی ہے۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئےعلامہ شامی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ حرمتِ مصاہرت کی اصل علت رغبت الی الجماع کا ہونا ہے، البتہ جب رغبت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے تو انتشار کی کیفیت بھی پیدا ہو جاتی ہے، اسی لیے امداد الاحکام (ج:2،صفحہ:807) میں لکھا ہے کہ:
چونکہ عادةً شہوت تحرک آلہ (انتشار ) سے منفک نہیں ہو سکتی، اس لیے کہا کہ اگرتحرک آلہ ہوا تو سمجھا جائے گا کہ شہوت ہے، ورنہ سمجھا جائے گا کہ شہوت نہیں۔
اس لیے ان حضرات نے ظاہری علامت پر مدار رکھتے ہوئے انتشار کی شرط لگا دی، کیونکہ عام طور پر انتشار کے وقت رغبت الی الجماع بھی ہوتی ہے، البتہ یہ قاعدہ کلیہ نہیں کہ جب بھی انتشار کی کیفیت ہو تو اس وقت دل میں جماع کی رغبت اور میلان کا پایا جانا بھی یقینی ہے، جیسے بچے کو بعض اوقات انتشار کی کیفیت ہوتی ہےاورکبھی آدمی کو کسی دوائی کی وجہ سے انتشار ہوجاتا ہے،مگر ان میں جماع کی رغبت نہیں ہوتی اورکبھی نر اور مادہ جانور کے ملاپ کو دیکھتے ہوئے انسان میں انتشار کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، مگر جماع کی رغبت نہیں ہوتی، اسی طرح دوسری جانب بعض اوقات دل میں صرف میلان ہوتا ہے، لیکن ہیجان اور شدت کی کیفیت نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے انتشار بھی نہیں ہوتا تو اس حالت میں بھی فقہائے کرام رحمہم اللہ نے حرمتِ مصاہرت کے ثبوت کا حکم نہیں لگایا۔
اسی طرح اگر کوئی شخص کسی عورت کو انتشار کی حالت میں چھو لے، مگر اس سے جماع کی رغبت نہ ہو، بلکہ کسی اور عورت پر شہوت ہو تو بھی حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہو گی، جیسے شہوت بیوی پر تھی، مگر غلطی سے ہاتھ بیٹی کو لگ گیا توحرمتِ مصاہرت ثابت نہ ہو گی، کذا فی احسن الفتاوی (84/5) اسی لیے امداد الاحکام اور دیگر اردو فتاوی میں ہمارے اکابر نے حرمتِ مصاہرت کے ثبوت کے لیے یہ بات بطورِ شرط ذکر کی ہے کہ جس عورت کو چھوا گیا ہے اسی عورت پرچھونے کی حالت میں شہوت ہو، ورنہ حرمت ثابت نہیں ہو گی، اسی کو شامیہ میں "وقوع الشھوة علیھا لا علی غیرھا "سے تعبیر کیا گیا ہے، اس لیے حرمت مصاہرت کےلیے ملموسہ عورت کی طرف رغبتِ جماع کا ہونا شرط ہے۔گزشتہ بحث کا حاصل درج ذیل نکات کی صورت میں ظاہر ہوا:
1: انتشار کے ساتھ رغبت جماع ہو، مگرعورتِ ملموسہ كی طرف نہ ہو، پھر خواہ کوئی دوسری عورت متعین ہو یا غیرمتعین۔ تو اس عورت سےحرمت ثابت نہیں ہوگی۔ کذا فی امداد الاحکام (ج:2،صفحہ:804)
2: انتشار کے ساتھ رغبت جماع ہو اور وہ ملموسہ عورت ہو تواس سےحرمت ثابت ہو گی۔
3: خفیف سا قلبی میلان ہو کہ جس سے انتشار نہ ہو یا پہلے سے انتشار ہو، مگر چھونے کی حالت میں اضافہ نہ ہو تو حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔
4: ہیجان اور شدت کی رغبت الی الجماع ہو، مگر بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے انتشار نہ ہوتوحرمت ثابت ہو گی، جیسے عنین اور شیخ فانی وغیرہ میں۔
5: مردکسی عورت کو چھونے کی حالت میں انتشار کا اقرار کرے، مگر قلبی طور پر مطلقاًجماع کی رغبت کا انکار کرے یعنی یہ کہے کہ مجھے کسی عورت کی طرف بھی رغبتِ جماع نہیں تھی تو اس میں تفصیل ہے وہ یہ کہ انتشار اور تحرکِ آلہ درحقیقت رغبت فی الجماع کی علامت ہے، جیسا کہ فتاوی قاضی خان اور شامیہ میں تصریح کی گئی ہے اور فروجِ نساء میں احتیاط پر عمل کرنا ضروری ہے۔اس لیے عام حالات میں اس کا یہ دعوی قبول نہیں کیا جائے گا، جیسا کہ فقہائے کرام رحمہم اللہ کی تصریح کے مطابق اگر کوئی شخص عورت کے رخسار کا بوسہ لے یا اس سے معانقہ کرے اور پھر عدمِ شہوت کا دعوی کرے تو اس کے اس دعوی کو قبول نہیں کیا جائےگا، بلکہ ایسی صورت میں حرمتِ مصاہرت کے ثبوت کا حکم لگایا جائےگا، کیونکہ عورت "المرأة كالقاضي" (جیسے قاضی اور جج مدعی اور مدعی علیہ کی ظاہری صورتِ حال پر عمل کرنے کا پابند ہے، اسی طرح عورت بھی مرد کی ظاہری صورتِ حال پر عمل کرنے کی پابند ہے)کے اصول پر عمل کرتے ہوئےمردکے باطن پر مطلع نہ ہونے کی وجہ سے شرعاً ظاہر پر ہی عمل کرےگی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد کا دعوی خلافِ ظاہر ہے، جس کا تعلق اس کے دل کے ساتھ ہے اور باطنی امور میں شریعت نے ظاہر کو حکم کا مدار قرار دیا ہے، جس کی کئی مثالیں شریعت میں موجود ہیں، جیسے نسب وغیرہ۔ لہذا اگر عورت کے علم میں ہو کہ اس نے مجھے انتشار کی حالت میں چھوا ہے تو اس کے حق میں ظاہر پر عمل کرتے ہوئے حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی۔
البتہ اگر عورت کو علم ہو مگر رغبتِ جماع نہ ہونے پر مرد ایسے قرائن پیش کرے کہ جس سے اس کے دعوی کی تائید ہوتی ہو اور وہ اس پر حلفیہ بیان دے، جیسے صبح اٹھتے ہی اس کو انتشار کی کیفیت تھی، مگرکسی وجہ سے اس کو رغبتِ جماع نہیں تھی اور بستر سے اٹھتے وقت کسی محرم عورت کوبلا قصد ہاتھ لگ گیا تو اس صورت میں اگر عورت کو مرد کے حلفیہ بیان پر اعتماد ہو تو بھی حرمتِ مصاہرت کے عدمِ ثبوت کا حکم لگایا جا سکتا ہے، کیونکہ اس صورت میں مرد کا دعوی خلافِ ظاہر نہیں ہے۔ اسی طرح اگر عورت کو علم نہ ہو اور مرد کو یقین ہو کہ انتشار کے باوجود اس کو ملموسہ (جس کو چھوا گیا) عورت پر شہوت نہیں تھی اور وہ اس پر حلفیہ بیان دے سکتا ہو تو اس صورت میں حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہو گی اور اس کے لیے ایسی عورت کی بیٹی وغیرہ سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہو گا۔
اس تمہید کے بعد سوال کا جواب یہ ہے کہ صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور نے یہ لکھاہے کہ"اگر کوئی آدمی کسی عورت کو غلط نیت سے یعنی شہوت سے، بغیر کسی کپڑے کے ہاتھ لگاتا ہے اور اسے انتشار ہو جاتا ہے" اس کے بعد لکھا کہ اس کو رغبتِ جماع نہیں تو سائل کی ان دونوں باتوں میں تعارض ہے، کیونکہ کسی عورت کو غلط نیت یعنی شہوت سے چھونا اور پھر انتشار کا ہو جانا اس کی طرف رغبتِ جماع کی واضح علامت ہے، باقی اگر وہ کسی امرِ خارجی جیسے بدنامی وغیرہ کی وجہ سے اس سے جماع پرجرات نہ کر سکتاہو تو وہ علیحدہ بات ہے، اس سے حکم پر اثر نہیں پڑے گا، لہذا مذکورہ عورت کوشہوت کے ساتھ چھونےاور انتشارہو جانے کے باوجود رغبتِ جماع نہ ہونے سے متعلق سائل کا یہ دعوی خلافِ ظاہر ہے، جو شرعاً معتبر نہیں، اس لیے مذکورہ صورت میں ملموسہ عورت سے حرمت مصاہرت اور اس سے متعلقہ تمام احکام ثابت ہو جائیں گے۔
حوالہ جات
- تحفة الفقهاء (2/ 123) دار الكتب العلمية، بيروت:
المس عن شهوة أن يشتهي بقلبه وهو أمر لا يقف عليه إلا اللامس والناظر فيعرف بإقراره أما تحريك الآلة والانتشار فليس بشرط وهذا هو الأصح فإن اللمس عن شهوة يتحقق من العنين ولا ينتشر وكذا المجبوب لا آلة له ويتحقق منه المس والنظر عن شهوةونعني بالنظر إلى الفرج النظر إلى عين الفرج لا إلى حواليه وهو الأصح.
1)درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 330) الناشر: دار إحياء الكتب العربية:
وحد الشهوة مختلف فيه صحح في المحيط والتحفة وغاية البيان أن يشتهي بقلبه إن لم يكن مشتهيا أو يزداد اشتهاء ولا يشترط تحرك الآلة وصحح في الهداية أنه لا بد من الانتشار أو ازدياده إن كان منتشرا والمذهب ما في الهداية.
2)البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 108) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:
ولم يذكر المصنف حد الشهوة للاختلاف، فقيل: لا بد أن تنتشر آلته إذا لم تكن منتشرة أو تزداد انتشارا إن كانت منتشرة، وقيل: حدها أن يشتهي بقلبه إن لم يكن مشتهيا أو يزداد إن كان مشتهيا ولا يشترط تحرك الآلة وصححه في المحيط والتحفة وفي غاية البيان وعليه الاعتماد وصحح الأول في الهداية، وفائدة الاختلاف كما في الذخيرة تظهر في الشيخ الكبير والعنين والذي ماتت شهوته فعلى القول الأول لا تثبت الحرمة وعلى الثاني تثبت فقد اختلف التصحيح لكن في الخلاصة وبه يفتى أي بما في الهداية فكان هو المذهب لكن ظاهر ما في التجنيس وفتح القدير أن ميل القلب كاف في الشيخ والعنين اتفاقا وأن محل الاختلاف فيمن يتأتى منه الانتشار إذا مال بقلبه ولم تنتشر آلته وهو أحسن مما في الذخيرة كما لا يخفى.
3)بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 260) الناشر: دار الكتب العلمية:
وتفسير الشهوة هي أن يشتهي بقلبه ويعرف ذلك بإقراره؛ لأنه باطن لا وقوف عليه لغيره، وتحرك الآلة وانتشارها هل هو شرط تحقيق الشهوة؟ اختلف المشايخ فيه قال بعضهم: شرط.
وقال بعضهم: ليس بشرط هو الصحيح؛ لأن المس والنظر عن شهوة يتحقق بدون ذلك كالعنين والمجبوب ونحو ذلك.
4)الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 407) دار الفكر-بيروت:
(قوله بشهوة) لم أر تفسيرها هنا، والمذكور في المصاهرة أنه فيمن ينتشر بالانتشار أو زيادته إن كان موجودا، وفي المرأة والفاني بميل القلب. والذي تفيده عبارة مسكين في الحظر أنها ميل القلب مطلقا، ولعله الأنسب هنا. اهـ. ط.
قلت: يؤيده ما في القول المعتبر في بيان النظر لسيدي عبد الغني بيان الشهوة التي هي مناط الحرمة أن يتحرك قلب الإنسان ويميل بطبعه إلى اللذة، وربما انتشرت آلته إن كثر ذلك الميلان؛ وعدم الشهوة أن لا يتحرك قلبه إلى شيء من ذلك.
5)الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 33) الناشر: دار الفكر-بيروت:
قلت: ويشترط وقوع الشهوة عليها لا على غيرها لما في الفيض لو نظر إلى فرج بنته بلا شهوة فتمنى جارية مثلها فوقعت له الشهوة على البنت تثبت الحرمة، وإن وقعت على من
تمناها فلا. (قوله: وحدها فيهما) أي حد الشهوة في المس والنظر ح (قوله: أو زيادته) أي زيادة التحرك إن كان موجودا قبلهما (قوله: به يفتى) وقيل حدها أن يشتهي بقلبه إن لم يكن مشتهيا أو يزداد إن كان مشتهيا، ولا يشترط تحرك الآلة وصححه في المحيط والتحفة وفي غاية البيان وعليه الاعتماد والمذهب الأول بحر قال في الفتح: وفرع عليه ما لو انتشر وطلب امرأة فأولج بين فخذي بنتها خطأ لا تحرم أمها ما لم يزدد الانتشار.
6)فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 222) دار الفكر، بيروت:
وكثير من المشايخ لم يشترطوا سوى أن يميل قلبه إليها ويشتهي جماعها، وفرع عليه ما لو انتشر فطلب امرأته فأولج بين فخذي بنتها خطأ لا تحرم عليه الأم ما لم يزدد الانتشار. ثم هذا الحد في حق الشاب أما الشيخ والعنين فحدها تحرك قلبه أو زيادة تحركه إن كان متحركا لا مجرد ميلان النفس فإنه يوجد فيمن لا شهوة له أصلا كالشيخ الفاني.
7)العناية شرح الهداية (3/ 223) الناشر: دار الفكر، بيروت:
(أو تزداد انتشارا) إذا كانت منتشرة قبل ذلك. وقوله (هو الصحيح) احتراز عن قول كثير من المشايخ قال في الذخيرة: وكثير من المشايخ لم يشترطوا الانتشار، وجعلوا حد الشهوة أن يميل قلبه إليها ويشتهي جماعها، واختار المصنف قول شمس الأئمة السرخسي وشيخ الإسلام. قال في النهاية: هذا إذا كان شابا قادرا على الجماع، فإن كان شيخا أو عنينا فحد الشهوة أن يتحرك قلبه بالاشتهاء إن لم يكن متحركا قبل ذلك أو يزداد الاشتهاء إن كان متحركا وهذا إفراط. وكان الفقيه محمد بن مقاتل الرازي لا يعتبر تحرك القلب وإنما يعتبر تحرك الآلة، وكان لا يفتي بثبوت الحرمة في الشيخ الكبير والعنين الذي ماتت شهوته حتى لم يتحرك عضوه بالملامسة وهو أقرب إلى الفقه.
8)المبسوط للسرخسي (4/ 208) الناشر: دار المعرفة – بيروت:
معنى الشهوة المعتبرة في المس والنظر أن تنتشر به الآلة أو يزداد انتشارها، فأما مجرد الاشتهاء بالقلب غير معتبر.
9)البناية شرح الهداية (5/ 38) دار الكتب العلمية – بيروت:
: (ثم إن المس بشهوة أن تنتشر الآلة) ش: هذا تعريف المس بشهوة وهو أن تنتشر الآلة يعني إذا لم تكن منتشرة قبل النظر والمس م: (أو تزداد انتشارا) ش: إذا كانت منتشرة قبل ذلك.
: (هو الصحيح) ش: احترز به عن قول كثير من المشايخ بحيث لم يشترطوا انتشارا، وجعلوا حد الشهوة أن يميل قلبه إليها ويشتهي جماعها، واختار المصنف قول شمس الأئمة السرخسي. وقول شيخ الإسلام في " المحيط ": والأصح قول كثير من المشايخ
المذكور، وإن كان شيخا أو عنينا فحد الشهوة فيه أن يتحرك قلبه بالاشتهاء إن لم يكن متحركا ولا يعتبر مجرد الاشتهاء، وهكذا ذكره السرخسي _ - رحمه الله تعالى - _ وحكي عن محمد بن إبراهيم الميداني أنه كان يميل إلى هذا.
10)الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 193) الناشر: المطبعة الخيرية:
وحد الشهوة أن تنتشر آلته أو تزداد انتشارا وقيل أن يشتهي بقلبه ولا يشترط الانتشار وإن نظر إلى فرجها بغير شهوة لم يكن إجازة وإن قبلته الأمة بشهوة أو لمسته بشهوة أو نظرت إلى فرجه بشهوة وأقر أنها فعلت ذلك بشهوة فهو رضا.
11)خلاصة الفتاوى(8/2): مكتبة رشيدية، سركي روڈ كوئٹة:
هل يشترط انتشارالالة؟ذكر الشيخ الإمام السرخسي في نسخته أنه شرط وهكذا ذكر الإمام خواهر زاده فإن كان منتشرا أن يزداد الانتشار، و به يفتى فى باب النون، قال فى المحط إن كان شيخا أو غينا فحد الشهوة أن يتحرك قلبه بالاشتهاء إن لم يتحرك وإن تحرك زاد الاشتهاء وإن كان شابا أن ينتشر الته وإن لم يزداد إن كان متحركا، حكاه العمى عن أصحابنا وإليه مال الإمام خواهر زاده و الإمام السرختى وكثير من أصحابنا وهم يشترطون الانتشار وجعلوا الحدأن يشتهي جماعها وهذا إذا كان المحل مشتهاة .
-
فتاوى قاضيخان (1/ 177) لفخر الدين حسن بن منصور الأوزجندي الفرغاني الحنفي المتوفى سنة 592:
وفي المس ما لم يعلم أنه كان عن الشهوة لا تثبت الحرمة لان تقبيل النساء غالباً يكون عن شهوة والمعانقة بمنزلة التقبيل كذا ذكره الجامع الكبير ودليل الشهوة على قول أبي الحسن القمي رحمه الله تعالى انتشار الآلة عند ذلك إن لم يكن منتشراً قبل ذلك وإن كان منتشراً قبل ذلك فعلامة الشهوة زيادة الانتشار والشدة.
-
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 37) دار الفكر-بيروت:
(وإن ادعت الشهوة) في تقبيله أو تقبيلها ابنه (وأنكرها الرجل فهو مصدق) لا هي (إلا أن يقوم إليها منتشرا) آلته (فيعانقها) لقرينة كذبه أو يأخذ ثديها (أو يركب معها) أو يمسها على الفرج أو يقبلها على الفم قاله الحدادي وفي الفتح يتراءى (وتقبل الشهادة على الإقرار باللمس والتقبيل عن شهوة وكذا) تقبل (على نفس اللمس والتقبيل) والنظر إلى ذكره أو فرجها (عن شهوة في المختار) تجنيس لأن الشهوة مما يوقف عليها في الجملة بانتشار أو آثار.
قال ابن عابدين: وقدمنا عن الذخيرة أن الأصل فيه عدم الشهوة مثل النظر، فيصدق إذا أنكر
الشهوة إلا أن يقوم إليها منتشرا أي لأن الانتشار دليل الشهوة، وكذا إذا كان المس على الفرج
كما مر عن الحدادي؛ لأنه دليل الشهوة غالبا، وما ذكره في الفتح بحثا من إلحاق تقبيل الخد بالفم.
-
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (9/ 6630) الناشر: دار الفكر - سوريَّة – دمشق:
ألحقوا مع الحنابلة الزنا، ومثله عند الحنفية مقدمات الزنا من تقبيل ومس بشهوة، فقالوا: تثبت حرمة المصاهرة بالزنا والمس والنظر بدون النكاح والملك وشبهته؛ لأن المس والنظر سبب داع إلى الوطء فيقام مقامه احتياطا، وألحق الحنابلة اللواط بالزنا، فقالوا: الحرام المحض وهو الزنا يثبت به التحريم، ولا فرق بين الزنا في القبل والدبر؛ لأنه يتعلق به التحريم فيما إذا وجد في الزوجة والأمة. وإن تلوط بغلام يتعلق به التحريم أيضا، فيحرم على اللائط أم الغلام وابنته، وعلى الغلام أم اللائط وابنته؛ لأنه وطء في الفرج، فنشر الحرمة كوطء المرأة، ولأنها بنت من وطئه وأمه، فحرمتا عليه، كما لو كانت الموطوءة أنثى.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
15/جمادی الاخری1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


